كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [187] بَابُ الجهاد في سبيل الله وأن يدعو من لم تبلغه الدعوة · حديث 856
856 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن علقمة بن مرثد, عن ابن بريدة, عن أبيه رضي الله عنه, عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: كان إذا بعث جيشا قال: اغزوا باسم الله, وفي سبيل الله, فقاتلوا من كفر بالله, لا تغلوا, ولا تغدروا, ولا تمثلوا, ولا تقتلوا وليدا, وإذا حاصرتم حصنا أو مدينة فادعوهم إلى الإسلام, فإن أسلموا, فأخبروهم أنهم من المسلمين لهم ما لهم وعليهم ما عليهم, وادعوهم إلى التحول إلى دار الإسلام, فإن أبوا, فأخبروهم أنهم كأعراب المسلمين, وإن أبوا فادعوهم إلى إعطاء الجزية, فإن فعلوا فأخبروهم أنهم ذمة, وإن أبوا أن يعطوا الجزية, فانبذوا إليهم ثم قاتلوهم, وإن أرادوكم أن تنزلوهم على حكم الله, فلا تنزلوهم؛ فإنكم لا تدرون ما حكم الله فيهم, ولكن أنزلوهم على حكمكم ثم احكموا فيهم, وإذا أرادوا منكم أن تعطوهم ذمة الله فلا تعطوهم, ولكن أعطوهم ذممكم وذمم آبائكم, فإنكم أن تخفروا ذممكم خير من أن تخفروا ذمة الله عز وجل. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.
امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت علقمہ بن مرثد سے وہ حضرت ابن بریدہ رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت بریدہ ( رضی اللہ عنہم ) سے روایت کرتے ہیں اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ آپ جب بھی کوئی لشکر بھیجتے تو فرماتے اللہ کے نام سے اور اس کے راستے میں جہاد کرو اور اس سے لڑو جو اللہ تعالی ٰکا منکر ہے نہ حد سے بڑھو نہ دھوکہ دو نہ کسی کی شکل بگاڑو اور نہ ہی کسی بچے کوقتل کرو اور جب تم کسی قلع یا شہر کا معائنہ کر تو ان لوگوں کو اسلام کی دعوت دو اگر وہ اسلام قبول کریں تو ان کو بتاؤ کہ وہ مسلمانوں میں سے ہیں ان کے لئے وہی (حقوق) ہیں جو ( دوسرے ) مسلمانوں کے لئے ہیں اور ان پر وہی ذمہ داریاں ہیں جو دوسرے مسلمانوں پر ہیں۔“ پھر ان کو دارالاسلام میں آنے کی دعوت دو اگر وہ انکار کریں تو ان کو بتاؤ کہ وہ دیہاتی مسلمانوں کی طرح ہیں ( جنہوں نے دیہات سے نکالنا پسند نہ کیا ) اگر وہ اسلام ( قبول کرنے ) سے انکار کریں تو ان سے جز یہ دینے کا مطالبہ کرو اگر وہ جز یہ دیں تو ان کو بتاؤں کہ وہ ذمی ہیں اور اگر وہ جز یہ دینے سے انکار کر دیں تو ان کو اسی طرح چھوڑ کر ان سے لڑو اور اگر وہ چاہیں کہ تم ان کو اللہ تعالی ٰکے حکم پرا تارو تو یہ بات قبول نہ کرو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ ان کے بارے میں اللہ تعالی ٰکا کیا حکم ہے ۔“ بلکہ ان کو اپنے فیصلہ پرا تارو پھر ان کے بارے میں فیصلہ کر و اوراگر وہ ارادہ کریں کہ تم ان کو اللہ تعالی ٰکا ذمہ دو تو ان کو یہ ذمہ نہ دو بلکہ ان کو اپنا اور اپنے آباؤ اجداد کا ذمہ دو کیونکہ تمہارا اپنے ذمے کو توڑنا اللہ تعالی ٰکے ذمہ کو توڑنے سے بہتر ہے۔“ ۔ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“
كان إذا بعث جيشا ← أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ
Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 856
