560 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, عن شريح قال: في الجائفة ثلث الدية, وفي الآمة ثلث الدية, فإذا ذهب العقل فالدية كاملة, وفي المنقلة عشر ونصف عشر الدية, وفي الموضحة نصف عشر الدية, وفي سائر ذلك من الجراحات حكم عدل, ولا تكون الموضحة إلا في الوجه والرأس, ولا تكون الجائفة إلا في الجوف.
#493#
قال محمد: وبهذا كله نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى. والآمة من الشجاج: كل شجة بلغت الدماغ. والمنقلة: ما نقل منها العظام. والموضحة: ما أوضحت عن العظم. والهاشمة: ما هشمت العظم, وحكومتها عشر الدية, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.
والسمحاق دون الموضحة بينها وبين الموضحة جلدة رقيقة, وفيها حكم عدل.
بلغنا أن علي بن أبي طالب رضي الله عنه حكم فيها أربعا من الإبل. والباضعة دون السمحاق وهي الني تبضع اللحم, وفيها حكم عدل. والدامية دون الباضعة, وهي التي تشق الجلد وفيها حكم عدل دون الباضعة, والمتلاحمة وهي الشجة يسود موضعها, أو يحمر ولا تدمى ولا تبضع ففيها حكم عدل ونرى كل شيء كان من ذلك دون الموضحة لا تعقله العاقلة, وهو في مال الرجل وإن كان خطأ.
حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ اور وہ حضرت شریح رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں وہ زخم جو پیٹ وغیرہ کے اندر تک پہنچے اس میں دیت کا تہائی ہے جو زخم سر کے اندر دماغ تک پہنچے اس میں دیت کا تہائی ہے اور اگر عقل چلی جائے تو کامل دیت ہے جو زخم ہڈی کو پھیر دے دسواں حصہ اور بیسواں حصہ دیت ہے ( پندرہ اونٹ ) جو زخم ہڈی کو ظاہر کر دے اس میں بیسواں حصہ دیت ہے اور ان کے علاوہ تمام زخموں میں عدل پرمبنی فیصلہ ہوگا اور موضحہ ( ظاہر کر نے والا ) زخم صرف چہرے سر میں ہوتا ہے اور جائفہ اندر تک پہنچنے والاصرف پیٹ میں ہوتا ہے۔‘‘حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم ان سب باتوں کو اختیا کرتے ہیں اورحضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“ الأمة وہ زخم ہے جو دماغ تک پہنچے اور منقلہ وہ زخم جو ہڈی کو اپنی جگہ سے ہٹادے لو ضحہ وہ زخم ہے جو ہڈی کو ظاہر کر دے الہاشمہ وہ زخم جو ہڈی کوتوڑ دے اور ان کا فیصلہ دیت کا دسواں حصہ ہے۔حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“السمحاق (جوبار یک چمڑے تک پہنچائے) موضحہ سے کم ہوتا ہے اس کے اور موضحہ کے درمیان باریک چمڑا ہوتا ہے اور اس میں عدل کے ساتھ فیصلہ ہے۔“ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اس میں چا راونٹوں کا فیصلہ فرمایا اوراليا ضعه سمحاق سے کم درجے میں ہے اور یہ گوشت کو کاٹ دیتا ہے اس میں عدل پرمبنی فیصلہ ہوگا اور دامیہ باضعہ سے کم درجے میں ہے اور یہ چمڑے کو کاٹ دیتا ہے اس میں بھی حکومت عدل ہے اور متلاحمہ یعنی وہ زخم جو اس جگہ کوسیاہ یا سرخ کر دے لیکن نہ تو خون نکلے اور نہ گوشت کٹے تو اس میں حکومت عدل ہے ۔اور ہم دیکھتے ہیں کہ ان میں سے جوموضحہ زخم سے کم درجے میں ہو اس میں عاقلہ (میت کی برادری ) د یت نہیں دے گی یہ اس شخص (زخم لگانے والے ) کے مال سے دی جائے گی اگر چہ خطا سے ہو۔‘‘
شُرَيْحٍ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ