Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [86] بَابُ دية الخطاء وما تعقل العاقلة · حديث 568

568 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في دية الخطاء, وشبه العمد في النفس على العاقلة: على أهل الورق في ثلاثة أعوام, لكل عام الثلث, وما كان من جراحات الخطاء فعلى العاقلة على أهل الديوان, إن بلغت الجراحة ثلثي الدية ففي عامين, وإن كان النصف ففي عامين, وإن كان الثلث ففي عام, وذلك كله على أهل الديوان. #498# قال محمد: وبه نأخذ, وذلك في أعطية المقاتلة دون أعطية الذرية والنساء, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ قتل خطا ء اور شبہ عمد میں جب جان چلی جائے تو عاقلہ پر دیت ہوگی جن کے پاس چاندی ہے وہ تین سال میں ادا کریں ہر سال تہائی حصہ دیں اور اگر خطاء کی صورت میں زخم ہوتو بھی عاقلہ پر ہے یعنی اہل دیوان پر ہے ۔‘‘ اگر زخم دوتہائی دیت کو پہنچ جائے تو دوسالوں میں دیں اور اگر نصف تک ہوتو بھی دوسالوں میں اوراگر تہائی تک ہوتو ایک سال میں ادا کر یں اور یہ سب اہل دیوان پر ہے ۔‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں اور یہ لڑ نے والوں کے حصوں سے ہو ۔ بچوں اور عورتوں کے عطیات سے نہیں ‘حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 568

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [86] بَابُ دية الخطاء وما تعقل العاقلة · حديث 569

569 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: لا تعقل العاقلة في أدنى من الموضحة. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ للہ نے خبر دی وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں موضح زخم سے کم میں عاقلہ دیت ادانہیں کریں گے۔“حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اورحضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← لا تعقل العاقلة في أدنى من الموضحة. ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 569

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [86] بَابُ دية الخطاء وما تعقل العاقلة · حديث 570

570 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: لا تعقل #499# العاقلة عمدا, ولا صلحا, ولا اعترافا.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب قصد اًقتل کی صورت میں دیت لازم ہو ۔یا صلح یا قاتل کے اعتراف کی وجہ سے دیت لازم ہوتو وہ عاقلہ ادانہیں کرے گی ۔

لا تعقل العاقلة عمدا, ولا صلحا, ولا اعترافا. ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 570

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [86] بَابُ دية الخطاء وما تعقل العاقلة · حديث 571

571 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: ما كان من صلح, أو اعتراف, أو عمد فهو في مال الرجل. #500# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جودیت صلح یا اعتراف یا قصدا ً آ لہ قتل کی وجہ سے لازم ہو وہ اس شخص کے مال سے دی جائے گی۔‘‘ (عاقلہ کے ذمہ ہوگی)حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔‘‘

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← ما كان من صلح, أو اعتراف, أو عمد فهو في مال الرجل. ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 571

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [86] بَابُ دية الخطاء وما تعقل العاقلة · حديث 572

572 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: إذا شهدوا أنه ضربه وهو صحيح فلم يزل صاحب فراش حتى مات جازت شهادتهم, ولم يكلفوا غير ذلك. وقال إبراهيم في رجل يضرب فيموت, فيشهد الشهود أنه لم يزل صاحب فراش حتى مات قال: أقيده منه, وآخذ له من العاقلة الدية إن كان خطاء. قال محمد: وبهذا كله نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب گواہ گواہی دیں کہ اسے فلاں نے مارا ہے اور وہ (مضروب ) مسلسل بستر پر رہے حتی ٰکہ مرجائے تو ان کی شہادت جائز ہوگی اور ان کومزید کسی بات کا مکلف نہیں بنایا جائے گا۔‘‘ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جس کو مارا جائے پس وہ مر جائے اور گواہ گواہی دیں کہ وہ مرتے دم تک بستر پر رہا ہے تو وہ فرماتے ہیں میں اس کی طرف سے فدیہ دیتا ہوں (فدیہ کاحکم مراد ہے ) اور اگر خطاء کے طور پر ہوتو اس کے لئے عاقلہ پر دیت کا حکم دیتا ہوں۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اورحضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

إذا شهدوا ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 572

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [86] بَابُ دية الخطاء وما تعقل العاقلة · حديث 573

573 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: تعقل العاقلة الخطأ كله إلا ما كان دون الموضحة والسن مما ليس فيه أرش معلوم. قال محمد: وبهذا كله نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں عاقلہ قتل خطاء کی تمام صورتوں میں دیت دے البتہ موضحہ زخم کی صورت مستثنیٰ ہے اور دانت کے بارے میں چٹی معلوم نہیں ۔‘‘حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم ان تمام باتوں کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 573

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [86] بَابُ دية الخطاء وما تعقل العاقلة · حديث 574

574 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, حدثنا حماد, عن إبراهيم, عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: العجماء جبار, والقليب جبار, والرجل جبار, والمعدن جبار, وفي الركاز الخمس. #503# قال محمد: وبهذا نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى, والجبار الهدر, إذا سار الرجل على الدابة فنفحت برجلها وهي تسير فقتلت رجلا, أو جرحته فذلك هدر, ولا يجب على عاقلة ولا غيرها, والعجماء: الدابة المنفلتة ليس لها سائق, ولا راكب توطأ رجلا فتقتله, فذلك هدر, والمعدن والقليب: الرجل يستأجر الرجل يحفر له بئرا, أو معدنا فيسقط عنه, فيموت فذلك هدر, ولا شيء على المستأجر, ولا على عاقلته.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا جانور کے ہلاک کرنے سے خون معاف ہے کنویں میں گر کر مرنے سے خون معاف ہے جانور تیز دوڑ رہا ہو اور کسی شخص کو ہلاک کر دے تو اس کا خون معاف ہے کان میں گر کر مر جائے تو خون معاف ہے اور خزانے میں پانچواں حصہ ہے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں اورحضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“ (تفصیل اس طرح ہے )الجبار کا معنی ہے الھدی ٰہے یعنی اس کی کوئی چٹی نہیں جب کوئی شخص سوار جارہا ہو وہ اسے پاؤں سے ایڑ لگائے اور جانور کسی شخص کو ہلاک کر دے یا زخمی کر دے تو یہ خون معاف ہے عاقلہ یاکسی دوسرے پر دیت واجب نہیں ہوگی العجما وہ جانور جو بھاگ گیا اب نہ تو اسے کوئی لے جانے والا ہے اور نہ ہی اس پر کوئی سوار ہے اگر وہ کسی کو پاؤں کے نیچے روند ڈالے تو اس کا خون معاف ہے معد ن سے مراد کنواں وغیرہ ہے کوئی شخص کسی دوسرے کو کنواں یا کان کھود نے کے لئے اجرت پر حاصل کرتا ہے پس وہ اس میں گر کر مر جائے تویہ خون معاف ہے اور آجر یا اس کی عاقلہ پر کوئی چٹی نہیں ہوگی ۔“

العجماء جبار, والقليب جبار, والرجل جبار, والمعدن جبار, وفي الركاز الخمس. ← النَّبِيِّ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 574

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter