كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [29] بَابُ إِقَامَةِ الصُّفُوفِ وَفَضْلِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ · حديث 89
89 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ «سَوُّوا صُفُوفَكُمْ، وَسَوُّوا مَنَاكِبَكُمْ، تَرَاصُّوا أَوْ لَيَتَخَلَّلَنَّكُمُ كَأَوْلَادِ الْحَذَفِ، إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى مُقِيمِي الصُّفُوفِ» #116# قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، لَا يَنْبَغِي أَنْ يُتْرَكَ الصَّفُّ، وَفِيهِ الْخَلَلُ حَتَّى يُسَوّى. وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله تعالى
حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ اپنی صفوں کو برابر رکھو اور اپنے کندھوں کو سیدھا ( ملا کر ) رکھو مل کر کھڑے ہو ورنہ تمہارے درمیان شیطان اس طرح گھس آئے گا جس طرح سیا ہ بکری کا بچہ ہوتا ہے بے شک اللہ تعالی ٰاور اس کے فرشتے صفوں کو سیدھا رکھنے والوں پر رحمت بھیجتے ہیں ۔ (یعنی اللہ رحمت بھیجتا ہے اور فرشتے اس کی رحمت کی دعا مانگتے ہیں )۔ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں یہ بات مناسب نہیں کہ صف میں خالی جگہ چھوڑی جائے حتی کہ برابر کھڑا ہو جائیں ‘ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“
إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ كَانَ ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ
Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 89
