كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [45] بَابُ من طلق ثم تزوجت امرأته ثم رجعت اليه · حديث 464
464 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن سعيد بن جبير قال: كنت جالسا عند عبد الله بن عتبة بن مسعود, إذ جاءه رجل أعرابي يسأله عن رجل طلق امرأته تطليقة أو تطليقتين, ثم انقضت عدتها, فتزوجت زوجا غيره, فدخل بها, ثم مات عنها, أو طلقها, ثم انقضت عدتها, وأراد الأول أن يتزوجها, على كم هي عنده؟ قال: فقال لي: أجبه ثم قال: ما يقول ابن عباس فيها؟ قال: فقلت له: يهدم الواحدة, والثنتين, والثلاث. قال: سمعت من ابن عمر فيها شيئا؟ قال: فقلت: لا. قال: إذا لقيته فاسأله, قال: فلقيت ابن عمر رضي الله عنهما, فسألته عنها فقال فيها مثل قول ابن عباس رضي الله عنهما. #430# قال محمد: وبهذا كان يأخذ أبو حنيفة رحمه الله تعالى, وأما في قولنا, فهي على ما بقي من طلاقها إذا بقي منه شيء, وهو قول عمر, وعلي بن أبي طالب, #431# ومعاذ بن جبل, وأبي بن كعب, وعمران بن حصين, وأبي هريرة رضي الله عنهم.
حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں حضرت عبداللہ بن عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک دیہاتی شخص آیا تاکہ وہ اس آدمی کے بارے میں حکم پوچھے جس نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دیں پھر اس کی عدت ختم ہوئی تو اس نے کسی دوسرے آدمی سے نکاح کیا اور اس نے اس سے جماع بھی کیا پھر وہ مر گیا یا اس نے طلاق دے دی پھر اس کی عدت ختم ہوگئی اور پہلے خاوند نے اس سے نکاح کا ارادہ کیا تو وہ اس کے پاس کتنی طلاقوں کے ساتھ رہے گی تو انہوں نے فرمایا اسے جواب دو پھر فرمایا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا اس بارے میں کیا کہتے ہیں راوی کہتے ہیں میں نے کہا وہ فرماتے ہیں کہ یہ نکاح ایک دو اور تین سب طلاقوں کوختم کر دیتا ہے انہوں نے پوچھا کیا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا سے اس سلسلے میں کچھ سنا ہے؟ میں نے کہا نہیں فرمایا جب ان سے ملاقات ہوتو ان سے بھی پوچھ لینا وہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا سے ملاقات کی تو ان سے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے اس سلسلے میں اسی طرح فر مایا جس طرح حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا نے فرمایا تھا۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اس بات کو اختیار کرتے ہیں لیکن ہمارے قول کے مطابق جتنی طلاقیں باقی ہیں وہ ان ہی کا مالک ہے جب کوئی طلاق باقی ہو ‘ حضرت عمر فاروق حضرت علی ابن ابی طالب ‘ حضرت معاذ بن جبل ‘ حضرت ابی بن کعب ‘ حضرت عمر ابن حصین اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہم کا بھی یہ قول ہے ۔ ‘‘
كنت جالسا عند عبد الله بن عتبة بن مسعود ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ
Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 464
