كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [152] بَابُ السوم على سوم أخيه · حديث 747
747 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, عن أبي سعيد الخدري, وأبي هريرة رضي الله عنهما, عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لا يستام الرجل على سوم أخيه, ولا يخطب على خطبته, ولا تناجشوا, ولا تبايعوا بإلقاء الحجر, ومن استأجر أجيرا فليعلمه أجره, ولا تزوج المرأة على عمتها ولا على خالتها, ولا تسأل طلاق أختها لتكفأ ما في صحيفتها, فإن الله هو رازقها. #634# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى. وأما قوله: ولا تناجشوا فالرجل يبيع الشيء, فيزيد الرجل الآخر في الثمن وهو لا يريد أن يشتري؛ ليسمع بذلك غيره ويشتري على سومه, فهذا هو النجش, فلا ينبغي. وأما في قوله: لا تبايعوا بإلقاء الحجر فهذا كان بيعا في الجاهلية, يقول أحدهم: إذا ألقيت الحجر فقد وجب البيع فهذا مكروه فلا ينبغي, والبيع فيه فاسد.
امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمیں ! حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور و ہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فر مایا کوئی شخص اپنے بھائی کے بھاؤ پر بھاؤ نہ لگائے اور نہ اس کے پیغام نکاح پر نکاح کا پیغام دے نہ خریدنے کے بغیر بولی دواور نہ پتھر پھینک کر بیع کرو اور جوشخص کسی کو مزدوری پر حاصل کرے اسے اس کی مزدوری ( اجرت ) بتا دے کسی عورت سے اس کی پھوپھی کی موجودگی میں نکاح نہ کیا جائے اور نہ اس کی خالہ کی موجودگی میں نکاح کیا جائے کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اس کے پیالےکوخالی کرے بے شک اللہ عز وجل اس کا رزاق ہے ۔‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“آپ کا ارشادگرامی! ولا تناجشوا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص کوئی چیز بیچتا ہے اور دوسرا آدمی قیمت میں اضافہ کرتا ہے حالانکہ وہ خریدنا نہیں چاہتا ‘تاکہ وہ دوسروں کو سنائے اور وہ اس کے لگائے ہوئے بھاؤ پر خریدے اس کو بخش کہا جا تا ہے یہ کام مناسب نہیں اور لا تبايعو ا بالقاء الجهر تو یہ دور جاہلیت میں بیع کی ایک قسم تھی ان میں سے ایک کہتا جب میں پتھر پھینک دوں گا تو بیع واجب ہو جائے گی تو یہ مکروہ ہے لہذا یہ مناسب نہیں اور اس میں بیع فاسد ہو جائے گی ۔“
أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ
Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 747
