كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [42] بَابُ مَنْ صَلَّى فِي بَيْتِهِ بِغَيْرِ أَذَانٍ · حديث 132
132 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَمَّ أَصْحَابَهُ فِي بَيْتِهِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، وَقَالَ: إِقَامَةُ الْإِمَامِ تُجْزِئُ " قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ إِذَا صَلَّى الرَّجُلُ وَحْدَهُ فَإِذَا صَلَّوْا فِي جَمَاعَةٍ فَأَحَبُّ إِلَيْنَا أَنْ يُؤَذِّنَ وَيُقِيمَ، فَإِنْ أَقَامَ، وَتَرَكَ الْآذَانَ فَلَا بَأْسَ
حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے گھر میں اذان اورا قامت کے بغیر نماز پڑھائی اور فرمایا امام کی اقامت ( محلے کے امام کی اقامت) کفایت کرتی ہے۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں جب آدمی تنہا نماز پڑھے لیکن سب جماعت کے ساتھ پڑھیں تو ہمارے نزدیک اذان اور اقامت کہنا زیادہ پسندیدہ ہے اور اگر اقامت کہے اور اذان چھوڑ دے تو بھی کوئی حرج نہیں ۔ ‘‘
إِقَامَةُ الْإِمَامِ تُجْزِئُ ← ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ أَمَّ أَصْحَابَهُ فِي بَيْتِهِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ
Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 132
