كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [87] باب زكاة الحلي · حديث 298
298 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا حماد, عن إبراهيم, عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه, أن امرأة قالت له: إن لي حليا, فهل علي فيه زكاة؟ فقال لها: نعم, فقالت: إن لي ابني أخ يتامى في حجري, أفيجزئ عني أن أجعل ذلك فيهما؟ قال: نعم. #305# قال محمد: وبهذا نأخذ, ولا بأس بأن يعطى من الزكاة كل ذي رحم إلا ولدا, ووالدا, وولد ولد, وجدا أو جدة, وإن كانوا في عياله, والزوجة لا تعطى من الزكاة. وقال أبو حنيفة: لا يعطى الزوج من الزكاة. وأما نحن فلا نرى بأسا بأن يعطى الزوج من الزكاة, ولا نرى في شيء من الحلي زكاة إلا في الذهب والفضة, وأما في الجوهر واللؤلؤ فلا زكاة فيه إلا أن يكون للتجارة.
حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک خاتون نے ان سے کہا میرے پاس زیورات میں کیا مجھ پران کی زکوۃ ہے؟ آپ نے اس (عورت) سے فرمایا! ’’ ہاں ‘‘ اس نے کہامیری پرورش میں میرے دو بھتیجے ہیں تو اگر میں ان پر خرچ کروں میرے طرف سے ادائیگی ہو جائے گی؟ فرمایا! ’’ ہاں‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں کسی بھی ذی رحم کوزکوۃ دی جاسکتی ہے لیکن اولا د ‘ والد ‘ اولاد کی اولاد ‘ دادا ‘ دادی ‘ نانا ‘ نانی کو نہیں دے سکتے ۔ اگر چہ اس کی پرورش میں ہوں اور بیوی کو زکوۃ نہیں دے سکتے ۔ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں خاوند کو بھی زکوۃ نہ دی جائے لیکن (امام محمد رحمتہ اللہ علیہ ) خاوند کوزکوۃ دینے میں حرج نہیں سمجھتے ، اور ہمارے نزدیک صرف سونے چاندی کے زیورات میں زکوۃ ہے جو اہرات اور موتیوں میں زکوۃ نہیں البتہ تجارت کے لئے ہوں ۔“
عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ
Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 298
