كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [94] بَابُ من قتل عبده, أو ذا قرابته · حديث 592
592 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا عبد الكريم, عن رجل, عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه, أن أعرابيا قال لأم ولده: انطلقي فارعي هذا البهم, فقال ابنها: إذا أذهب فأحبسها, فإني أخشى أن يطيف بها عبدان الناس, قال: إنك لههنا؟ ثم حذفه بسيف فقطع رجله, فرفع ذلك إلى عمر بن الخطاب رضي الله عنه فأمر بقتله, فقال معاذ بن جبل رضي الله عنه: إنه ليس بين الأب وبين #518# الإبن قصاص, ولكن الدية في ماله. #519# قال محمد: وبه نأخذ, من قتل ابنه عمدا لم يقتل به, ولكن الدية عليه في ماله في ثلاث سنين يؤدي في كل سنة الثلث من الدية, ولا يرث من الدية, ولا من مال ابنه شيئا ويرثه أقرب الناس من الإبن بعد الأب, ولا يحجب الأب عن الميراث أحدا, وهو في ذلك بمنزلة الميت, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.
حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت عبد الکریم رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ ایک آدمی کے واسطے سے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک اعرابی نے اپنی ام ولد (لونڈی) سے کہا جاؤ اس بکرے کے بچے کو چراؤ تو اس لونڈی کے بچے نے کہا میں بھی اس کی حفاظت کے لئے جاؤں گا کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ لوگوں کے غلام اس کے گرد چکر لگائیں گے تو اس (مولیٰ) نے کہا تو یہاں تک پہنچ گیا (کہ مجھ سے کلام کرتا ہے )پھر اس نے اسے تلوار سے مارا کہ اسے قتل کر دے چنانچہ اس نے اس کا پاؤں کاٹ دیا یہ مقدمہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے اسے قتل کر نے کا حکم دیا حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا باپ اور بیٹے کے درمیان قصاص نہیں ہوتا بلکہ اس کے مال میں دیت ہوتی ہے ۔“حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں جوشخص اپنے بیٹے کو جان بوجھ کرقتل کرے اسے قصاص میں قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کے مال میں دیت ہوگی جو تین سال میں ادا کی جائے گی ہر سال دیت کا تہائی حصہ ادا کرے اور وہ (قاتل باپ یا بیٹا) دیت کا وارث نہیں ہوگا اور نہ ہی اپنے مقتول بیٹے کے مال میں سے اسے وراثت ملے گی بلکہ اس کا وارث وہ ہوگا جو باپ کے بعد بیٹے کا سب سے زیادہ قریبی ہے اور باپ کسی کی میراث میں آ ڑنہیں بنے گا اور وہ اس سلسلے میں میت کی طرح ہوگا ۔‘‘(گو یادہ پہلے ہی مر چکا ہے )حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔‘‘
عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← رَجُلٌ: ← عَبْدِ الْکَرِيمِ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ
Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 592
