كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [158] بَابُ القرض · حديث 758
758 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في رجل أقرض رجلا ورقا, فجاءه بأفضل منها قال: الورق بالورق أكره الفضل فيها حتى يأتي بمثلها. ولسنا نأخذ بهذا, لا بأس بهذا ما لم يكن شرطا اشترطه عليه, فإذا كان شرطا اشترطه فلا خير فيه. وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.
حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اس شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں جس نے کسی شخص کو چاندی بطور قرض دی تو وہ اس سے افضل لایا حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا چاند کے بدلے چاندی میں زیادتی مکروہ ہے حتی کہ اس کی مثل لائے ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار نہیں کرتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں جب تک (اسکی ) شرط نہ رکھے اور اس نے کوئی شرط رکھی ہو تو اس میں بھلائی نہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“ ( اس سے وصف کی زیادتی مراد ہے ورنہ مقدار میں زیادتی سود ہے وصف میں فضلیت ہوتو کوئی خرج نہیں ۔۱۲ ہزاروی ) ۔
إبراهيم في رجل أقرض رجلا ورقا, فجاءه بأفضل منها ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ
Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 758
