كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [107] بَابُ حد السكران · حديث 623
623 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا عبد الكريم بن أبي المخارق يرفع الحديث إلى النبي صلى الله عليه وسلم, أنه أتي بسكران, فأمرهم أن يضربوه بنعالهم, وهو يومئذ أربعون رجلا, فضرب كل واحد بنعليه, فلما ولي أبو بكر رضي الله عنه أتي بسكران, فأمرهم فضربوه بنعالهم, فلما ولي عمر رضي الله عنه, واستخرج الناس ضرب بالسوط. #541# قال محمد: وبهذا نأخذ, نرى الحد على السكران من نبيذ كان, أو غيره ثمانين جلدة بالسوط يحبس حتى يصحو ويذهب عنه السكر, ثم يضرب الحد, ويفرق على الأعضاء ويجرد, إلا أنه لا يضرب الفرج, ولا الوجه, ولا الرأس, وضربه أشد من ضرب القاذف, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.
حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے عبد الکریم بن ابی المخارق رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوع حدیث روایت کرتے ہیں آپ کے پاس ایک نشے والا آ دمی لایا گیا تو آپ نے حکم دیا کہ اسے جوتوں سے ماریں اور اس دن وہاں چالیس افراد تھے پس ہر ایک نے اپنے دونوں جوتوں سے مارا۔“ پھر جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ خلافت پر متمکن ہوئے اور آپ کے پاس ایک نشے والا لایاگیا تو آپ کے حکم سے حاضرین نے اسے جوتوں سے مارا جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کا دور آیا اور آپ نے لوگوں کو باہر نکلنے کا حکم دیا تو اسے کوڑے مارے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فر ماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں کسی شخص کو نبیذ پینے یا کسی اور وجہ سے نشہ آئے تو اسے اسی کوڑے لگائیں جائیں اسے قید کر دیا جائے حتی ٰکہ وہ ٹھیک ہو جائے اور اس سے نشہ دور چلا جائے تو پھر حد لگائی جائے اور اس کے جسم کو ننگا کر کے متفرق جگہ پر کوڑے لگائیں جائیں البتہ شرمگاہ چہرے اور سر پر کوڑے نہ لگائیں جائیں اور اسے قذف کرنے والے (کسی پر زنا کا الزام لگانے والے ) سے سخت ضرب لگائی جائے حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“
أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ
Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 623
