كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [58] بَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ · حديث 201
201 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ #212# عَنِ الرَّجُلِ يَخْرُجُ إِلَى الْمُصَلَّى فَيَجِدُ الْإِمَامَ قَدِ انْصَرَفَ أَيُصَلِّي؟ قَالَ: «لَيْسَ عَلَيْهِ أَنْ يُصَلِّيَ، وَإِنْ شَاءَ صَلَّى» قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ يَخْرُجْ إِلَى الْمُصَلَّى أَيُصَلِّي فِي بَيْتِهِ كَمَا يُصَلِّي الْإِمَامُ؟ قَالَ: «لَا» قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، إِنَّمَا صَلَاةُ الْعِيدِ مَعَ الْإِمَامِ فَإِذَا فَاتَتْكَ مَعَ الْإِمَامِ فَلَا صَلَاةَ. وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ
حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا جو عیدگاہ کی طرف جاتا ہے تو امام کو یوں پاتا ہے کہ وہ نماز سے فارغ ہو چکا ہوتا ہے تو کیا وہ نماز پڑھے؟ انہوں نے فرمایا اس پر نماز لازم نہیں اور اگر چاہے تو پڑھے (حضرت حمادرحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ) میں نے کہا اگر وہ عید گاہ کی طرف نہ جائے تو کیا گھر میں امام کی طرح نماز پڑھے؟ فرمایانہیں ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں عید کی نما ز صرف امام کے ساتھ ہوتی ہے جب تم امام کے ساتھ نہ پڑھ سکو تو اب ( تنہا ) نمازنہیں پڑھ سکتے ۔ ‘‘ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“
«لَيْسَ عَلَيْهِ ← الرَّجُلِ يَخْرُجُ إِلَى الْمُصَلَّى فَيَجِدُ الْإِمَامَ قَدِ انْصَرَفَ أَيُصَلِّي؟ ← سَأَلْتُ إبْرَاهِيمَ ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ
Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 201
