كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [142] بَابُ التجارة والشرط في البيع · حديث 727
727 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا يحيى بن عامر, عن رجل, عن عتاب بن أسيد رضي الله عنه, عن النبي صلى الله عليه وسلم, أنه قال له: انطلق إلى أهل الله -يعني أهل مكة- فانههم عن أربع خصال: عن بيع ما لم يقبضوا, وعن ربح ما لم يضمنوا, وعن شرطين في بيع, وعن سلف وبيع. #618# قال محمد: وبهذا كله نأخذ, فأما قوله: سلف وبيع فالرجل يقول للرجل: أبيعك عبدي هذا بكذا وكذا على أن تقرضني كذا وكذا, أو يقول: تقرضني على أن أبيعك فلا ينبغي هذا. وقوله: شرطين في بيع فالرجل يبيع الشيء بالحال بألف درهم, وإلى شهر بألفين, فيقع عقده البيع على هذا فهذا لا يجوز, وأما قوله: ربح ما لم يضمنوا فالرجل يشتري الشيء فيبيعه #619# قبل أن يقبضه بربح فليس ينبغي له ذلك, وكذلك لا ينبغي له أن يبيع شيئا اشتراه حتى يقبضه, وهذا كله قول أبي حنيفة إلا في خصلة واحدة: العقار من الدور والأرضين قال: لا بأس أن يبيعهما الذي اشتراها قبل أن يقبضها؛ لأنها لا تحول عن موضعها. قال محمد: وهذا عندنا لا يجوز, وهو كغيره من الأشياء.
حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے یحیی ٰبن عامر رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ ایک شخص سے وہ حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا اہل اللہ یعنی اہل مکہ کی طرف جاؤ اوران کو چار باتوں سے منع کرو۔1۔ جب تک کسی (خریدی ہوئی )چیز پر قبضہ نہ کریں اسے آگے نہ بیچیں ۔“2۔ جب تک ضامن نہ ہوں نفع حاصل نہ کریں ۔“ 3۔ایک بیع میں دوشرطیں نہ رکھیں ۔‘‘4۔ قرض اور بیع جمع نہ کریں ۔‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم ان تمام باتوں کو اختیار کرتے ہیں۔“ قرض اور بیع جمع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص دوسرے آدمی سے کہے میں تجھ پر اپنا غلام اتنی رقم پر بیچتا ہوں اس شرط پر کہ تو مجھے اتنا قرض دے یا کہے تو مجھے قرض دے اس شرط پر کہ میں تجھ پر بیچوں تو یہ مناسب نہیں ۔ اور ایک بیع میں دوشرطوں کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی کوئی چیز نقد ایک ہزار پر بیچے اور دہار دو ہزار میں بیچے اور یوں سواد ہو جائے تو یہ نا جائز ہے۔‘‘اور جب تک ضامن نہ ہونفع جائز نہیں“ کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص ایک چیز خریدتا ہے اور قبضہ کر نے سے پہلے نفع کے ساتھ بیچتا ہے تو یہ بات بھی جائز نہیں اسی طرح یہ بھی مناسب نہیں کہ کسی چیز کوخریدنے کے بعد قبضہ کرنے سے پہلے بیچے۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ بھی ان سب باتوں کے قائل ہیں البتہ ایک بات میں اختلاف ہے یعنی وہ گھروں یا زمین کے ٹکڑوں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان کو خریدنے کے بعد قبضہ کر نے سے پہلے بیچنا جائز ہے کیونکہ یا اپنی جگہ سے متنقل نہیں ہوتیں ۔ ‘‘حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمارے نزدیک یہ جائز نہیں اور ان کا حکم بھی دوسری اشیاء کی طرح ہے ۔‘‘
عَتَّابِ بْنِ أُسَيْدٍ ← رَجُلٌ: ← يحيى بن عامر، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ
Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 727
