كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [22] بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 65
65 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَسْأَلُهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَحْضُرَ الصَّلَاة مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا أَنْ يُبَكِّرَ بِالصَّلَوَاتِ، ثُمَّ أَمَرَهُ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي، فَأَخَّرَ الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا، #93# ثُمَّ قَالَ: «أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ وَقْتٌ» قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَالْمَغْرِبُ وَغَيْرُهَا عِنْدَنَا فِي هَذَا سَوَاءٌ إِلَّا أَنَّا نَكْرَهُ تَأْخِيرَهَا، إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ. وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ
حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر نماز کے وقت کے بارے میں پوچھا تو آپ نے اس کو حکم دیا کہ وہ نمازوں کے اوقات میں آپ کے ساتھ شریک ہو پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کوحکم دیا کہ نمازوں کے لئے جلدی کریں پھر دوسرے دن حکم دیا تو انہوں نے تمام نمازوں کو موخر کیا ( اذان دیر سے دی) پھر فر ما یا وقت نماز کے بارے میں پوچھنے والا کہاں ہے؟ ( پھرفرمایا) ان دو ‘ وقتوں کے درمیان وقت ہے۔“حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور ہمارے نزدیک اس مسئلے میں مغرب اور دوسری نمازیں برابر ہیں مگر سورج غروب ہونے کے بعد مغرب میں تاخیر کو مکروہ سمجھتے ہیں ۔ ‘‘ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“
إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ
Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 65
