كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [157] بَابُ شراء الدراهم الثقال بالخفاف والربا · حديث 756
756 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا مرزوق, عن أبي جبلة, عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قلت له: إنا نقدم الأرض بها الورق الثقال الكاسدة, ومعنا ورق خفاف نافقة, أنبيع ورقنا بورقهم؟ قال: لا, ولكن بع ورقك بالدنانير, واشتر ورقهم بالدنانير, ولا يفارقنك صاحبك شبرا حتى تستوفي منه, فإن صعد فوق البيت فاصعد معه, وإن وثب فثب معه. #644# وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.
حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے مررزق نے ابوجبلہ رحمتہ اللہ علیہ سے سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا اور وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ابو جبلہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا ہم ایسے علاقے میں جاتے ہیں جہاں بھاری وزن کے کھوٹے درہم ہوتے ہیں اور ہمارے پاس ہلکے ہلکے چاندی کے سکے ہوتے ہیں جو مروج ہیں کیا ہم اپنے سکے ان کے سکوں ( چاندی) کے بدلے میں بیچ سکتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا نہیں بلکہ تم اپنی چاندی کے سکے دیناروں کے بدلے بیچو اور تم اپنے مقابل ( جس سے سودا ہوا) سے ایک بالشت بھی دور نہ ہو جب تک اس سے وصول نہ کر لو اگر وہ گھر کی چھت پر چلا جائے تو تم بھی اس کے ساتھ اس پر چڑھ جاؤ اور وہ کود جائے تو تم بھی اس کے ساتھ کود جاؤ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ سے فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“
الكاسدة, ومعنا ورق خفاف نافقة, أنبيع ورقنا بورقهم؟ ← نقدم الأرض بها الورق الث ← قُلْتُ لَهُ ← ابْنِ عُمَرَ ← أبي جبلة, ← مَرْزُوقٍ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ
Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 756
