Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [17] بَابُ الإيمان · حديث 370

370 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا عبد الله بن أبي حبيبة قال: سمعت أبا الدرداء رضي الله عنه صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: بينا أنا رديف رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: يا أبا الدرداء, من شهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله وجبت له الجنة قال: قلت له: وإن زنى, وإن سرق؟ فسكت عني, ثم سار ساعة, ثم قال: من شهد أن لا إله إلا الله, وأني رسول الله وجبت له الجنة , قلت: وإن زنى, وإن سرق, قال: وإن زنى وإن سرق وإن رغم أنف أبي الدرداء. قال: فكأني أنظر إلى أصبع أبي الدرداء السبابة يومئ بها إلى أرنبته.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے عبداللہ بن ابی حبیبہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا وہ فرماتے ہیں میں نے صحابی رسول حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں اس دوران کے میں سواری پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھا آپ نے فرمایا اے ابوالدرداء رضی اللہ عنہ جو شخص گواہی دے کہ اللہ تعالی ٰکے سواء کوئی معبود نہیں اور بے شک میں اللہ تعالی ٰکا رسول ہوں اس کے لئے جنت واجب ہوگئی فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اگرچہ زنا اور چوری کرے؟ تو آپ خاموش رہے پھر فرمایا جو شخص گواہی دے کہ اللہ تعالی ٰکے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ تعالی ٰکا رسول ہوں اس کے لئے جنت واجب ہوگئی میں نے عرض کیا اگرچہ زنا اور چوری کرے؟ فرمایا اگر چہ زنا کرے اور اگرچہ چوری کرے اور اگرچہ ابودرداء کی ناک خاک آلود ہو ‘ راوی فرماتے ہیں ! گویا میں حضرت ابو درداء رضی اللہ عہ کی شہادت والی انگلی کو دیکھ رہا ہوں آپ اس ناک کے کنارے کی طرف اشارہ کر ر ہے۔“

يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ، مَنْ شَهِدَ ← رديف رسول الله ← بَيْنَا ← أبا الدرداء صاحب رسول الله ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 370

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [17] بَابُ الإيمان · حديث 371

371 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا عبد الكريم بن أبي المخارق, عن طاووس قال: جاء رجل إلى ابن عمر رضي الله عنهما فقال: يا أبا عبد الرحمن, أرأيت هؤلاء الذين يسرقون أعلاقنا, ويفتحون أبوابنا, أكفار هم؟ قال: لا. قال: أرأيت هؤلاء الذين يتأولون من القرآن ويشهدون علينا بالكفر, ويستحلون دماءنا, أكفار هم؟ قال: لا فكيف إذا؟ قال: لا حتى يجعلوا مع الله شريكا مثنى مثنى. قال طاووس: كأني أنظر إلى أصبع ابن #364# عمر رضي الله عنهما وهو يحركها.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے عبدالکریم بن ابی المخارق رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت طاؤس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ایک شخص حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور اس نے کہا اے ابوعبد الرحمن ٰ! کیا آپ نے ان لوگوں کو دیکھا یہ ہمارے تالے چوری کر لیتے ہیں اور ہمارے دروازے کھول دیتے ہیں کیا یہ کافر ہیں ؟ فرمایا نہیں کیا تم نہیں دیکھتے وہ لوگ قرآن مجید کی تاویل کرتے ہیں اور ہمارے خلاف کفر کا فتوی ٰدیتے ہیں اور ہمارے خون کو حلال جانتے ہیں کیا وہ کافر ہیں ؟ انہوں نے کہا نہیں تو کیسے ہوگا جب انہوں نے ’’ لا ‘‘ ( نہیں ) کہا۔حتی کہ وہ اللہ تعالی ٰکے ساتھ اور دو شریک ٹھہرائیں۔ ‘‘ حضرت طاؤس رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں گویا میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا کی انگلی کو دیکھ رہا ہوں اوروہ اسے حرکت دے رہے ہیں۔

طَاوُوسٍ، ← عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 371

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [17] بَابُ الإيمان · حديث 372

372 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا علقمة بن مرثد, عن ابن بريدة الأسلمي, عن أبيه رضي الله عنه قال: كنا جلوسا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: اذهبوا بنا نعود جارنا هذا اليهودي, قال: فأتيناه, فقال: كيف أنت؟ وكيف؟ فسأله, ثم قال: يا فلان, اشهد أن لا إله إلا الله, وأني رسول الله, فنظر الرجل إلى أبيه وكان عند رأسه فلم يرد عليه شيئا, فسكت فقال: يا فلان, اشهد أن لا إله إلا الله, وأني رسول الله, فنظر الرجل إلى أبيه فلم يكلمه, فسكت ثم قال: يا فلان, اشهد أن لا إله إلا الله, وأني رسول الله, فقال له أبوه: اشهد له, فقال: أشهد أن لا إله إلا الله, وأنك رسول الله. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الحمد لله الذي أعتق بي نسمة من النار. #365# قال محمد: وبه نأخذ لا نرى بعيادة اليهودي والنصراني والمجوسي بأسا.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت علقمہ بن مرشد رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت ابن بریدہ اسلمی رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ نے فرمایا ہمیں لے جاؤ کہ ہم اپنے پڑوسی اس یہودی کی بیمار پرسی کریں فرماتے ہیں پس ہم اس کے پاس گئے تو آپ نے پوچھا تمہارا کیا حال ہے؟ مزید کیفیت پوچھی پھر فرمایا اے فلاں ! گواہی دو کہ اللہ تعالی ٰکے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک میں اللہ تعالی ٰکا رسول ہوں اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو اس کے سرہانے تھا اس نے کچھ جواب نہ دیا بلکہ خاموش رہا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوبارہ ) فرمایا گواہی دو کہ اللہ تعالی ٰکے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا تو اس نے کوئی بات نہ کی بلکہ خاموش رہا۔ ‘‘ آپ نے پھر فرمایا اے فلاں ! گواہی دو کہ اللہ تعالی ٰکے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اس کا رسول ہوں ۔ اب اس کے باپ نے کہا گواہی دو تو اس نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی ٰکے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ تعالی ٰکے رسول ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی حمد ہے جس نے ایک ذی روح کو میری وجہ سے جہنم سے آزادکردیا۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں‘ ہم کسی یہودی ،عیسائی اور مجوسی کی بیمار پرسی میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ۔ ‘‘

«يَا فُلَانُ، اشْهَدْ ← كيف أنت؟ وكيف؟ فسأله, ثم ← فأتيناه ← اذهبوا بنا نعود جارنا هذا اليهودي, ← كنا جلوسا عند رسول الله ← أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ، ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 372

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [17] بَابُ الإيمان · حديث 373

373 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا قيس بن مسلم الجدلي, عن طارق بن شهاب الأحمسي قال: جاء يهودي إلى عمر بن الخطاب رضي الله عنه فقال: أرأيت قوله: {وسارعوا إلى مغفرة من ربكم وجنة عرضها السماوات والأرض} فأين النار؟ قال عمر رضي الله عنه لأصحاب محمد صلى الله عليه وسلم: أجيبوه, فلم يكن عندهم فيها شيء, فقال عمر رضي الله عنه: أرأيت النهار إذا جاء أليس يملأ السموات والأرض؟ قال: بلى, قال: فأين الليل؟ قال: حيث شاء الله, قال عمر: والنار حيث شاء الله, فقال اليهودي: والذي نفسك بيده يا أمير المؤمنين, إنها لفي كتاب الله المنزل كما قلت.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت قیس بن مسلم جد لی رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ طارق بن شہاب الاحمس رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ایک یہودی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا قر آن مجید کی اس آیت کے حوالے سے بتائیں کہ جہنم کہاں ہے ۔ ارشاد خداوندی ہے! سارعو إلى مغفرة من ربكم وجنة عرضها السموات والارض ۔ (پاره سورة آل عمران آیت۱۳۳ ) اپنے رب کی طرف سے بخشش کی جلدی کر واوراس جنت کی طرف جس کی چوڑائی تمام آسمان اور زمین ہے ۔ ‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام سے فرمایا اسے جواب دو تو ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم نہیں دیکھتے کہ جب دن آ جاتا ہے تو آ سمانوں اور زمین کو بھر نہیں لیتا ؟ اس نے کہا ہاں ایسا ہی ہے فرمایا رات کہاں ہے؟ اس نے کہا جہاں اللہ تعالی ٰچاہے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا جہنم بھی وہاں ہے جہاں اللہ تعالی ٰچاہے۔“ یہودی نے کہا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں آپ کی جان ہے اللہ تعالی ٰکی اتاری ہوئی کتاب میں اسی طرح ہے ۔(شاید تو رات مراد ہو )

طارق بن شهاب الأحمسي، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ الْجَدَلِيِّ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 373

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [17] بَابُ الإيمان · حديث 374

374 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: بينا أنا عند عطاء بن أبي رباح فسأله علقمة بن مرثد الحضرمي قال: إن بمصرنا قوما صالحين يقولون: إن شهدنا أنا مؤمنون شهدنا أنا من أهل الجنة؟ , قال: فقولوا: إنكم مؤمنون ولا تقولوا: إنا من أهل الجنة, فوالله ما في السماء ملك مقرب, ولا من نبي مرسل, ولا عبد صالح إلا لله عليه السبيل والحجة, أما ملك أطاع الله طاعة حسنة, فالله من عليه بتلك الطاعة, فهو مقصر على شكرها, وأما نبي مرسل أو عبد صالح أذنب فلله عليه السبيل والحجة.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں اس دوران کے میں حضرت عطاء بن ابی رباح رحمتہ اللہ علیہ کے پاس تھا تو حضرت علقمہ بن مرثد الحضرصی رحمتہ اللہ علیہ نے ان سے سوال کرتے ہوئے کہا ہمارے شہر میں نیک لوگوں کی ایک جماعت ہے وہ کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ ہم مومن ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ ہم جنتی ہیں ۔“ فرمایا یوں کہو ہم مومن ہیں اور یہ نہ کہو کہ ہم جنتی ہیں اللہ کی قسم ! آسمان میں جو بھی مقرب فرشتہ یا نبی مرسل یا نیک بندہ ہے تو اللہ تعالی ٰکا اس سے سوال اور حجت ہوگی فرشتے نے اللہ تعالیٰ کی اچھی طرح اطاعت کی ہے تو اللہ تعالی ٰنے اس پر اس اطاعت کے بدلے احسان کیا تو اس کے شکر ادا کر نے میں کمی ہے اور نبی مرسل یا نیک بندوں سے لغزش ہوئی تو اللہ تعالی ٰکی ان سے پوچھ گچھ اور ان کے خلاف حجت و دلیل ہے ۔ ‘‘

فقولوا: إنكم مؤمنون ولا تقولوا: ← مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟! ← مؤمنون شهدنا ← إن بمصرنا قوما صالحين يقولون: إن شهدنا ← عند عطاء بن أبي رباح فسأله علقمة بن مرثد الحضرمي ← بَيْنَا ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 374

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [17] بَابُ الإيمان · حديث 375

375 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا عطاء بن أبي رباح, عن عبد الله بن رواحة رضي الله عنه, أنه سمى شاة من غنمه لرسول الله صلى الله عليه وسلم, وأوصى بها جارية له كانت في الغنم, وكان يتعاهدها وينظر إليها كلما أتى الغنم حتى سمنت وصلحت, فجاء يوما ففقدها من الغنم, فسألها عنها فقالت: ضاعت, فلطم وجهها فلما سير ذلك عنه أتى النبي صلى الله عليه وسلم فأخبره بالقصة فقال: لم أملك نفسي أن لطمتها, قال: فأعظم ذلك النبي صلى الله عليه وسلم وقال: لعلها مؤمنة, قال: يا رسول الله: إنها سوداء, قال: فقال: إيت بها, فلما جاء بها قال لها النبي صلى الله عليه وسلم: أين الله؟ , قالت في السماء, قال: من أنا؟ , قالت: أنت رسول الله, فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: هي مؤمنة, قال: فقال: عبد الله بن رواحة رضي الله عنه: فهي حرة يا رسول الله.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے عطاء بن ابی رباح رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے ایک بکری رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے موٹی تازی کی اور اپنی اس لونڈی کو وصیت کی جو بکریوں کے سلسلے میں مقرر تھی وہ اس کا خیال رکھتے اور جب بھی بکریوں کے پاس جاتے اس کو دیکھتے ۔ ‘‘ حتی کہ وہ موٹی ہوگی اور ٹھیک ٹھاک ہو گئی ایک دن وہ تشریف لائے تو اسے کم پایا اس لونڈی سے اس کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا وہ ضائع ہو گئی انہوں نے اس کے چہرے پر تھپڑ مارا۔ جب غصہ ٹھنڈا ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو واقعہ بتایا اور یہ بھی کہا کہ میں اپنے آپ کو قابو میں نہ رکھ سکا اور اسے تھپڑ مار دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو بہت بڑا جرم قرار دیا اورفرمایا شاید وہ مومنہ ہو ۔ ‘‘ حضرت عبداللہ بن رواحہ رحمتہ اللہ علیہ نے عرض کیا حضور ! وہ سیاہ فام ہے۔ ‘‘ (اس کے ایمان کا علم نہیں ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ! اسے لاؤ جب وہ اس لونڈی کو لے کر حاضر ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تو مومنہ ہے؟ اس نے عرض کیا جی ہاں! آپ نے پوچھا اللہ کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا آسمان میں ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا میں کون ہوں؟ اس نے کہا آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مومنہ ہے۔ ‘‘ راوی فرماتے ہیں ! حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ آزاد ہے۔“ (یعنی میں نے آزاد کر دیا )

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 375

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter