Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [180] بَابُ نبيذ البختج والعصير · حديث 834

834 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, أنه كان يشرب الطلاء قد ذهب ثلثاه وبقي ثلثه, ويجعل له منه نبيذ فيتركه حتى إذا اشتد شربه, ولم ير بذلك بأسا. #709# قال محمد: وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ طلاء نوش فرماتے تھے یعنی جب دو تہائی چلا جاتا اور ایک تہائی رہ جاتا (اسی کو طلاء کہتے ہیں ) اور ان کے لئے اس سے نبیذ بنایا جاتا آپ اسے چھوڑ دیتے جب وہ سخت ( تیز ) ہو جاتا تو پیتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 834

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [180] بَابُ نبيذ البختج والعصير · حديث 835

835 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا الوليد بن سريع مولى عمرو بن حريث, عن أنس بن مالك رضي الله عنه, أنه كان يشرب الطلاء على النصف. #710# قال محمد: ولسنا نأخذ بهذا, لا ينبغي له أن يشرب من الطلاء إلا ما ذهب ثلثاه وبقي ثلثه, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے ولید بن سریع ( عمرو بن حریث کے آزاد کردہ غلام) نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ وہ طلاء کو اس طرح نوش فرماتے تھے کہ (جوش دینے سے ) نصف چلا جاتا ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہم اسی بات کو اختیار نہیں کرتے اور طلاء پینا اسی صورت میں مناسب ہے جب دو تہائی چلا جائے اور ایک تہائی باقی رہ جائے ۔ ‘‘ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ «كَانَ يَشْرَبُ الطِّلَاءَ عَلَى النِّصْفِ» ← الْوَلِيدِ بْنِ سَرِيعٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 835

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [181] بَابُ السكر والخمر · حديث 836

836 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن الهيثم, عن ابن مسعود رضي الله عنه, أنه أتاه رجل به صفار, فسأله عن السكر فنهاه عنه. #711# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت ہیثم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے پاس ایک شخص آیا جس پر زرد نشان تھا اس نے سکر ( کھجوروں کے اس ) کے بارے میں پوچھا تو آپ نے اسے اس سے منع فرمایا۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← السكر فنهاه عنه. ← ابن مسعود أنه أتاه رجل به صفار, فسأله ← الْهَيْثَمُ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 836

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [181] بَابُ السكر والخمر · حديث 837

837 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, عن ابن مسعود رضي الله عنه قال: إن أولادكم ولدوا على الفطرة, فلا تداووهم بالخمر, ولا تغذوهم بها؛ إن الله لم يجعل الرجس شفاء, إنما إثمهم على من سقاهم. #712# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں تمہاری اولاد فطرت پر پیدا ہوتی ہے پس ان کا علاج شراب سے نہ کرو اور نہ ہی ان کو اس کی غذا دو بے شک اللہ تعالی ٰنے ناپاک چیز کو شفاء نہیں بنایا اور اس کا گناہ اس پر ہوگا جس نے ان بچوں کو شراب پلائی۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 837

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [182] بَابُ الشرب في الأوعية والظروف والجر وغيره · حديث 838

838 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا علقمة بن مرثد, عن ابن بريدة, عن أبيه رضي الله عنه, عن النبي صلى الله عليه وسلم, أنه قال: كنت نهيتكم عن زيارة القبور فزوروها ولا تقولوا هجرا, فقد أذن لمحمد في زيارة قبر أمه, وعن #713# لحوم الأضاحي أن تمسكوها فوق ثلاثة أيام, فأمسكوها ما بدا لكم, وتزودوا فإنما نهيتكم ليتسع موسعكم على فقيركم, وعن النبيذ في الدباء والحنتم والمزفت, فاشربوا في كل ظرف, فإن الظرف لا يحل شيئا ولا يحرمه, ولا تشربوا المسكر. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے علقمہ بن مرثد رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت ابن بریدہ رحمتہ اللہ علیہ کے واسطے سے ان کے والدین رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا ‘ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے بیان فرماتے ہیں! میں تمہیں زیارت قبور سے منع کرتا تھا پس اب تم زیارت کر سکتے ہو اور میری بات نہ کہو اور حضرت محمد صلی اللہ علی کو ان کے والد کی زیارت کی اجازت دی گئی اور میں تمہیں قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ روکنے سے منع کرتا تھا اب جب تک مناسب سمجھو اور اسے ذخیرہ بناؤ میں نے اسلئے روکا تھا کہ کشادہ حال لوگ تمہارے فقیروں کے لئے وسعت پیدا کریں اور میں تمہیں دباحنتم اور مزقت میں نبیذ بنانے سے روکتا تھا پس ہر برتن میں پی سکتے ہو کیونکہ برتن کسی چیز کو حلال اور حرام نہیں کرتا اورکھجور کا کچا رس نہ پیو ( جب اس میں تیزی آ جائے ) حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 838

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [182] بَابُ الشرب في الأوعية والظروف والجر وغيره · حديث 839

839 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا إسحاق بن ثابت, عن أبيه, عن علي بن حسين رضي الله عنه, عن النبي صلى الله عليه وسلم, أنه غزا غزوة تبوك, فمر بقوم يزفنون, فقال لهم: ما لهؤلاء؟ قالوا: أصابوا من شراب لهم, قال: ما ظروفهم؟ قالوا: الدباء والحنتم والمزفت, فنهاهم أن يشربوا فيها, فلما مر بهم راجعا من غزاته شكوا إليه ما لقوا من التخمة, فأذن لهم أن يشربوا فيها, ونهاهم أن يشربوا المسكر. #714# قال محمد: وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت وہ فرماتے ہیں ہم سے اسحاق بن ثابت رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ اپنے والد سے اور وہ حضرت علی بن حسین (رضی اللہ عنہا) سے روایت کرتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ آپ غزوہ تبوک کے لئے تشریف لے جاتے ہوئے ایسی قوم سے گزرے جو بیہود گفتگو کر رہے تھے آپ نے ان کے بارے میں پوچھا کہ ان لوگوں کو کیا ہوا؟ لوگوں نے جواب دیا کہ شراب کی وجہ سے ان کی یہ حالت ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا ان کے برتن کون سے ہیں انہوں نے کہا دباء ،حنتم اور مزفت آپ نے ان کو ان (برتنوں) میں پینے سے منع فرما دیا جب غزوہ سے واپس تشریف لاتے ہوئے وہاں سے گزر ہوا تو ان لوگو ں نے کھانے کے بوجھل ہونے کی شکایت کی تو آپ نے ان کو ان برتنوں میں پینے کی اجازت دے دی البتہ نشہ آور چیز کے پینے سے روک دیا۔ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

الدباء والحنتم والمزفت, فنهاهم ← ما ظروفهم؟ ← أصابوا من شراب لهم، ← لهم: ما لهؤلاء؟ ← عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ← أَبِيهِ ← إسحاق بن ثابت، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 839

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [182] بَابُ الشرب في الأوعية والظروف والجر وغيره · حديث 840

840 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: ما أسكر كثيره فقليله حرام خطأ من الناس إنما أرادوا: السكر حرام من كل شراب. قال محمد: وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ دے اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہے لوگ غلطی پر ہیں وہ کہتے ہیں ہر شراب سے نشہ حرام ہے ۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 840

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [182] بَابُ الشرب في الأوعية والظروف والجر وغيره · حديث 841

841 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا سالم الأفطس, عن سعيد بن جبير رضي الله عنه, عن ابن عمر رضي الله عنهما, أنه شرب من قربة وهو قائم. وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے سالم الا فطس رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے اور وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے ایک مشکیزے سے کھڑے ہوکر (پانی) پیا۔ ‘‘ ( بوقت ضرورت کھڑے ہو کر پینا جائز ہے) حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔ ‘‘

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← سَالِمٌ الْأَفْطَسُ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 841

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [183] بَابُ الشرب في آنية الذهب والفضة · حديث 842

842 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا أبو فروة, عن عبد الرحمن ابن أبي ليلى, عن حذيفة بن اليمان قال: نزلت مع حذيفة رضي الله عنه على دهقان بالمدائن فأتانا بطعام فطعمنا, فدعا حذيفة رضي الله عنه بشراب, فأتاه بشراب في إناء من فضة, فأخذ الإناء فضرب به وجهه, فساءنا الذي صنع به قال: فقال: هل تدرون لم صنعت هذا؟ قلنا: لا. قال: نزلت به مرة في العام الماضي, فأتاني بشراب فيه, فأخبرته أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهانا أن نأكل في آنية الذهب والفضة, وأن نشرب فيهما, ولا نلبس الحرير والديباج, فإنهما للمشركين في الدنيا, وهما لنا في الآخرة. #717# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہم سے ابوفروہ رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت عبدالرحمن ٰبن ابی لیلی رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت خذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں عبد الرحمن ٰبن لیلیٰ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدائن کے ایک کاشتکار کے پاس گیا وہ ہمارے لئے کھانا لایا پس ہم نے کھانا کھایا پھر حضرت حذیفہ رضی اللہ نے مشروب طلب کیا تو وہ چاندی کے برتن میں لایا آپ نے برتن پکڑ کر اس کے منہ پر دے مارا ہمیں ان کا یہ عمل اچھا نہ لگا تو انہوں نے فرمایا تمہیں معلوم ہے میں نے ایساکیوں کیا؟حضرت عبدالرحمن رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں میں نے کہا ’’ نہیں ‘‘ فرمایا میں اس سے پہلے بھی ایک مرتبہ اس کے پاس آیا تو اس نے مجھے چاندی کے کے برتن میں مشروب پیش کیا تو میں نے اسے بتایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھانے پینے اور ریشمی کپڑے پہنے سے منع فرمایا کیونکہ بی دونوں چیزیں دنیا میں مشرکین کے لئے ہیں اور ہمارے لئے آخرت میں ہیں۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ← عبد الرحمن ابن أبي ليلى، ← أَبُو فَرْوَةَ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 842

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [184] بَابُ اللباس من الحرير والشهرة والخز · حديث 843

843 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه بعث جيشا, ففتح الله عليهم, وأصابوا غنائم كثيرة, فلما أقبلوا فبلغ عمر بن الخطاب رضي الله عنه أنهم قد دنوا, خرج بالناس ليستقبلهم, فلما بلغهم خروج عمر رضي الله عنه بالناس إليهم, لبسوا ما معهم من الحرير والديباج, فلما رآهم عمر رضي الله عنه غضب وأعرض عنهم ثم قال: ألقوا ثياب أهل النار, فلما رأوا غضب #718# عمر رضي الله عنه ألقوها, ثم أقبلوا يعتذرون, فقالوا: إنا لبسناها لنريك فيء الله الذي أفاء علينا, قال: فسري ذلك عن عمر رضي الله عنه, ثم رخص في العلم الإصبع منه والإصبعين والثلاث والأربع. #719# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت امام ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک لشکر بھیجاتو اللہ تعالی ٰنے ان کو فتح عطا فرمائی اور ان کو بہت سا مال غنیمت حاصل ہوا جب وہ لوگ واپس آئے اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کوخبر ملی کہ وہ قریب آ گئے ہیں تو آپ لوگوں کو ہمراہ لے کر ان کے استقبال کے لئے باہر تشریف لے گئے جب ان کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ( استقبال کیلئے ) تشریف لانے کی خبر ہوئی تو انہوں نے ریشمی لباس پہن لئے جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان کو دیکھا تو آپ کو غصہ آیا اور آپ نے ان سے منہ پھیر لیا پھر فرمایا جہنمیوں کا لباس اتار دو انہوں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو حالت غضب میں دیکھا تو لباس اتار دیا اور پھر عذر پیش کرتے ہوئے آئے اور عرض کیا کہ ہم نے یہ لباس اس لئے پہنا تھا کہ آپ کو دکھائیں اللہ تعالی ٰنے ہمیں کس قدر مال غنیمت عطا فرمایا ہے۔“ راوی فرماتے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا غصہ دور ہو گیا پھر آپ نے ان کو اس (ریشم) سے ایک دو تین اور چار انگلیوں کے برابر استعمال کرنے کی اجازت دی ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 843

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [184] بَابُ اللباس من الحرير والشهرة والخز · حديث 844

844 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: قال عبد الله بن مسعود رضي الله عنه: اتقوا الشهرتين في اللباس: أن يتواضع أحدكم حتى يلبس الصوف, أو يتبختر حتى يلبس الحرير. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا لباس میں دو شہرتوں سے بچو ایسی تواضع اختیار کرنے سے کہ اونی لباس پہنے یا تکبر کے طور پر ریشمی لباس پہنے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

عبد الله بن مسعود اتقوا الشهرتين في اللباس: ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 844

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [184] بَابُ اللباس من الحرير والشهرة والخز · حديث 845

845 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن سليمان بن أبي المغيرة قال: سأل بجير سعيد بن جبير وأنا جالس عنده عن لبس الحرير, فقال سعيد: غاب حذيفة بن اليمان رضي الله عنه غيبة, فكسي بنوه وبناته قمص الحرير, فلما قدم أمر به, فنزع عن الذكور, وترك على الإناث. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت سلیمان بن ابی المغیر ہ رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں حضرت یحییٰ رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے ریشم کے بارے میں سوال کیا اور میں بھی ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو حضرت سعید رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا حضرت حذیفہ بن ایمان رضی اللہ نہ کچھ عرصہ غائب رہے تو ان کے بیٹوں اور بیٹیوں نے ریشمی لباس پہن لیا جب واپس تشریف لائے تو آپ کے حکم سے بیٹوں سے یہ لباس اتارا گیا اور بچیوں پر چھوڑ دیا گیا۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔ ‘‘

سليمان بن أبي المغيرة ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 845

chevron_left Previous
1…646566…77
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter