Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [173] بَابُ ما أكل في البر والبحر · حديث 810

810 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: كل ما جزر عنه الماء وما قذف به, ولا تأكل ما طفا. #686# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں ہر وہ چیز جس سے پانی کھل جائے اور وہ جو پانی میں ڈالی جائے اسے کھاؤ اور جومر کے پانی پر تیر جائے اسے نہ کھاؤ۔ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← كل ما جزر عنه الماء وما قذف به, ولا تأكل ما طفا. ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 810

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [173] بَابُ ما أكل في البر والبحر · حديث 811

811 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم: كل السمك كله إلا الطافي.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں طافی مچھلی (جو پانی میں مر کر اوپر تیر جائے ) کے علاوہ ہر مچھلی کھا سکتے ہو۔

إبراهيم: كل السمك كله إلا الطافي. ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 811

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [173] بَابُ ما أكل في البر والبحر · حديث 812

812 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: وددت أن عندي قفعة أو قفعتين من جراد. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ۔ وہ فرماتے ہیں مجھے یہ بات پسند ہے کہ میرے پاس ایک دو ٹوکریاں ٹڈیاں ہوں ۔ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ کا بھی یہی قول ہے۔

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← وددت أن عندي قفعة أو قفعتين من جراد. ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 812

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [174] بَابُ ما يكره من أكل لحوم السباع وألبان الحمر · حديث 813

813 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, عن عائشة رضي الله عنها, أنه أهدي لها ضب, فسألت النبي صلى الله عليه وسلم عن أكله, فنهاها عنه, #688# فجاء سائل فأرادت أن تطعمه إياه, فقال: أتطعمينه ما لا تأكلين؟. #689# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہیں ایک گوہ بطور ہدیہ پیش کی گئی انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے کھانے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے اس کو اس سے منع فرما دیا۔ پھر ایک مانگنے والا آیا توام المومنین رضی اللہ عنہا نے اسے کھلانے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا اسے وہ چیز کھلاتی ہو جو خود نہیں کھاتی۔ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← أتطعمينه ما لا تأكلين؟. ← أكله, فنهاها عنه, فجاء سائل فأرادت أن تطعمه إياه, ← عَائِشَةَ أَنَّهُ أُهْدِيَ لَهَا ضَبٌّ فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 813

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [174] بَابُ ما يكره من أكل لحوم السباع وألبان الحمر · حديث 814

814 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا مكحول الشامي, عن النبي صلى الله عليه وسلم, أنه نهى عن كل ذي ناب من السبع, وكل ذي مخلب من الطير, وأن توطأ الحبالى من الفيء, وأن تؤكل لحوم الحمر الأهلية. #690# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے مکحول شامی رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ہر کچلیوں والے درندے سے اور ہر پنچے والے پرندے کے کھانے سے اور مال سے حاصل ہونے والی حاملہ لونڈی سے جماع کرنے سے نیز گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔

مَكْحُولٍ الشَّامِيِّ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 814

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [174] بَابُ ما يكره من أكل لحوم السباع وألبان الحمر · حديث 815

815 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن الهيثم, عن ابن عباس رضي الله عنهما, أنه كره لحم الفرس. قال محمد: هذا قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى, ولسنا نأخذ به, ولا نرى #691# بلحم الفرس بأسا, وقد جاء في إحلاله آثار كثيرة.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت ہیثم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے گھوڑے ( کے گوشت ) کو مکروہ قرار دیا۔“حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے اور ہم اسے اختیار نہیں کرتے اور گھوڑے کے گوشت میں کوئی حرج نہیں سمجھتے اس کے حلال ہونے میں متعدد آثار مروی ہے ۔

ابن عباس أنه كره لحم الفرس. ← الْهَيْثَمُ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 815

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [174] بَابُ ما يكره من أكل لحوم السباع وألبان الحمر · حديث 816

816 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: لا خير في لحوم الحمر وألبانها. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں (گھریلو ) گدہوں کے گوشت اور ان کے دودھ میں کوئی بھلائی نہیں ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← لا خير في لحوم الحمر وألبانها. ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 816

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [175] بَابُ أكل الجبن · حديث 817

817 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا عطية العوفي, عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: كنت جالسا عنده إذ أتاه رجل فسأله عن الجبن فقال: وما الجبن؟ قال: شيء يصنع من إنفحة البهم وألبان المعز, وعامة من يصنعه المجوس. قال: اذكر اسم الله وكل. #692# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی وہ فرماتے ہیں ہم سے عطیہ العوفی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں حضرت عطیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے ان (حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا) کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص ان کے پاس حاضر ہوا او ر اس نے ان سے پنیر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا پنیر کیا ہوتی ہے؟ اس نے کہا ایک چیز ہے جو بکری کے دودھ سے بنائی جاتی ہے اور عام طور پر اسی مجوسی لوگ بناتے ہیں ۔ ‘‘ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس پر اللہ تعالی ٰکا نام لے کر اسے کھالو۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← اذكر اسم الله وكل. ← شيء يصنع من إنفحة البهم وألبان المعز, وعامة من يصنعه المجوس. ← الجبن فقال: وما الجبن؟ ← كنت جالسا عنده إذ أتاه رجل فسأله ← ابْنِ عُمَرَ ← عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 817

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [176] بَابُ الصيد ترميه · حديث 818

818 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في الرجل يرمي الصيد أو يضربه, قال: إذا قطعه بنصفين #693# فكلهما جميعا, وإن كان مما يلي الرأس أقل فكلهما جميعا, وإن كان مما يلي الرأس أكثر فكل مما يلي الرأس وألق ما بقي منه مما يلي العجز, فإن قطعت منه قطعة أو عضوا فبانت, فلا تأكلها إلا أن يكون معلقا, فإن كان معلقا فكل. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ کوئی شخص شکار پر تیر پھینکنے یا اس کو مارے تو وہ فرماتے ہیں جب اسے دو ٹکڑے کر دے تو ان دونوں ٹکڑوں کو کھا سکتے ہو۔ ‘‘ اور اگر سر کی طرف کم ہوتو بھی دونوں ٹکڑے کھا سکتے ہو اور اگر سر کی جانب زیادہ ہوتو جوسر کی طرف ہے اسے کھاؤ اور جو اس کے پچھلے حصے (سرین) کی طرف ملا ہوا ہے اسے پھینک دو اور اگر اس سے کوئی ٹکڑا یا عضوکٹ کہ الگ ہو جائے تو اسے نہ کھاؤ مگر یہ کہ اس سے لٹکا ہوا ہو۔“حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 818

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [176] بَابُ الصيد ترميه · حديث 819

819 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن سعيد بن جبير, عن ابن عباس رضي الله عنهما أنه قال: أتاه عبد أسود, فقال: إني في ماشية أهلي, وإني بسبيل من الطريق, أفأسقي من ألبانها؟ قال: لا. #694# قال: وإني أرمي الصيد فأصمي وأنمي, قال: كل ما أصميت, ودع ما أنميت. #695# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى. وإنما يعني بقوله: أصميت, ما لم يتوار عن بصرك, وما أنميت, ما توارى عن بصرك, فإذا توارى عن بصرك وأنت في طلبه حتى تصيبه ليس به جرح غير سهمك فلا بأس بأكله.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے اور وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا! ایک سیاہ فام غلام ان کے پاس آیا اور اس نے کہا میں اپنے گھر والوں کے جانوروں میں کسی راستے میں ہوتا ہوں تو کیا میں ان کا دودھ پی سکتا ہوں؟ فرمایا نہیں پوچھا اگر میں شکار کو تیر مار کر اسی جگہ ہلاک کر دوں اور زخمی کروں لیکن ہلاک نہ ہوتو ؟ فرمایا جو فی الفور ہلاک ہو جائے اسے کھا سکتے ہو اور جو ہلاک نہ ہواسے چھوڑ دو ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“ اہمیت کا معنی یہ ہے کہ تمہاری نگاہ سے پوشید نہ ہو بلکہ وہاں تمہارے سامنے مر جائے اور انمیت کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری نگاہوں سے اوجھل ہو جائے اور تم اس کی تلاش میں ہو حتی کہ اسے حاصل ہو کر لو اور اس کے جسم پر تمہارے تیر کے علاوہ کوئی زخم نہ ہو تو اسے کھانے میں کوئی حرج نہیں ۔ ‘‘

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 819

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [176] بَابُ الصيد ترميه · حديث 820

820 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: إذا رميت الصيد وسميت, فإن قطعته بنصفين فكله, وإن كان مما يلي الرأس أكثر أكلت مما يلي الرأس ولم تأكل مما سواه, وإن قطعت منه يدا أو رجلا أو قطعة منها فكل منه غير ما قطعت منه. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب تم شکار پر تیر پھینکو اور بسم اللہ پڑھ لو تو اگر تم نے اسے دو حصوں میں کاٹ دیا تو اسے کھا سکتے ہو اور اگر سر کی جانب زیادہ تو اس طرف والے کو کھا لو اور باقی نہ کھاؤ اور تم اس سے اس کا ہاتھ یا پاؤں کاٹ دو یا کوئی اور ٹکڑا کاٹو تو جو نہیں کٹا اس کو کھا سکتے ہو ۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 820

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [177] بَابُ صيد الكلب · حديث 821

821 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, عن عدي بن حاتم رضي الله عنه, أنه سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الصيد إذا قتله الكلب قبل أن يدرك ذكاته, فأمر النبي صلى الله عليه وسلم بأكله إذا كان عالما. #696# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں اور حضرت عدی بن خاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شکار کے بارے میں پوچھا جس کو ذبح کرنے سے پہلے کتا ہلاک کر دے ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے کا حکم دیا جب کہ کتا سکھایا گیا ہو۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 821

chevron_left Previous
1…626364…77
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter