كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [30] بَابُ الرَّجُلِ يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَوْ يَؤُمُّ الرَّجُلَيْنِ · حديث 91
91 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ سِنًّا» قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَإِنَّمَا قِيلَ: أَقْرؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ؛ لِأَنَّ النَّاسَ كَانُوا فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ أَقْرَؤُهُمْ لِلْقُرْآنِ أَفْقَهُهُمْ فِي الدِّينِ، فَإِذَا كَانُوا فِي هَذَا الزَّمَانِ عَلَى ذَلِكَ، فَلْيَؤُمَّهُمْ أَقْرَؤُهُمْ، فَإِنْ كَانَ غَيْرُهُ أَفْقَهَ مِنْهُ، وَأَعْلَمَ بِسُنَّةِ الصَّلَاةِ، وَهُوَ يَقْرَأُ نَحْوًا مِنْ قِرَاءَتِهِ، فَأَفْقَهُّمَا وَأَعْلَمُهُمَا بِسُنَّةِ الصَّلَاةِ أَوْلَاهُمَا بِالْإِمَامَةِ. وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله تعالى
حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمہ اللہ' سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں قوم کی امامت وہ شخص کرے جوان میں سے کتاب اللہ کا زیادہ قاری ہو (بشرطیکہ مسائل جانتا ہو ) اگر قرآت میں برابر ہوتو ہجرت میں مقدم ہے (وہ امام بنے ) حضر امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں یہ بات کہی گئی کہ ان میں سے جو قرآن مجید کا زیادہ قاری ہوتو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس زمانے میں جو لوگ زیادہ اچھے قاری ہوتے تھے وہ دین کی سمجھ بھی زیاہ رکھتے تھے اگر اس زمانے میں یہی صورت ہو تو جو قرات میں فوقیت رکھتا ہو وہ امامت کرائے اور اگر اس کا غیر اس سے زیادہ فقیہ ہو اور نماز کے بارے میں سنت کا زیادہ علم رکھتا ہو اوراس جیسی قرات بھی کر سکتا ہوتو جو شخص زیادہ فقیہ اور سنت کو زیادہ جاننے والا ہے وہ امامت کے زیادہ لائق ہے۔“ امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“
إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ
Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 91
