كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [116] بَابُ ما يجوز من الوصية · حديث 649
649 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا عطاء بن السائب, عن أبيه, عن سعد بن أبي وقاص رضي الله عنه قال: دخل النبي صلى الله عليه وسلم علي يعودني قال: فقلت: يا رسول الله, أوصي بمالي كله؟ قال: لا. فقلت: بالنصف؟ قال: لا. فقلت: بالثلث؟ قال: الثلث والثلث كثير, لا تدع أهلك يتكففون الناس. #561# قال محمد: وبه نأخذ, لا تجوز الوصية لأحد بأكثر من الثلث, فإن أوصى بأكثر من الثلث فأجاز ذلك الورثة بعد موته فهو جائز, وليس للوارث أن يرجع فيما أجاز وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.
حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے عطاء بن سائب رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ اپنے والد سے اور وہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری بیمار پرسی کے لئے تشریف لائے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں اپنے تمام مال کی وصیت کر دوں؟ فرمایا نہیں میں نے پوچھا نصف کی ؟ فرمایا نہیں میں عرض کی تہائی مال کی ( وصیت کروں ) ؟ فر مایا تہائی کی وصیت کر سکتے ہو اور تہائی بھی زیادہ ہے ‘اپنے گھر والوں کو یوں نہ چھوڑوکہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائیں۔“ حضرت محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں کسی شخص کے لئے تہائی مال سے زیادہ کی وصیت جائز نہیں پس اگر وہ تہائی سے زیادہ کی وصیت کرے تو اگر اس کے وارث اس کے مرنے کے بعد اسے جائز قرار دیں تو جائز ہوگی اور وارث کے لئے جائز نہیں کہ جس کی اجازت دے چکا ہے اس میں رجوع کرئے‘حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“
فَقُلْتُ: ← دخل النبي علي يعودني ← سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ
Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 649
