كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [127] بَابُ الرجل يموت ويترك امرأته فيختلفان في المتاع · حديث 688
688 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: إذا مات الرجل وترك امرأته فما كان في البيت من متاع النساء فهو للنساء, وما كان في البيت من متاع الرجال فهو للرجل, وما كان من متاع يكون للرجال والنساء فهو لهما؛ لأنها هي الباقية, وإذا ماتت المرأة فما كان في البيت من متاع الرجال فهو للرجل؛ وما كان من متاع النساء فهو لها، وما لهما جميعا فهو للرجل، لأنه الباقي وإذا طلقها فما كان من متاع الرجال والنساء فهو للرجل؛ لأنه الباقي وهي الخارجة إلا أن تقيم على شيء بينة فتأخذه. #586# قال محمد: وبهذا كله كان يأخذ أبو حنيفة رحمه الله تعالى. قال محمد: ولسنا نأخذ بهذا, ولكن ما كان من متاع الرجال فهو للرجل, وما كان من متاع النساء فهو للمرأة, وما كان يكون لهما جميعا فهو للرجل على كل حال إن مات, أو طلق, أو لم يطلق. وقال ابن أبي ليلى: المتاع كله متاع الرجل ما كان يكون للرجال والنساء وغير ذلك إلا لباسها. وقال غيره من الفقهاء: ما كان يكون للرجال فهو للرجل, وما يكون للنساء فهو للمرأة, وما كان يكون لهما جميعا فهو بينهما نصفان. #587# وقد قال ذلك زفر, وقد يروى عن إبراهيم النخعي. وقال بعض الفقهاء أيضا: جميع ما في البيت من متاع للرجال والنساء وغير ذلك بينهما نصفان. وقال بعض الفقهاء أيضا: البيت بيت المرأة, فما كان من متاع الرجال والنساء فهو للمرأة. وقال بعض الفقهاء أيضا: تعطى المرأة من متاع النساء ما يجهز به مثلها وجميع ما بقي في البيت فهو كله للرجل إن مات, أو ماتت.
امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب کوئی آدمی مر جائے اور بیوی چھوڑ جائے تو گھر میں جو سامان عورتوں سے متعلق ہوگا وہ اس کا ہوگا اور مردوں سے متعلق ہوگا وہ مردوں(وارثوں) کا ہوگا اور جو سامان مردوں اور عورتوں کےلئے ہوسکتاہےوہ اس عورت کا ہوگا کیونکہ وہی باقی (زندہ)ہے۔‘‘اوراگرعورت فوت ہوجائے تو گھر میں جو سامان مردوں کے سامان سے ہوگا وہ مرد اور جو دونوں کے لئے ہوتا ہے وہ مرد کے لئے ہوگا کیونکہ وہی باقی (زندہ) ہے اور جب وہ اپنی بیوی کو طلاق دے تو جو سامان مردوں اور عورتوں کے سامان سے ہے وہ مرد کے لئے ہے کیونکہ وہی (گھر میں) باقی ہے اور عورت ہی باہر چلی گئی البتہ وہ کسی خاص چیز کی ذاتی ملکیت پر گواہ قائم کر دے تو اسے لے سکتی ہے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اس بات کے قائل نہیں ہیں لیکن جو مردوں کے سامان سے ہے وہ مرد کے لئے ہے اور جو عورتوں کے سامان سے ہے وہ عورت کے لئے ہے اور جو دونوں کے درمیان مشترک ہے ‘وہ ہر حالت میں مرد کا ہے اگر وہ مر جا تا ہے یا طلاق دیتا ہے یا طلاق نہیں دیتا۔“ ابن ابی لیلی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا تمام کا تمام سامان مرد کا ہے وہ مردوعورت کے لیے ہو یا اس کے علاوہ ہو سوائےعورت کے لباس کے۔اور دیگر فقہا ءفرماتے ہیں جومرد کے لئے ہوتا ہے وہ مردکا اور جوعورتوں کے لئے ہوتا ہے وہ عورت کے لئے ہے اور جو ( مرد وعورت )دونوں کے لئے ہوتا ہے وہ ان دونوں کے درمیان نصف نصف ہوگا۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ نے بھی یہی بات فرمائی ہے اور حضرت ابراہیم نخعی رحمتہ اللہ علیہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔“ بعض دیگر فقہاء اس طرح فرماتے ہیں کہ گھر کا تمام سامان جو مردوں اور عورتوں سے متعلق ہے وہ ان دونوں کے درمیان نصف نصف ہے۔ ‘‘ بعض فقہاء نے یوں فرمایا ہے گھر عورت کا گھر ہے پس جو سامان مردوں اور عورتوں کے سامان سےہے وہ عورت کے لئے ہے بعض فقہاء نے فرمایا عورتوں کے سامان سے عورت کو وہ سامان دیا جائے جس کی مثل جہیز میں دیا جا تا ہے اور باقی جو کچھ گھر میں رہے گا وہ سب مرد کا ہوگا چاہے مردکا انتقال ہو یا عورت کا ۔‘‘
إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ
Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 688
