Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [108] بَابُ حد من قطع الطريق أو سرق · حديث 625

625 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا القاسم بن عبد الرحمن, عن أبيه, عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: لا تقطع يد السارق في أقل من عشرة دراهم. #542# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے قاسم بن عبدالرحمن رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ اپنے باپ سے اور وہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ فرماتے ہیں دس درہم سے کم ( کی چوری ) میں چور کے ہاتھ نہ کاٹے جائیں۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اورحضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← لا تقطع يد السارق في أقل من عشرة دراهم. ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِيهِ ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 625

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [108] بَابُ حد من قطع الطريق أو سرق · حديث 626

626 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: لا تقطع يد السارق في أقل من ثمن الحجفة, وكان ثمنها عشرة دراهم, وقال: قال إبراهيم أيضا: لا تقطع يد السارق في أقل من ثمن المجن, وكان ثمنه يومئذ عشرة دراهم, ولا تقطع في أقل من ذلك.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں الحجفہ کی قیمت سے کم میں چورکا ہاتھ نہ کاٹا جائے اور اس کی قیمت دس درہم تھی ۔ ‘‘اور حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ نے بھی فرمایا مجن کی قیمت سے کم میں چور کا ہاتھ نہ کاٹا جائے (مجن بھی ڈہال کو کہتے ہیں )اور وہ ان دنوں میں دس درہم کی ہوتی تھی اس سے کم ( کی چوری) میں ہاتھ نہ کاٹا جائے ۔‘‘

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 626

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [108] بَابُ حد من قطع الطريق أو سرق · حديث 627

627 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن الهيثم بن أبي الهيثم, عن الشعبي يرفعه إلى النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: لا يقطع السارق في ثمر, ولا في كثر. #544# قال محمد: وبه نأخذ, والثمر ما كان في رؤوس النخل والشجر لم يحرز في البيوت, فلا قطع على من سرقه, والكثر الجمار جمار النخل, فلا قطع على من سرقه, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت ھیثم بن ابی االھیثم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت شعبی رحمتہ اللہ علیہ سے مرفوع حدیث بیان کرتے ہیں یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! پھل اور کھجور کے شگوفے میں ہاتھ نہ کاٹا جائے ‘حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں ثمر ( کالفظ استعمال ہوا یعنی پھل ہیں ) سے مراد وہ پھل جو کھجور یا کسی دوسرے درخت کے اوپر ہو گھروں میں ذخیرہ نہ کیا گیا ہو پس جواسے چوری کرے اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے ( کیونکہ وہ محفوظ نہیں ) اور کثر ( کالفظ فرمایا اس کا )معنی کھجور کا شگوفہ ہے جو اس کی چوری کرے اس کا ہاتھ بھی نہ کاٹا جائے ۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔‘‘

لا يقطع السارق في ثمر, ولا في كثر. ← الشعبي يرفعه إلى النبي أنه ← الهيثم بن أبي الهيثم ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 627

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [108] بَابُ حد من قطع الطريق أو سرق · حديث 628

628 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا عمرو بن مرة, عن عبد الله بن سلمة, عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال: إذا سرق الرجل قطعت يده اليمنى, فإن عاد قطعت رجله اليسرى, فإن عاد ضمن السجن حتى يحدث خيرا, إني لأستحي من الله أن أدعه ليست له يد يأكل بها, ويستنجي بها, ورجل يمشي عليها. #546# قال محمد: وبه نأخذ, ولا يقطع من السارق إلا يده اليمنى, ورجله اليسرى, لا يزاد على ذلك شيئا إذا أكثر السرقة مرة بعد مرة, ولكنه يعزر, ويحبس حتى يحدث خيرا, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ ہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی و وفرماتے ہیں ہم سے عمر و بن مرہ رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت عبد اللہ بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے اور وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب چوری کرے تو اس کا دایاں ہاتھ کا ٹا جائے اگر دوبارہ چوری کرے تو اس کا بایاں پاؤں کاٹا جائے پھر چوری کرے تو اسے قید خانے میں ڈال دیا جائے حتیٰ کہ وہ بھلائی کا ارتکاب کرے کیونکہ مجھے اللہ تعالی ٰسے حیا آتا ہے کہ میں اس شخص کو اس حالت میں چھوڑ دوں کہ اس کے پاس کھانے اور استنجاء کے لئے ہاتھ نہ ہوں اور پاؤں نہ ہوں جس کے ساتھ وہ چلے ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور چور کا صرف دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کا ٹاجائے اس پر کچھ اضافہ نہ کیا جائے جب بار بار چوری کرے البتہ اسے سزادی جائے اور قید کر دیا جائے حتی ٰکہ بھلائی پیدا ہو ‘حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ بھی یہی قول ہے ۔“

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 628

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [108] بَابُ حد من قطع الطريق أو سرق · حديث 629

629 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: يقطع السارق ويضمن. قال محمد: ولسنا نأخذ بهذا, إذا قطع السارق بطل عنه ضمان السرقة إلا أن توجد السرقة بعينها فترد على صاحبها, وهو قول عامر الشعبي, وأبي حنيفة رحمهما الله تعالى.

حضرت محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں چور کا ہاتھ کاٹا جائے اور چٹی لی جائے۔‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اس کو اختیار نہیں کرتے جب چورکا ہاتھ کاٹا جائے تو چورکی ضمان (چٹی )باطل ہوگی البتہ چوری کاما ل بعینہ پایا جائے تو وہ مالک کی طرف لوٹا یا جائے حضرت عامر شعبی رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

يقطع السارق ويضمن. ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 629

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [108] بَابُ حد من قطع الطريق أو سرق · حديث 630

630 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا إبراهيم بن محمد بن المنتشر, عن أبيه, عن يزيد بن أبي كبشة قال: أتي أبو الدرداء رضي الله عنه بجارية سوداء قد سرقت, وهو على دمشق, فقال: يا سلامة, أسرقت؟ قولي: لا, فقالت: لا. فقالوا: أتلقنها يا أبو الدرداء؟ قال: أتيتموني بامرأة لا تدري ما يراد بها, لتعترف فأقطعها.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے ابراہیم بن محمد بن المنتشر رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ اپنے والد سے اور وہ یزید بن ابی کبشہ رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس ایک سیاہ رنگ کی لونڈی لائی گی جس نے چوری کی تھی اور وہ دمشق کے والی تھے انہوں نے فرمایا اے سلامہ ! تم نے چوری کی؟ کہو نہیں اس نے کہا نہیں لوگوں نے کہا اے ابوالدرداء رضی اللہ عنہ! آپ اسے سمجھارہے ہیں فرمایا تم میرے پاس ایک عورت کر لاتے ہو اسے معلوم نہیں کہ اس سے کیا مراد ہے پس ( میں نے اس لئے کہا کہ )وہ اعتراف کرے اور اس کا ہاتھ کاٹوں۔“

أتلقنها يا أبو الدرداء؟ ← لَا۔ ← يا سلامة, أسرقت؟ قولي: لا, ← أتي أبو الدرداء بجارية سوداء قد سرقت, وهو على دمشق, ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 630

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [108] بَابُ حد من قطع الطريق أو سرق · حديث 631

631 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: أتي أبو مسعود الأنصاري رضي الله عنهما بسارق فقال: أسرقت؟ قل: لا, فقال: لا, فخلى سبيله. قال محمد: وأما نحن فنقول: لا ينبغي للحاكم أن يقول له: أسرقت؟ ولكن يسكت عنه حتى يقر, أو يدع, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى, قال محمد: وإنما أراهما قالا للسارقين: قولا: لا؛ لقولهما: أسرقتما مخافة أن يجيبا بنعم بمسألتهما, إياهما ولم يفعلا. وكذلك قال أبو حنيفة في الشاهد يشهد عند الحاكم: لا ينبغي للحاكم أن يقول له: أتشهد بكذا وكذا؟ مخافة أن يقول: نعم, ولكن يدعه حتى يأتي بما عنده من الشهادة, فإن كانت شهادة قاطعة أنفذها, وإن كانت غير قاطعة ردها, وكذلك الحدود.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حما درحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک چور لا یا گیا تو انہوں نے پوچھا تم نے چوری کی کہونہیں کی اس نے کہا نہیں کی تو آپ نے اسے چھوڑ دیا۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمارے نزدیک حاکم کے لئے ایسا کہنا مناسب نہیں کہ کیا تم نے چوری کی بلکہ وہ خاموش رہے حتیٰ کہ وہ شخص اقرار کرے یا اسے چھوڑ دے۔‘‘حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ ان دونوں حضرات نے دونوں چوروں سے جو کہا تھا کہ کہو چوری نہیں کی تو اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے ان سے پوچھا کیا تم نے چوری کی تو یہ اس بات کا ڈر ہوا کہ وہ دونوں ہاں کے ساتھ جواب دیں ۔ کیونکہ ان سے پوچھا گیا تھا اور (ہوسکتا ہے )انہوں نے چوری نہ کی ہو حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اس گواہ کے بارے میں بھی یہی فرماتے ہیں جو حاکم کے پاس گواہی دیتا ہے کہ حاکم کے لئے جائز نہیں کہ اس سے کہے کہ کیا تو فلاں فلاں بات کی گواہی دیتا ہے اسے ڈرنا چا ہے کہ کہیں وہ ہاں کہ دے بلکہ ایسے چھوڑ دے حتی ٰ کہ وہ اس شہادت کو لائے جو اس کے پاس ہے پس اگر قطعی شہادت ہو تو اسے نافذ کر دے اور غیر قطعی ہوتو اسے رد کر دے حدود کاحکم بھی یہی ہے ۔“

لاَ فَخَلَّى سَبِيلَهُ. ← أَسَرَقْتَ؟ قُلْ: لاَ، ← أتي أبو مسعود الأنصاري بسارق ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 631

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [108] بَابُ حد من قطع الطريق أو سرق · حديث 632

632 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: إذا خرج #549# الرجل فقطع الطريق, فأخذ المال وقتل, فللوالي أن يقتله أية قتلة شاء, إن شاء قتله صلبا, وإن شاء قتله بغير قطع ولا صلب, وإن شاء قطع يده ورجله من خلاف ثم قتله, وإن أخذ المال ولم يقتل قطع يده ورجله من خلاف, فإن لم يأخذ المال ولم يقتل أوجع عقوبة وحبس حتى يحدث خيرا. قال محمد: وهذا كله قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى, وبه نأخذ, إلا في خصلة واحدة: إذا قتل وأخذ المال قتل صلبا, ولم تقطع يده ولا رجله, وإذا اجتمع حدان أحدهما يأتي على صاحبه بدئ بالذي يأتي على صاحبه, ودرئ الآخر.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب کوئی شخص باہر نکلے اور ڈاکہ ڈالے اور مال بھی لوٹے اورقتل بھی کر دے تو حکمران کو اختیار ہے کہ اسے جس طرح چاہے قتل کرے چاہے تو سولی چڑہا دے اور چاہے تو ہاتھ کاٹنے اور سولی چڑ ہائے بغیرقتل کر دے اگر چاہے تو اس کا ہاتھ اور پاؤں ایک دوسرے کے خلاف کاٹے ( دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ) پھر اسے قتل کرے۔“ اور اگر اس نے مال لیالیکن قتل نہیں کیا تو اس کا ہاتھ اور پاؤں الٹ کاٹے اور اگر مال بھی نہیں لیا اورقتل بھی نہیں کیا (محض خوف زدہ کیا )تو اسے دردناک سزادے اور قید کرے حتی ٰ کہ بھلائی ظاہر ہو۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! یہ سب حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے اور ہم بھی اس بات کو اختیار کرتے ہیں البتہ ایک بات میں سب کا اختلاف ہے کہ اگر وہ قتل بھی کرے اور مال بھی لے تو اسے سولی چڑ ہا کرقتل کیا جائے اور اس کے ہاتھ پاؤں نہ کاٹے جائیں اور جب دوسزائیں جمع ہو جا ئیں ان میں سے ایک اس کی جان کوختم کرتی ہوتو آغاز اس سے کرے اور دوسری ساقط ہو جائے گی۔‘‘

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 632

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [108] بَابُ حد من قطع الطريق أو سرق · حديث 633

633 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في سارق سرق, فأخذ فانفلت, ثم سرق فأخذ الثانية قال: يقطع. قال محمد: وبه نأخذ, ولا نرى عليه إلا قطعا واحدا, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں جو چوری کرنے پر پکڑا جائے پھر بھاگ جائے پھر چوری کرے اور دوبارہ پکڑا جائے تو اس کا صرف ہاتھ کاٹا جائے ۔‘‘(پاؤں نہ کاٹے جائیں) حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اس بات کو اختیار کرتے ہیں ہم صرف ایک بار اس کا ہاتھ کاٹناجائز سمجھتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

يُقْطَعُ. ← إبراهيم في سارق سرق, فأخذ فانفلت, ثم سرق فأخذ الثانية ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 633

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [108] بَابُ حد من قطع الطريق أو سرق · حديث 634

634 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا رجل عن الحسن البصري, عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال: لا يقطع مختلس. #550# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے ایک شخص نے بیان کیا وہ حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں اچکنے والے کا ہاتھ نہ کاٹا جائے ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔‘‘ (کیونکہ یہ سرقہ کے معنی میں نہیں ہے)

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← لا يقطع مختلس. ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، ← رَجُلٌ: ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 634

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter