كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [93] بَابُ من قتل فعفا بعض الأولياء · حديث 590
590 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه أتي برجل قد قتل عمدا فأمر بقتله, فعفا بعض الأولياء, فأمر بقتله, فقال عبد الله بن مسعود رضي الله عنه: كانت النفس لهم جميعا, فلما عفا هذا أحيا النفس فلا يستطيع أن يأخذ حقه, يعني الذي لم يعف حتى يأخذ حق غيره, قال: فما ترى؟ قال: أرى أن تجعل الدية عليه في ماله, وترفع عنه حصة الذي عفا, قال عمر رضي الله عنه: وأنا أرى ذلك. قال محمد: وأنا أرى ذلك, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.
حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آ دمی لا یا گیا جس نے کسی کو جان بوجھ کرقتل کیا تھا تو آپ نے اس ( قاتل )کوقتل کرنے کا حکم دیا پس مقتول کے بعض اولیا ء (ورثاء) نے اسے معاف کر دیا تو آپ نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا ۔ ‘‘حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا قصاص ان سب کا حق تھا تو جس نے معاف کر دیا تو اس کی زندگی کو باقی رکھا اب ( جس نے معاف نہیں کیا )وہ اپنا حق نہیں لے سکتا حتی کہ دوسرے کا حق بھی لے حضرت عمر فا روق رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ کی رائے کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا اس کے مال کی دیت لازم کر دیں اور جس نے معاف کیا اس کا حصہ نکال لیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرا بھی یہی خیال ہے۔“حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“
إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ
Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 590
