كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [95] بَابُ من وجد في داره قتيل · حديث 594
594 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في الرجل يطرق الرجل في داره فيصبح ميتا, فيدعي صاحب الدار أنه قاتله, وأنه كابره فلذلك قتله, قال: ينظر في المقتول, فإن كان داعرا يتهم بالسرقة بطل دمه, وكانت عليه الدية, وإن كان لا يتهم في شيء من ذلك, ولا يعلم منه إلا خير قتل به, وإن ادعى صاحب الدار أنه وجده على بطن امرأته فلذلك قتله, قال: ينظر فإن كان داعرا يتهم بالزنا بطل القصاص, وكانت عليه الدية, وإن كان لا يتهم في شيء من ذلك, ولا يعلم منه إلا خير قتل هذا به. قال محمد: وبهذا كله نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى في السرقة, وأما الفجور فلا أحفظ ذلك عنه.
حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ کوئی شخص رات کو کسی کے گھر آئے اور صبح وہ میت کی صورت میں ہواور گھر والا دعویٰ کرے کہ وہی (گھر والا) اس کا قاتل ہے اور اس نے اس دشمنی کی بنیاد پرقتل کیا ہے تو وہ فرماتے ہیں مقتول کو دیکھا جائے اگر وہ فسادی تھا اس پر چوری کی تہمت آ سکتی ہے تو اس کا خون رائیگاں جائے گا اور اس (قاتل) پر دیت ہوگی اور اگر اس پر کوئی تہمت نہیں آ سکتی اور اس سے صرف بھلائی ہی معلوم ہوسکتی ہے تو اس ( قاتل )کو اس کے بدلے میں قتل کیا جائے ۔‘‘ اور اگر گھر والا یہ دعویٰ کرے کہ اس نے اسے اپنی بیوی کے پیٹ پر پایا تھا اس لئے اسے قتل کر دیا تو دیکھا جائے اگر وہ فسادی خبیث تھا اس پر زنا کی تہت آتی تھی تو قصاص باطل ہو جائے گا اور اس (قاتل) پر دیت لازم ہوگی اور اگر اس پر اس قسم کی کوئی تہمت نہیں آتی اور اس کے بارے میں بھلائی کا ہی علم ہوتا ہے تو اس کے بدلے میں قتل کر دیا جائے ۔“حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم ان تمام باتوں کو اختیار کرتے ہیں اور چور کے بارے میں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے البتہ زنا کے بارے میں مجھے ان سے کوئی بات یادنہیں۔“
حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ
Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 594
