554 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: ما أصيب من ذلك من شيء عمدا ففيه القصاص, وما لم يستطع فيه القصاص ففيه الدية, فإن كان خطأ فخمسة أسنان من الإبل, فإن كان شبه العمد فأربعة أسنان من #487# الإبل, وشبه العمد في الجراحات كل شيء تعمدت ضربه بسلاح أو غيره ولم يستطع فيه القصاص ففيه الدية مغلظة.
قال محمد: وبهذا كله كان يأخذ أبو حنيفة رحمه الله تعالى, وبه نأخذ نحن أيضا إلا في خصلة واحدة, ما كان من شبه العمد فثلاثة أسنان من الإبل: من الحقاق سن, ومن الجذاع سن, وسن ثالث ما بين الثنية إلى بازل عامها كلها خلفة, وكان أبو حنيفة يقول: أربعة أسنان من الإبل: سن من بنات المخاض, وسن من بنات اللبون, وسن من الحقاق, وسن من الجذاع, وأما الخطاء فقولنا وقوله فيه واحد: خمسة أسنان من الإبل: سن من بني المخاض, وسن من بنات المخاض, وسن من بنات اللبون, وسن من الحقاق, وسن من الجذاع, وهو قول عبد الله بن مسعود رضي الله عنه,
#488#
وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم أيضا ما قلنا في شبه العمد, فقال في خطبته يوم فتح مكة: ألا إن قتيل خطأ العمد قتيل السوط والعصا فيه مئة من الإبل, ثلاثون حقة, وثلاثون جذعة, وأربعون ما بين ثنية إلى بازل عامها كلها خلفة.
امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ان میں سے کسی چیز کو قصد اًنقصان پہنچائے تواس میں قصاص ہے اور قصاص ممکن نہ ہوتو اس میں دیت ہوگی ۔“ اور اگر غلطی سے ہوتو عمر کے اعتبار سے پانچ قسم کے اونٹ اگر شبہ عمدہ ہوتو عمر کے اعتبار سے چار قسم کے اونٹ ہوں گے اور زخموں میں شبہ عمد یہ یہ ہے کہ آلہ قتل سے ارادتاً زخمی کرے اور اس میں قصاص نہ ہوسکتا ہو تو اس میں دیت مغلظہ ہوگی ۔‘‘ (دیت مغلظہ کی تفصیل حدیث نمبر ۵۶۸ کے تحت حاشیہ میں دیکھیں)حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ ان تمام باتوں کو اختیارفر ماتے تھےاور ہم بھی ان تمام باتوں پر عمل کرتے ہیں۔ لیکن ایک بات میں اختلاف ہے جو شبہ عمد سے ہو تو عمر کی اعتبار سے تین قسم کے اونٹ لازم ہوں گےحقے ‘جذعے اور وہ جو ثینہ سے بازل عام تک ہو اور یہ سب حاملہ اونٹنیاں ہوں۔‘‘اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں چار اونٹ ہوں گئے ایک بنت مخاض ، ایک بنت لبون ، ایک حقہ اور ایک جذعہ ‘جب کہ قتل خطا میں ہم سب کا ایک ہی قول ہے پانچ اونٹ ہوں ایک ابن مخاض سے ایک بنت ہون سے ایک حقہ سے اور ایک جذعہ سے ہوگا۔“حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے جو کچھ ہم نے شبہ عمد سے کے سلسلے میں کہا ہے آپ نے فتح مکہ کے موقع پرخطبہ دیتے ہوئےفرمایا۔‘‘سنو! خطا ءعمد میں مقتول وہ ہے جوکوڑے یالاٹھی سے قتل کیا جائے اس میں ایک سواونٹ ہیں تیس حقےتیس جذ عہ اور چالیس جو ثنیہ سے بازل عام تک ہو اور سب اونٹنیاں حاملہ ہوں ۔
إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ