384 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا علقمة بن مرثد الحضرمي, عن يحيى بن يعمر قال: بينا نحن في مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ رأيت ابن عمر رضي الله عنهما قاعدا في جانبه, فقلت لصاحبي: هل لك أن تأتي ابن عمر فتسأله عن القدر؟ فقال: نعم فقلت: دعني حتى أكون أنا الذي أسأله, فإني أرفق به منك, فأتيناه فقعدنا إليه فقلت له: يا أبا عبد الرحمن, إنا قوم نتقلب في هذه الأرضين, فربما قدمنا البلد به قوم يقولون: لا قدر, قال: أبلغوهم أني منهم بريء, وأني لو أجد أعوانا لجاهدتهم, قال: ثم أنشأ يحدثنا قال: بينا نحن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم في ناس من أصحابه إذ أقبل شاب جميل, حسن اللمة, طيب الريح, عليه ثياب بيض فقال: السلام عليك يا رسول الله, السلام عليكم, فرد النبي صلى الله عليه وسلم ورددنا, ثم قال: أدنو يا رسول الله؟ فقال: ادنه, فدنا رتوة أو رتوتين, ثم قام موقرا له, ثم قال: أدنو يا رسول الله؟ فدنا رتوة أو رتوتين, ثم قام موقرا له, ثم قال: أدنو يا رسول الله؟ فقال: ادنه, حتى جلس, فألصق ركبتيه بركبة رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال: أخبرني عن الإيمان #374# ما هو؟ قال: الإيمان بالله, وملائكته, وكتبه, ورسله, واليوم الآخر, والقدر خيره وشره من الله, قال: صدقت, فتعجبنا لقوله: صدقت, كأنه يعلم, قال: فأخبرني عن شرائع الإسلام ما هي؟ قال: إقام الصلاة, وإيتاء الزكاة, وحج البيت, وصوم شهر رمضان, والاغتسال من الجنابة, قال: صدقت, فتعجبنا لقوله: صدقت كأنه يعلم, قال: فأخبرني عن الإحسان ما هو؟ قال: تعمل لله كأنك تراه فإن لم تكن تراه فإنه يراك, قال: صدقت, فتعجبنا لقوله: صدقت كأنه يعلم. قال فأخبرني عن قيام الساعة متى هو؟ قال: ما المسؤول عنها بأعلم من السائل, قال: صدقت, فتعجبنا لقوله صدقت, فانصرف ونحن نراه, إذ قال النبي صلى الله عليه وسلم: علي بالرجل, فسرنا في إثره فما ندري أين توجه, ولا رأينا منه شيئا, فذكرنا ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال: هذا جبريل أتاكم يعلمكم معالم دينكم, ما أتاني في صورة قط إلا وأنا أعرفه فيها قبل هذه الصورة.
حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے علقمہ بن مرشد الحضرمی رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ یحیی ٰبن یعمر رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں اس دوران کہ ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں تھے تو میں نے اچھانک دیکھا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا اس کے ایک کنارے میں تشریف فرما ہیں میں نے اپنے ساتھی سے کہا کیا تم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر ان سے تقدیر کے بارے میں پوچھ سکتے ہو؟ اس نے کہا جی ہاں ! میں نے کہا ر ہنے دو میں خود جا کر ان سے پوچھتا ہوں تمہاری نسبت میرا ان سے زیادہ تعارف ہے پس ہم ان کے پاس آئے اور ان کے پاس بیٹھ گئے ۔“ میں نے عرض کیا اے ابوعبد الرحمن ٰرحمتہ اللہ علیہ ! ہم ایسی قوم ہیں کہ اس زمین پر سفر کر تے رہتے ہیں تو بعض اوقات ہم ایسے شہر میں جاتے ہیں جہاں ایک قوم تقدیر کا انکار کر نے والی ہوتی ہے ۔“ انہوں نے فرمایا ان لوگوں سے کہہ دو کہ میرا ان سے کوئی تعلق نہیں اور اگر مجھے مددگار ( ساتھی ) مل گئے تو میں ان کے خلاف جہاد کروں گا ۔“ راوی فرماتے ہیں ! پھر انہوں نے ہم سے بیان کرنا شروع کیا فر مایا ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صحابہ کرام کی ایک جماعت میں تھے کہ اچانک ایک خوبصورت نو جوان آیا اس کی زلفیں بہت حسین تھیں اور خوشبوبھی اچھی تھی ‘ اس نے سفید لباس پہن رکھا تھا اس نے کہا السلام علیک یا رسول اللہ ! ’’ السلام علیکم ‘‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور ہم نے بھی جواب دیا پھر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں قریب ہو جاؤں؟ آپ نے فرمایا قریب ہو جاؤ تو وہ ایک یا دو قدم قریب ہوا پھر وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کرتے ہوئے کھڑا ہوا پھر پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں قریب ہو جاؤں؟ حتی کہ وہ بیٹھ گیا اور اس نے اپنے گھٹنوں کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں سے ملا دیا پھر کہا مجھے ایمان کے بارے میں بتائیں کہ وہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا یہ کہ تم اللہ تعالی ٰاس کے فرشتوں اس کی کتابوں اس کے رسولوں آخرت کے دن اور تقدیر کے خیر وشر کی دل سے تصدیق کرو اس نے کہا آپ نے سچ فرمایا۔“ ہمیں اس قول ’’ آپ نے سچ فر مایا ‘‘ پر تعجب ہوا گویا وہ جانتا ہے ‘ اس نے کہا مجھے ارکان اسلام کے بارے میں بتائیے؟ آپ نے فرمایا نماز قائم کرنا ‘ زکوۃ ادا کرنا ‘ بیت اللہ شریف کا حج کرنا ‘ ماہ رمضان کے روزے رکھنا اور جنابت سے غسل کرنا ۔“ اس نے کہا آپ نے سچ فرمایا اور راوی فرماتے ہیں ! ہمیں اس کی تصدیق پر تعجب ہوا گویا وہ جانتا ہے۔ ‘‘ (پھر ) اس نے کہا مجھے احسان کے بارے میں بتائیے کہ وہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا اللہ کے لئے عمل کرو گویا اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھتے ہوتو وہ تمہیں دیکھتا ہے ۔اس نے کہا آپ نے سچ فرمایا ہمیں اس کی تصدیق پر تعجب ہوا گویا وہ جانتا ہے۔“ پھر اس نے کہا مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے کہ کب قائم ہوگی آپ نے فرمایا جس سے پوچھا گیا وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا اس نے کہا آپ نے ٹھیک فرمایا ہمیں اس کے قول آپ نے سچ فرمایا پر تعجب ہوا وہ چلا گیا اور ہم اسے دیکھ رہے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کو بلاؤ ہم اس کے پیچھے گئے لیکن ہمیں پتہ نہ چلا کہ وہ کدھر گیا ہے اور نہ ہم نے اس کی کوئی علامت پائی ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا یہ جبرئیل (علیہ السلام) تھے جو تمہارے پاس آئے تھے وہ تمہیں تمہارے دین کے احکام سکھانے آئے تھے ‘ اس صورت سے وہ پہلے جس صورت میں بھی آئے میں نے ان کو پہچان لیا۔ ‘‘
یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ الْحَضْرَمِيُّ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ