Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [19] بَابُ التصديق بالقدر · حديث 382

382 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا أبو الزبير, عن جابر بن عبد الله الأنصاري رضي الله عنه, عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: سأله سراقة بن مالك بن جعشم المدلجي رضي الله عنه فقال: يا رسول الله, أخبرنا عن عمرتنا هذه ألعامنا هذا أم للأبد؟ فقال: للأبد, قال: أخبرنا عن ديننا هذا كأنما خلقنا له, في أي شيء العمل؟ في شيء قد جرت به الأقلام, وثبتت به المقادير أم في شيء نستأنف فيه العمل؟ قال: في شيء قد جرت به الأقلام وثبتت به المقادير, قال: ففيم العمل يا رسول الله؟ فقال: اعملوا فكل عامل ميسر, من كان من أهل #372# الجنة يسر لعمل أهل الجنة, ومن كان من أهل النار يسر لعمل أهل النار, ثم تلا هذه الآية: {فأما من أعطى واتقى. وصدق بالحسنى. فسنيسره لليسرى. وأما من بخل واستغنى. وكذب بالحسنى. فسنيسره للعسرى}.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے ابوالزبیر رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں حضرت سراقہ بن مالک بن جعشم المدلجی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے اس عمرہ کے بارے میں ہمیں بتائیں کیا یہ اسی سال کے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے ہے؟ آپ نے فرمایا ہمیشہ کے لئے ہے پوچھا ہمارے دین کے بارے میں بتائے گویا کہ ہم اس کے لئے پیدا کئے گئے تو عمل کی کیا ضرورت ہے گویا یہ ایسے کام کے بارے میں ہے جس کے ساتھ قلمیں جاری ہو چکی ہیں اور اس کے ساتھ تقدیر ثابت ہو چکی ہیں ۔“ یا اس چیز میں ہے جس میں ہم عمل کا آغاز کر یں گے فرمایا اس میں جس میں قلمیں چل چکی ہیں اور تقدیریں ثابت ہو چکی ہیں پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر عمل کی کیا ضرورت ہے؟ فرمایا تم عمل کرو ہر عمل والے کے لئے عمل آسان کر دیا گیا جو آ دمی اہل جنت ہے اسے اعمال جنت کے لئے آسانی دی گئی اور جو جہنمیوں میں سے ہے اس کے لئے اہل جہنم کے کام آسان ہیں پھر یہ آیت پڑھی۔“ فاما من أعطى واتقى ۔وصـدق بالحسنى ۔ فسنيسرہ لليسرى ۔ واما من بخل واستغنى ۔وكذب بالحسنی۔ فسنيسّرہ للعشرٰي۔ تو وہ جس نے دیا اور پر ہیز گار کی اور سب سے اچھی (ملت ) کو سچ مانا تو بہت جلد ہم اسے آسانی مہیا کر دیں گے اور وہ جس نے بخل کیا اور بے پرواہ بنا اور سب سے اچھی (ملت ) کو جھٹلایا تو بہت جلد ہم اسے دشواری مہا کریں گے۔“

سأله سراقة بن مالك بن جعشم المدلجي فقال: ← النَّبِيِّ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 382

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [19] بَابُ التصديق بالقدر · حديث 383

383 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن عبد العزيز بن رفيع, عن مصعب بن سعد بن أبي وقاص, عن أبيه رضي الله عنه, عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ما من نفس إلا قد كتب الله مدخلها, ومخرجها, وما هي لاقية. فقال رجل من الأنصار: ففيم العمل يا رسول الله؟ قال: كل من كان من أهل الجنة يسر لعمل أهل الجنة, ومن كان من أهل النار يسر لعمل أهل النار. فقال الأنصاري: الآن حق العمل.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں !ہمیں حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت عبدالعزیز بن ربیع رحمتہ اللہ علیہ سے وہ حضرت معصب بن سعد بن ابی وقاص رحمتہ اللہ علیہ سے وہ اپنے والد (حضرت سعد بن ابی وقاص رحمتہ اللہ علیہ ) سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالی ٰنے ہرنفس کے داخل ہونے اور نکلنے کی جگہ اور جو کچھ اسے ملنے والا ہے (سب کچھ ) لکھ دیا ہے انصار میں سے ایک شخص نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر عمل کی کیا ضرورت ہے؟ فرمایا جو جنتی ہو گا اس کے لئے اہل جنت کے اعمال آسان کر دیئے گئے اور جو جہنمیوں میں سے ہے اس کے لئے جہنمیوں کے اعمال آسان کر دیئے گئے انصار نے کہا اب عمل ثابت ہو گیا۔“

الله مدخلها ومخرجها وما هي لاقية فقال رجل من الأنصار ففيم العمل ← مَا مِنْ نَفْسٍ إِلَّا قَدْ ← النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← مُصْعَبَ بْنَ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 383

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [19] بَابُ التصديق بالقدر · حديث 384

384 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا علقمة بن مرثد الحضرمي, عن يحيى بن يعمر قال: بينا نحن في مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ رأيت ابن عمر رضي الله عنهما قاعدا في جانبه, فقلت لصاحبي: هل لك أن تأتي ابن عمر فتسأله عن القدر؟ فقال: نعم فقلت: دعني حتى أكون أنا الذي أسأله, فإني أرفق به منك, فأتيناه فقعدنا إليه فقلت له: يا أبا عبد الرحمن, إنا قوم نتقلب في هذه الأرضين, فربما قدمنا البلد به قوم يقولون: لا قدر, قال: أبلغوهم أني منهم بريء, وأني لو أجد أعوانا لجاهدتهم, قال: ثم أنشأ يحدثنا قال: بينا نحن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم في ناس من أصحابه إذ أقبل شاب جميل, حسن اللمة, طيب الريح, عليه ثياب بيض فقال: السلام عليك يا رسول الله, السلام عليكم, فرد النبي صلى الله عليه وسلم ورددنا, ثم قال: أدنو يا رسول الله؟ فقال: ادنه, فدنا رتوة أو رتوتين, ثم قام موقرا له, ثم قال: أدنو يا رسول الله؟ فدنا رتوة أو رتوتين, ثم قام موقرا له, ثم قال: أدنو يا رسول الله؟ فقال: ادنه, حتى جلس, فألصق ركبتيه بركبة رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال: أخبرني عن الإيمان #374# ما هو؟ قال: الإيمان بالله, وملائكته, وكتبه, ورسله, واليوم الآخر, والقدر خيره وشره من الله, قال: صدقت, فتعجبنا لقوله: صدقت, كأنه يعلم, قال: فأخبرني عن شرائع الإسلام ما هي؟ قال: إقام الصلاة, وإيتاء الزكاة, وحج البيت, وصوم شهر رمضان, والاغتسال من الجنابة, قال: صدقت, فتعجبنا لقوله: صدقت كأنه يعلم, قال: فأخبرني عن الإحسان ما هو؟ قال: تعمل لله كأنك تراه فإن لم تكن تراه فإنه يراك, قال: صدقت, فتعجبنا لقوله: صدقت كأنه يعلم. قال فأخبرني عن قيام الساعة متى هو؟ قال: ما المسؤول عنها بأعلم من السائل, قال: صدقت, فتعجبنا لقوله صدقت, فانصرف ونحن نراه, إذ قال النبي صلى الله عليه وسلم: علي بالرجل, فسرنا في إثره فما ندري أين توجه, ولا رأينا منه شيئا, فذكرنا ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال: هذا جبريل أتاكم يعلمكم معالم دينكم, ما أتاني في صورة قط إلا وأنا أعرفه فيها قبل هذه الصورة.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے علقمہ بن مرشد الحضرمی رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ یحیی ٰبن یعمر رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں اس دوران کہ ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں تھے تو میں نے اچھانک دیکھا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا اس کے ایک کنارے میں تشریف فرما ہیں میں نے اپنے ساتھی سے کہا کیا تم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر ان سے تقدیر کے بارے میں پوچھ سکتے ہو؟ اس نے کہا جی ہاں ! میں نے کہا ر ہنے دو میں خود جا کر ان سے پوچھتا ہوں تمہاری نسبت میرا ان سے زیادہ تعارف ہے پس ہم ان کے پاس آئے اور ان کے پاس بیٹھ گئے ۔“ میں نے عرض کیا اے ابوعبد الرحمن ٰرحمتہ اللہ علیہ ! ہم ایسی قوم ہیں کہ اس زمین پر سفر کر تے رہتے ہیں تو بعض اوقات ہم ایسے شہر میں جاتے ہیں جہاں ایک قوم تقدیر کا انکار کر نے والی ہوتی ہے ۔“ انہوں نے فرمایا ان لوگوں سے کہہ دو کہ میرا ان سے کوئی تعلق نہیں اور اگر مجھے مددگار ( ساتھی ) مل گئے تو میں ان کے خلاف جہاد کروں گا ۔“ راوی فرماتے ہیں ! پھر انہوں نے ہم سے بیان کرنا شروع کیا فر مایا ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صحابہ کرام کی ایک جماعت میں تھے کہ اچانک ایک خوبصورت نو جوان آیا اس کی زلفیں بہت حسین تھیں اور خوشبوبھی اچھی تھی ‘ اس نے سفید لباس پہن رکھا تھا اس نے کہا السلام علیک یا رسول اللہ ! ’’ السلام علیکم ‘‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور ہم نے بھی جواب دیا پھر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں قریب ہو جاؤں؟ آپ نے فرمایا قریب ہو جاؤ تو وہ ایک یا دو قدم قریب ہوا پھر وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کرتے ہوئے کھڑا ہوا پھر پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں قریب ہو جاؤں؟ حتی کہ وہ بیٹھ گیا اور اس نے اپنے گھٹنوں کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں سے ملا دیا پھر کہا مجھے ایمان کے بارے میں بتائیں کہ وہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا یہ کہ تم اللہ تعالی ٰاس کے فرشتوں اس کی کتابوں اس کے رسولوں آخرت کے دن اور تقدیر کے خیر وشر کی دل سے تصدیق کرو اس نے کہا آپ نے سچ فرمایا۔“ ہمیں اس قول ’’ آپ نے سچ فر مایا ‘‘ پر تعجب ہوا گویا وہ جانتا ہے ‘ اس نے کہا مجھے ارکان اسلام کے بارے میں بتائیے؟ آپ نے فرمایا نماز قائم کرنا ‘ زکوۃ ادا کرنا ‘ بیت اللہ شریف کا حج کرنا ‘ ماہ رمضان کے روزے رکھنا اور جنابت سے غسل کرنا ۔“ اس نے کہا آپ نے سچ فرمایا اور راوی فرماتے ہیں ! ہمیں اس کی تصدیق پر تعجب ہوا گویا وہ جانتا ہے۔ ‘‘ (پھر ) اس نے کہا مجھے احسان کے بارے میں بتائیے کہ وہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا اللہ کے لئے عمل کرو گویا اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھتے ہوتو وہ تمہیں دیکھتا ہے ۔اس نے کہا آپ نے سچ فرمایا ہمیں اس کی تصدیق پر تعجب ہوا گویا وہ جانتا ہے۔“ پھر اس نے کہا مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے کہ کب قائم ہوگی آپ نے فرمایا جس سے پوچھا گیا وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا اس نے کہا آپ نے ٹھیک فرمایا ہمیں اس کے قول آپ نے سچ فرمایا پر تعجب ہوا وہ چلا گیا اور ہم اسے دیکھ رہے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کو بلاؤ ہم اس کے پیچھے گئے لیکن ہمیں پتہ نہ چلا کہ وہ کدھر گیا ہے اور نہ ہم نے اس کی کوئی علامت پائی ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا یہ جبرئیل (علیہ السلام) تھے جو تمہارے پاس آئے تھے وہ تمہیں تمہارے دین کے احکام سکھانے آئے تھے ‘ اس صورت سے وہ پہلے جس صورت میں بھی آئے میں نے ان کو پہچان لیا۔ ‘‘

یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ الْحَضْرَمِيُّ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 384

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [19] بَابُ التصديق بالقدر · حديث 385

385 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن عبد الأعلى التيمي, عن أبيه, عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: بينا هو يخطب الناس بالجابية إذ قال في خطبته: إن الله يضل من يشاء, ويهدي من يشاء, فقال قس من تلك القسوس: ما يقول أمير المؤمنين؟ قالوا: يقول: إن الله يضل من يشاء, ويهدي من يشاء. فقال: بركشت الله أعدل من أن يضل أحدا, فبلغت عمر بن الخطاب رضي الله عنه مقالته, فقال: كذبت بل الله أضلك, والله لولا عهدك لضربت عنقك.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مقام جابیہ ( دمشق کی ایک بستی ) میں خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ آپ نے خطبہ میں فرمایا اللہ تعالیٰ جسے چاہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہے ہدایت دیتا ہے۔“ تو وہاں علماء میں سے ایک عالم نے پوچھا امیر المومنین کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا وہ فرماتے ہیں بے شک اللہ تعالی ٰجس کو چا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اس نے کہا وہ پھر گیا اللہ تعالی ٰکسی کو گمراہ کرنے سے زیادہ عدل کرنے والا ہے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تک اس کی بات پہنچی تو آپ نے فرمایا تم نے جھوٹ کہا بلکہ اللہ تعالی ٰنے تمہیں گمراہ کر دیا اگر تم سے معاہدہ نہ ہوتا تو میں تمہاری گردن مار دیتا۔ ‘‘

بركشت الله أعدل من أن يضل أحدا, فبلغت عمر بن الخطاب مقالته, ← إن الله يضل من يشاء, ويهدي من يشاء. ← أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ. ← قس من تلك القسوس: ما ← في خطبته: إن الله يضل من يشاء, ويهدي من يشاء, ← بينا هو يخطب الناس بالجابية إذ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الأَعْلَى التَّيْمِيِّ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 385

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [19] بَابُ التصديق بالقدر · حديث 386

386 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا يزيد بن عبد الرحمن, عن أبي وائلة أو ابن واثلة (شك محمد) عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنهما قال: تكون النطفة في الرحم أربعين يوما, ثم تكون علقة أربعين يوما, ثم #377# تكون مضغة أربعين يوما, ثم ينشأ خلقه, فيقول: رب أذكر أو أنثى, شقي أو سعيد؟ وما رزقه؟ قال محمد: وبه نأخذ, الشقي من شقي في بطن أمه, والسعيد من وعظ بغيره.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے یزید بن عبدالرحمن ٰرحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا انہوں نے ابو واثلہ یا ابن واثلہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ( حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ کو شک ہے ) وہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا مادہ منویہ رحم میں چالیس دن ٹھہرتا ہے پھر جما ہوا خون بن جاتا ہے پھر گوشت کا لوتھڑا ہو جاتا ہے پھر اللہ تعالی ٰاس کی تخلیق فرماتا ہے پھر وہ (فرشتہ) کہتا ہے اے میرے رب ! مذکر ہے یا مونث ،بدبخت ہے یا نیک بخت؟ اور اس کا رزق کیا ہے؟ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں بد بخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں بدبخت لکھا گیا ہے اور نیک بخت وہ ہے جس کو اس کے غیر سے نصیحت حاصل ہوتی ہے ۔“

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أبي وائلة أو ابن واثلة (شك محمد) ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 386

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter