كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [66] بَابُ الصَلَاةِ في الْكُسُوفِ · حديث 222
222 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمَا وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّاسُ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ» ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ كَانَ الدُّعَاءُ حَتَّى انْجَلَتْ " #238# قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَلَا نَرَى إِلَّا رَكْعَةً وَاحِدَةً فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، وَسَجْدَتَيْنِ عَلَى صَلَاةِ النَّاسِ فِي غَيْرِ ذَلِكَ، وَنَرَى أَنْ يُصَلُّوا جَمَاعَةً فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ، وَلَا يُصَلِّي جَمَاعَةً إِلَّا الْإِمَامُ الَّذِي يُصَلِّي بِهِمُ الْجُمُعَةَ، فَأَمَّا أَنْ يُصَلِّيَ النَّاسُ فِي مَسَاجِدِهِمْ جماعة فَلَا، وَأَمَّا الْجَهْرُ بِالْقِرَاءَةِ، فَلَمْ يَبْلُغْنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَهَرَ #239# بِالْقِرَاءَةِ فِيهَا، وَبَلَغَنَا أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ بِالْكُوفَةِ، وَأَحَبُّ إِلَيْنَا أَنْ لَا يُجْهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، وَأَمَّا كُسُوفُ الْقَمَرِ فَإِنَّمَا يُصَلِّي النَّاسُ وُحْدَانًا، وَلَا يُصَلُّونَ جَمَاعَةً، لَا الْإِمَامُ وَلَا غَيْرُهُ وَكَذَلِكَ الْأَفْزَاعُ كُلُّهَا، وَإِذَا انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي سَاعَةٍ لَا يُصَلَّى فِيهَا عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، أَوْ نِصْفِ النَّهَارِ، أَوْ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَلَا صَلَاةَ فِي تِلْكَ السَّاعَةِ، وَلَكِنِ الدُّعَاءُ حَتَّى تَنْجَلِيَ أَوْ تَحِلَّ الصَّلَاةُ فتُصلى، وَقَدْ بَقِيَ مِنَ الْكُسُوفِ شَيْءٌ
حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن ہوا اور اسی دن آپ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تھا لوگوں نے کہا حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کے وصال کی وجہ سے سورج گرہن ہوا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے صحابہ کرام کو خطبہ دیا اور فرمایا سورج اور چاند اللہ تعالی ٰکی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت (یازندگی ) کی وجہ سے ان کو گرہن نہیں لگتا۔ ‘‘ پھر آپ نے دو رکعتیں پڑھانے کے بعد دعا فرمائی حتی کہ سورج روشن ہو گیا ۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں اور ہمارے نز دیک ایک رکعت میں ایک ہی رکوع اور دو سجدے ہیں جس طرح دوسری نمازوں میں ہوتا ہے اور ہمارے نزدیک با جماعت نماز پڑھیں جب سورج گرہن ہو اور وہی شخص نماز پڑھائے جو جمعہ کا امام ہے جہاں باجماعت نماز ہوتی ہے ان مساجد میں پڑھنا ٹھیک نہیں ( البتہ بڑا خطیب اجازت دے تو ٹھیک ہے ) جہاں تک بلند آواز سے قرات کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی بات نہیں پہنچی کہ آپ نے اس میں جہری قرات کی ہو۔“ البتہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت علی بن طالب رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں اس نماز میں جہری قرات فرمائی ہے اور ہمارے نزدیک پسندیدہ ترین بات یہ ہے کہ قرات اونچی آواز سے نہ ہو۔“ جہاں تک سورج گرہن کا تعلق ہے تو لوگ الگ الگ نماز پڑھیں جماعت سے نہ پڑھیں نہ امام اور نہ دوسرے لوگ ‘ اسی طرح جب کسی بھی خوف کی حالت میں نماز پڑھیں تو اکیلے اکیلے پڑھیں‘ اگر سورج گرہن طلوع یا دوپہر کے وقت یا عصر کے بعد ہوتو اس وقت نماز جائز نہیں صرف دعا کریں حتی کہ سورج روشن ہو جائے یا نماز پڑھنا جائز ہو جائے ابھی گرہن باقی ہوتو اب پڑھ سکتے ہیں۔“
إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ
Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 222
