كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [77] بَابُ اسْتِهْلَالِ الصَّبِيِّ وَالصَّلَاةِ عَلَيْهِ · حديث 259
259 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ قَالَ فِي السِّقْطِ: إِذَا اسْتَهَلَّ صُلِّيَ عَلَيْهِ، وَوُرِّثَ، وَإِذَا لَمْ يَسْتَهِلَّ لَمْ يُصَلَّ عَلَيْهِ، وَلَمْ يُوَرَّثْ #270# قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ. وَالِاسْتِهْلَالُ أَنْ يَقَعَ حَيًّا، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله تعالى
حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے نامکمل پیدا ہونے والے بچے کے بارے میں فرمایا اگر وہ آواز نکالے تو اس کی نماز جنازہ بھی پڑھی جائے اور اس کی وراثت بھی ہوگی اور اگر وہ آواز نہ نکالے تو اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے نہ ہی وراثت تقسیم ہوگی ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں استہلال (آواز نکالنے ) کا مطلب یہ ہے کہ زندہ پیدا ہو۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“
إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ
Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 259
