كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [132] بَابُ من أحق بالولد, ومن يجبر على النفقة · حديث 703
703 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: الولد لأمه حتى يستغني, وقال إبراهيم: إذا استغنى الصبي عن أمه في الأكل, والشرب فالأب أحق به. قال محمد: وبه نأخذ, أما الذكر فهي أحق به حتى يأكل وحده, ويشرب وحده, ويلبس وحده, ثم أبوه أحق به, وأما الجارية فأمها أحق بها حتى تحيض, ثم أبوها أحق بها, ولا خيار في ذلك لواحد منهما, فإن تزوجت الأم فلا حق لها في الولد, والجدة أم الأم تقوم مقامها, فإن كان للجدة زوج فكان هو الجد لم تحرم الولد؛ لمكان زوجها, فإن كان لها زوج غير الجد فلا حق لها في الولد, والجدة أم الأب أحق منها إن لم يكن لها زوج, فإن كان لها زوج وهو الجد لم تحرم أيضا الولد؛ لمكان زوجها, إن كان زوجها غير الجد فلا حق لها في الولد, وهذا كله قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.
حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں بچہ ماں کے پاس رہے گا جب تک اس سے بے نیاز نہیں ہو جا تا حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جب بچہ کھانے اور پینے کے اعتبار سے ماں کا محتاج نہ رہے تو باپ کو اس کا زیادہ حق ہے۔‘‘حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں جہاں تک بچے کا تعلق ہے تو ماں اس کا زیادہ حق رکھتی ہے یہاں تک کہ وہ اکیلا کھانے لگے اور خود بخو دلباس پہن سکے پھر اس کے باپ کو اس کا زیادہ حق ہے ۔لیکن بچی کا حق ماں کے پاس اس وقت تک رہتا ہے جب اسے حیض آ جائے پھر باپ کو اس کا زیا دہ حق حاصل ہوتا ہے اس سلسلے میں ان میں سے کسی کو بھی اختیار نہیں ہے پس اگر ماں نکاح کرے تو اب بچے کےلئے اس کا حق باقی نہیں رہے گا ۔ اور نانی ان دونوں کے قائم مقام ہے جب نانی کا خاوند ہو اور اس بچے کا نانابھی ہوتو اب وہ خاوند کی وجہ سے بچے سے محروم نہیں ہوگی (کیونکہ یہ شخص بچے کے لئے نقصان کا باعث نہیں)اور اگر اس کا خاوندبچے کے نانا کے علاوہ ہو تو اب نانی کو بچے کا حق حاصل نہیں ہوگا۔‘‘اور دادی نانی کے مقابلے میں زیادہ حقدار ہوتی ہے اگر اس کا کوئی خاوند نہ ہو پس اگر اس کا خاوند ہو اور وہ اس بچے کا دادا ہو تو بھی وہ خاوند کی وجہ سے بچے سے محروم نہیں رہے گی اور اگر اس کا خاوند دادا کے علاوہ کوئی ہوتو اب دادی کو بچے کاحق حاصل نہیں ہوگا ۔‘‘یہ تمام باتیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک ہیں۔“
أمه في الأكل, والشرب فالأب أحق به. ← إبراهيم: إذا استغنى الصبي ← الولد لأمه حتى يستغني, ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ
Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 703
