كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [145] بَابُ الفرقة بين الأمة وزوجها وولدها · حديث 734
734 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا عبد الله بن الحسن قال: أقبل زيد بن حارثة رضي الله عنه برقيق من اليمن, فاحتاج إلى نفقة ينفق عليهم, فباع غلاما من الرقيق كان معه أمه, فلما قدم على النبي صلى الله عليه وسلم فتصفح الرقيق فبصر بالأم, فقال: ما لي أرى هذه والهة؟ قال: احتجنا إلى نفقة فبعنا ابنا لها, فأمره أن يرجع فيرده. #625# قال محمد: وبهذا نأخذ. نكره أن يفرق بين الوالدة, أو الوالد وولده إذا كان صغيرا, وكذلك الأخوان وكل ذي رحم محرم إذا كانا صغيرين, أو كان أحدهما صغيرا, ولا ينبغي أن يفرق بينهما في البيع, فأما إذا كانوا كبارا كلهم فلا بأس بالفرقة بينهم, وهذا كله قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.
حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے عبداللہ بن حسن رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ فرماتے ہیں حضرت زید بن حارثہ یمن رضی اللہ عنہ سے کچھ غلام لے کر آئے پس وہ ان کے اخراجات کیلئے ضرورت مند ہوئے تو ان میں ایک غلام بیچ دیا جس کے ساتھ اس کی ماں بھی تھی پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے کہ غلاموں کی حالت کو دیکھیں تو آپ نے (اس غلام کی )ماں کو دیکھا تو فرما یا یہ سخت غمگین کیوں ہے؟ انہوں نے عرض کیا ہمیں اخراجات کی ضرورت تھی پس ہم نے اس کے بیٹے کو بیچ دیانبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ اس بیع سے رجوع کر کے اسے واپس کریں۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں ہم اس بات کو مکر وہ سمجھتے ہیں کہ ماں یا باپ اور اس کی اولاد کے درمیان تفریق کی جائے جب بچہ چھوٹا ہو۔“اسی طرح بھائیوں اور ہر ذی رحم محرم کا مسئلہ ہے جب دونوں چھوٹے ہوں یا ان میں سے ایک چھوٹا ہو سودے میں ان دنوں کے درمیان تفریق کرنا مناسب نہیں لیکن جب سب بڑے ہوں تو اب ان میں تفریق کر نے میں کوئی حرج نہیں۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ ان تمام باتوں کے قائل ہیں ۔
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ
Hadith 734
