كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [115] بَابُ شهادة الصبيان · حديث 647
647 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, عن شريح قال: كتب هشام بن هبيرة يسأله عن خمس: عن شهادات الصبيان, وعن جراحات النساء والرجال, وعن دية الأصابع, وعن عين الدابة, والرجل يقر بولده عند الموت؟ فكتب إليه أن شهادة الصبيان بعضهم على بعض جائزة إذا اتفقوا, وجراحات النساء والرجال تستويان في السن والموضحة, وتختلفان فيما سوى ذلك, ودية أصابع اليدين والرجلين سواء, وفي عين الدابة ربع ثمنها, والرجل يقر بولده عند الموت أنه أصدق ما يكون عند الموت. #559# قال محمد: وبهذا كله نأخذ إلا في خصلتين: أحدهما: شهادة الصبيان عندنا باطل اتفقوا أو اختلفوا؛ لأن الله تعالى يقول في كتابه: {وأشهدوا ذوي عدل منكم} {واستشهدوا شهيدين من رجالكم فإن لم يكونا رجلين فرجل وامرأتان ممن ترضون من الشهداء} , فالصبيان ليسوا ممن يوصف أن يكونوا عدولا, ولا ممن يرضا به من الشهداء. والخصلة الأخرى جراحات النساء على النصف من جراحات الرجال في السن, والموضحة وغير ذلك, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.
حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت شریح رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ہشام نے ابن ہبیرہ کو خط لکھ کر پانچ باتوں کے بارے میں سوال کیا (1) بچوں کی گواہیاں (2) عورتوں اور مردوں کے زخم (3) انگلیوں کی دیت (4) جانور کی آنکھ (5) آ دمی موت کے وقت اپنے بچے کا اقرار کرے۔“ تو انہوں نے لکھا کہ بچوں کی ایک دوسرے کے خلاف گواہی جائز ہے جب باہم متفق ہوں عورتوں اور مردوں کے زخم دانتوں اور (ہڈی کو) ظاہر کرنے والے زخم میں برابر ہیں اور اس کے علاوہ میں مختلف ہیں ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کی دیت برابر ہے اور جانور کی آنکھ (پھوڑ نے ) میں اس کی قیمت کا چوتھائی ہے اور آدمی جب موت کے وقت بچے کا اقرار کرے تو وہ موت کے وقت زیادہ سچ بولتا ہے ۔‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم دو باتوں کے علاوہ باقی سب باتوں کو اختیار کر تے ہیں ان میں سے ایک بچوں کی گواہی ہے جو ہمارے نزدیک باطل ہے وہ اتفاق کریں یا اختلاف ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا۔“واشهدوا ذوى عدل منكم (پ ۲۸ الطلاق ۲) اور اپنوں میں سے دو ثقہ (عادل) آدمیوں کو گواہ بناؤ۔(ترجمہ کنز الایمان) اورفرمایا! واستشهدوا شهيدين من رجالكم فإن لم يكونا رجلين فرجل وامراتان ممن ترضون من الشهداء .“(پ۳ البقرہ ۲۸۲۰)اور دو گواہ کر لو اپنے مردوں سے پھر اگر دومرد نہ ہوں تو ایک مر داور دو عورتیں ایسے گواہ جن کو پسند کرو۔(ترجمہ کنز الایمان) تو بچے ان لوگوں میں سے نہیں جن کو عدل سے موصوف کیا جا سکے اور ان گواہوں میں سے جن پر راضی ہوں اور دوسری بات عورتوں کے زخم ہیں وہ دانتوں اور موضحہ زخم (ہڈی کو ظاہر کر نے والے زخم ) اور اس کے علاوہ میں مردوں کے زخم سے نصف ہیں ۔ ‘‘(یعنی ان کی دیت مردوں کی دیت سے نصف ہے ) حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔
إِلَيْهِ ← عين الدابة, والرجل يقر بولده عند الموت؟ ← دية الأصابع, ← جراحات النساء والرجال, ← شهادات الصبيان, ← خمس ← هشام بن هبيرة يسأله ← شُرَيْحٍ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ
Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 647
