كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [75] بَابُ من قال لامرأته: أنت علي حرام · حديث 520
520 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في الرجل يقول لامرأته: أنت علي حرام, إن نوى الطلاق فهي واحدة, وهو أملك برجعتها. قال محمد: وأما في قول أبي حنيفة, فإن نوى الطلاق فهو ما نوى, وإن نوى واحدة فهي واحدة بائن, وإن نوى طلاقا ولم ينو عددا فهي واحدة بائن, وإن نوى اثنتين فهي واحدة بائن, وإن نوى واحدة يملك الرجعة فهي واحدة بائن, وإن نوى ثلاثا فهي ثلاث, لا تحل له حتى تنكح زوجا غيره, وإن لم ينو طلاقا, فهي يمين, #465# وهو مول إن تركها أربعة أشهر لا يقربها بانت بالإيلاء, وإن لم تكن له نية فهو إيلاء أيضا, وإن نوى الكذب فليس بشيء, وهذا قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.
حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اس شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو اپنی بیوی سے کہتا ہے تو مجھ پر حرام ہے وہ فرماتے ہیں اگر اس نے طلاق کی نیت کی تو ایک طلاق ہو جائے گی اور رجوع کا حق ہوگا ۔‘‘حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے قول کے مطابق اگر اس نے طلاق کی نیت کی تو ایک بائنہ طلاق ہوگی تو جونیت کی وہی کچھ ہوگا اور اگر ایک کی نیت کرے تو ایک طلاق بائن ہو گی اور اگر دو کی نیت کرے تو بھی ایک ہوگی اور ایک طلاق رجعی کی نیت کرے تو ایک طلاق بائن ہوگی اور اگر تین کی نیت کرے تو تین طلاقیں ہوں گی اور جب تک وہ عورت کسی دوسری جگہ نکاح نہ کرے اس ( پہلے خاوند ) کے لئے حلال نہیں ہوگی اور اگر طلاق کی نیت نہ کی تو قسم ہوگی اور وہ ایلا کر نے والا ہوگا ،اگر چار مہینے اس کے قریب نہ جائے تو وہ ایلا ء کی وجہ بائن ہو جائے گی(جدا ہو جائے گی) اور اگر کوئی نیت بھی نہ ہوتو بھی ایلاء ہوگا اور اگر جھوٹ کی نیت کرے تو کچھ بھی واقع نہ ہوگا ۔‘‘یہ حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے۔‘‘
لامرأته: أنت علي حرام, إن نوى الطلاق فهي واحدة, وهو أملك برجعتها. ← إبْرَاهِيمَ فِي الرَّجُلِ ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ
Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 520
