كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [40] بَابُ ما يكره من وطء الأختين الأمتين وغير ذلك · حديث 452
452 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: إذا كان عند الرجل أختان مملوكتان فوطئ إحداهما, فليس له أن يطأ الأخرى حتى يملك فرج التي وطئ غيره بنكاح أو غيره, وإن كانتا أختين إحداهما امرأته فوطئ الأمة منهما, فليعتزل امرأته حنى تعتد الأمة من مائه. قال محمد: وبهذا كله نأخذ, إلا في خصلة واحدة, لا ينبغي له أن يطأ امرأته إذا وطئ أختها حتى يملك فرج أختها عليه غيره بنكاح أو ملك بعدما تستبرأ بحيضة, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.
امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب کسی شخص کی ملکیت میں دو بہنیں ہوں پس وہ ان میں سے ایک سے جماع کرے تو وہ دوسری سے وطی نہیں کر سکتا یہاں تک کہ جس سے وطی کی ہے اسے نکاح وغیرہ کے ذریعے کسی دوسرے آ دی کی ملکیت میں دے دے اور اگر دو بہنوں میں سے ایک اس کی بیوی ہو اب وہ ان میں سے جولونڈی ہے اس سے عطی کر لے تو بیوی سے جدا رہے حتی کہ لونڈی اس جماع کی وجہ سے عدت گزارے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم ان سب باتوں کو اختیار کر تے ہیں البتہ ایک بات میں اختلاف ہے وہ یہ کہ جب بیوی کی بہن سے جماع کرے تو اس وقت بیوی سے جماع نہیں کر سکتا جب تک اس لونڈی کے ایک حیض گزرنے کے بعد اس کو کسی دوسرے کے نکاح یا ملکیت میں نہ دے دے۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“
إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ
Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 452
