Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [1] بَابُ الإحرام والتلبية · حديث 320

320 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن سعيد بن جبير قال: لما انبعث به بعيره قال: لبيك اللهم لبيك, لبيك لا شريك لك لبيك, إن الحمد والنعمة لك والملك, لا شريك لك, لبيك إله الحق لبيك, غفار الذنوب لبيك. قال محمد: إن شاء الرجل أحرم حين ينبعث به بعيره, وإن شاء في دبر صلاته, والتلبية المعروفة إلى قوله: والملك لا شريك لك, فما زادت فحسن, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب اس کا اونٹ اسے لے کر اٹھے ( سوار ہو ) تو کہے۔“ لبیک اللهم لبیک لبیک لا شریک لک لبیک ان الحمد والنعمة لك والملك لا شریک لک لبیک إله الحق لبيك غفار الذنوب لبیک۔ترجمہ ! میں حاضر ہوں یا اللہ ! میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں حمد اور نعت تیرے لئے ہے اور بادشاہی بھی ،تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں سچے معبود میں حاضر ہوں گنا ہوں کو بخشنے والے میں حاضر ہوں۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اگر چاہے تو اس وقت احرام باندھے ( نیت کرے ) جب سواری لے کر اسے اٹھے اور اگر چاہے تو نماز کے بعد نیت کرے اور معروف تلبیہ والملک لاشریک لک تک ہے اس سے زائد اچھی بات ہے اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

لما انبعث به بعيره ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 320

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [1] بَابُ الإحرام والتلبية · حديث 321

321 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا عبيد الله بن عمر, عن نافع, عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال له رجل: يا أبا عبد الرحمن, #322# رأيتك تصنع أربع خصال قال: ما هن؟ قال: رأيتك حين أردت أن تحرم ركبت راحلتك, ثم استقبلت القبلة, ثم أحرمت حين انبعث بك بعيرك, ورأيتك إذا طفت بالبيت لم تجاوز الركن اليماني حتى تستلمه, ورأيتك تلون لحيتك بالصفرة, ورأيتك تتوضأ في النعال السبتية, قال: إني رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنع ذلك كله فصنعته. #323# قال محمد: وبهذا كله نأخذ وهو قول أبي حنيفة رحمه الله.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت عبیداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا وہ حضرت نافع رضی اللہ عنہ سے اور وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ایک شخص نے ان سے کہا اے ابوعبدالرحمن رضی اللہ عنہ! میں آپ کو چار کام کرتے ہوئے دیکھتا ہوں انہوں نے پوچھا وہ کونسے ہیں؟ اس نے کہا میں دیکھتا ہوں جب آپ احرام باندھنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اپنی سواری پر سوار ہوتے ہیں پھر قبلہ رخ ہوکر اس وقت احرام کی نیت کرتے ہیں جب سواری آپ کو لے کر اٹھتی ہے اور میں آپ کو دیکھتا ہوں جب آپ بیت اللہ شریف کا طواف کرتے ہیں تو رکن یمانی سے اس وقت تک نہیں گزرتے جب تک اس کو ہاتھ نہ لگالیں (یابوسہ نہ دے دیں ) اور میں دیکھتا ہوں آپ اپنی داڑھی کو زرد رنگ لگاتے ہیں اور یہ بھی دیکھتا ہوں کہ آپ ایسے چمڑے کے جوتوں میں وضو کرتے ہیں جن سے بالوں کو دور کیا گیا ہو۔“ انہوں نے فرمایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تمام کام کرتے ہوئے دیکھا ہے پس میں بھی یہ کام کرتا ہوں۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

رَأَيْتُكَ حِينَ أَرَدْتَ ← مَا هُنَّ ← له رجل: يا أبا عبد الرحمن! رأيتك تصنع أربع خصال، ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 321

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [2] بَابُ القران وفضل الإحرام · حديث 322

322 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا منصور بن المعتمر, عن إبراهيم النخعي, عن أبي نصر السلمي, عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال: إذا أهللت بالحج والعمرة فطف لهما طوافين, واسع لهما سعيين بالصفا والمروة. قال منصور: فلقيت مجاهدا وهو يفتي بطواف واحد لمن قرن فحدثته بهذا الحديث, فقال: لو كنت سمعته لم أفت إلا بطوافين, وأما بعد اليوم فلا أفتي إلا بهما. #326# قال محمد: وبه نأخذ وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے منصور بن المعتمر رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت ابراہیم نخفی رحمتہ اللہ علیہ سے وہ ابونصر سلمی رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ۔“ جب تم حج اور عمرہ ( دونوں ) کا احرام باندھو تو دونوں کے لئے دوطواف کرو اور دونوں کے لئے صفا مروہ کی دو مرتبہ سعی کرو۔“ حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں میری ملاقات حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ سے ہوئی اور وہ قرآن والے کو ایک طواف کا فتوی ٰدیتے تھے میں نے ان سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے فر مایا اگر میں نے یہ حدیث سنی ہوتو میں دو طوافوں کا فتوی ٰہی دیتا۔اور آج کے بعد دو طوافوں کا فتوی ٰہی دوں گا۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← لم أفت إلا بطوافين, وأما بعد اليوم فلا أفتي إلا بهما. ← لَوْ كُنْتُ ← منصور: فلقيت مجاهدا وهو يفتي بطواف واحد لمن قرن فحدثته بهذا الحديث, ← إذا أهللت بالحج والعمرة فطف لهما طوافين، واسع لهما سعيين بالصفا والمروة. ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَبِي نَصْرٍ السُّلَمِيِّ، ← إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، ← مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 322

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [2] بَابُ القران وفضل الإحرام · حديث 323

323 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن طاووس قال: لو حججت ألف حجة لم أدع القران, حتى لقد كنا ندعوه الحج الأكبر, والحج الأصغر, ونرى أن حج من لم يقرن لم يكمل. قال محمد: وبه نأخذ القران عندنا أفضل من غيره, وكل جميل حسن, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور حضرت طاؤس رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں اگر میں ایک ہزار حج بھی کروں تو قران کو نہیں چھوڑوں گاحتیٰ کہ ہم اسے حج اکبر کہتے تھے اور محض حج کو حج اصغر کہتے تھے اور ہمارا خیال ہے کہ قران نہیں کرتا اس کا حج مکمل نہیں ہوتا ۔ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں ہمارے نزدیک قران دوسری کے حج سے افضل ہے اور تمام صورتیں اچھی ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔ ‘‘

طَاوُوسٍ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 323

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [2] بَابُ القران وفضل الإحرام · حديث 324

324 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه, أنه إنما نهى عن الإفراد, فأما القران فلا. يعني بقوله: نهى عن الإفراد, إفراد العمرة.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے حج افراد سے منع فرمایا قران سے نہیں مطلب یہ ہے کہ صرف عمرہ سے منع فرمایا قرآن کی ترغیب کے لئے ایسا کیا۔ ‘‘

الإفراد, إفراد العمرة. ← الإفراد, فأما القران فلا. يعني بقوله: نهى ← عمر بن الخطاب أنه إنما نهى ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 324

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [2] بَابُ القران وفضل الإحرام · حديث 325

325 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا عمرو بن مرة, عن عبد الله بن سلمة, عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال: تمام الحج والعمرة أن تحرم بهما من جوف دويرتك. قال محمد: وبه نأخذ, ما عجلت من الإحرام فهو أفضل, إن ملكت نفسك, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے عمر بن مرہ رحمتہ اللہ علیہ نے عبداللہ بن سلمہ رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں حج وعمرہ کی تکمیل یہ ہے کہ اپنے گھروں کے اندر سے احرام باندھو ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اگر تم اپنے آپ کو کنٹرول کر سکتے ہوتو احرام میں جس قدر جلدی کروا تنا ہی اچھا ہے۔ ‘‘ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔ ‘‘

تمام الحج والعمرة أن تحرم بهما من جوف دويرتك. ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 325

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [2] بَابُ القران وفضل الإحرام · حديث 326

326 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا شيخ من ربيعة, عن معاوية بن إسحاق القرشي قال: إن الحاج مغفور له, ولمن استغفر له إلى انسلاخ المحرم.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے ایک شیخ رحمتہ اللہ علیہ نے ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا وہ معاویہ بن اسحاق بن اسحاق قر یشی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں حج کرنے والے اور جس کے لئے وہ بخشش مانگے بخشش ہو جاتی ہے یہاں تک کہ وہ احرام کھول دے ۔“

إن الحاج مغفور له, ولمن استغفر له إلى انسلاخ المحرم. ← مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ الْقُرَشِيِّ، ← شيخ من ربيعة, ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 326

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [2] بَابُ القران وفضل الإحرام · حديث 327

327 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, قال: حدثنا أيوب بن عائذ الطائي, عن مجاهد قال: حاج بيت الله, والمعتمر, والمجاهد في سبيل الله, وفد الله, دعاهم فأجابوه, ويعطيهم ما سألوه.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے ایوب بن عا ئد الطائی رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں اللہ تعالی ٰکے گھر کا حج اور عمرہ کرنے کرنے والے اور اللہ تعالی ٰکے راستے میں جہاد کر نے والے اللہ تعالی ٰکا وفد ہیں اس نے ان کو بلایا تو وہ حاضر ہو گئے وہ ان کو وہ چیز عطا کرتا ہے جس کا وہ سوال کرتے ہیں ۔“

مُجَاهِدٍ ← أَيُّوبَ بْنِ عَائِذٍ الطَّائِيِّ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 327

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [2] بَابُ القران وفضل الإحرام · حديث 328

328 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا محمد بن مالك الهمداني عن أبيه قال: خرجنا في رهط نريد مكة, حتى إذا كنا بالربذة رفع لنا خباء, فإذا فيه أبو ذر الغفاري رضي الله عنه, فأتيناه فسلمنا عليه, فرفع جانب الخباء, فرد السلام, فقال: من أين أقبل القوم؟ فقلنا: من الفج العميق, قال: فأين تؤمون؟ قلنا: البيت العتيق, قال: الله الذي لا إله إلا هو ما أشخصكم غير الحج؟ فكرر ذلك علينا مرارا, فحلفنا له فقال: انطلقوا نسككم, ثم استقبلوا العمل.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے محمد بن مالک الہمدانی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے والد سے روایت کر تے ہوئے بیان کیا وہ فرماتے ہیں ہم ایک جماعت میں مکہ مکرمہ کے ارادے سے نکلے حتی کہ جب ہم مقام ربذہ میں تھے تو ہمارے لئے ایک خیمہ ظاہر کیا گیا ( دکھایا گیا ) اس میں حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ تھے ہم نے ان کو سلام کیا تو انہوں نے خیمے کا ایک کنارہ اٹھا کر سلام کا جواب دیا اور فر مایا یہ لوگ کہاں سے آئے ہیں ؟ انہوں نے عرض کیا دور سے آئیں ہیں فرمایا تم کہاں کا ارادہ رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا اللہ تعالی ٰکہ قدیم گھر (خانہ کعبہ ) کا فرمایا اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کیا تم صرف حج کی نیت سے آئے ہو؟ انہوں نے سوال بار بار کیا تو ہم نے ان کے سامنے قسم کھائی انہوں نے فرمایا احکام حج کی ادائیگی کرو پھر اپنے کام پر چلے جاؤ۔“

أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ مَالِكٍ الْهَمْدَانِيِّ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 328

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [1] بَابُ الطواف والقراءة في الكعبة · حديث 329

329 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رمل من الحجرإلى الحجر. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود سے حجر اسودتک رمل کیا۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 329

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [1] بَابُ الطواف والقراءة في الكعبة · حديث 330

330 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن رجل, عن عطاء بن أبي رباح #331# قال: رمل رسول الله صلى الله عليه وسلم من الحجر إلى الحجر. قال محمد: وبه نأخذ, الرمل في الأشواط الثلاث الأول من الحجر الأسود حين يبتدئ الطواف حتى ينتهي إليه ثلاثة أطواف كاملة, ويمشي الأربعة الأواخر مشيا على هينه, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ ایک شخص سے اور وہ حضرت عطاء بن ابی رباح رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کیا۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں پہلے تین چکروں میں حجر اسود سے جہاں طواف شروع ہوتا ہے رمل شروع کر دیں حتی کہ وہاں تک تین چکر مکمل ہو جائیں اور آخری چکروں میں عام حالت پر چلے۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← رَجُلٌ: ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 330

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [1] بَابُ الطواف والقراءة في الكعبة · حديث 331

331 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, أنه سعى بين الصفا والمروى مع عكرمة, فجعل حماد يصعد الصفا, ولا يصعده عكرمة, ويصعد حماد المروة, ولا يصعده عكرمة, قال: فقلت: يا أبا عبد الله: ألا تصعد الصفا والمروة؟ فقال: هكذا طواف رسول الله صلى الله عليه وسلم, قال حماد: فلقيت سعيد بن جبير, فذكرت ذلك له, فقال: إنما طاف رسول الله صلى الله عليه وسلم على راحلته وهو شاك, يستلم الأركان بمحجن فطاف بالصفا والمروة على راحلته, فمن أجل ذلك لم يصعد. #332# قال محمد: وبقول سعيد بن جبير نأخذ, ينبغي للرجل أن يصعد على الصفا والمروة, فيستقبل الكعبة حيث يراها ثم يدعو, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی تو حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ صفا پر چڑھتے تھے جب کہ حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ نہیں چڑھے تھے ‘ اسی طرح حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ مروہ پر تشریف لے جائے اور حضرت عکرمہ نہیں جاتے تھے ۔ ‘‘ حضرت حمادرحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں میں نے کہا اے ابوعبداللہ رضی اللہ عنہ ( حضرت عکرمہ کی کنیت) کیا آپ صفا مردہ پر تشریف نہیں لے جاتے ؟ تو انہوں نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طواف اسی طرح تھا۔“ حضرت حمادرحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں میں حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے ملا تو ان سے یہ بات عرض کی انہوں نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری پر طواف کیا اور آپ علیل تھے آپ عصا مبارک سے استلام کرتے ( حجر اسود پر عصا مبارک لگا کر اسے بوسہ دیتے ) تو آپ نے صفا اور مروہ پر سعی بھی سواری کی حالت میں فرمائی اسی وجہ سے آپ صفامر وہ پرتشریف نہیں لے گئے ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کے قول کو اختیار کرتے ہیں پس وہ (سعی کرنے والا ) قبلہ رخ ہو جہاں سے خانہ کعبہ کو دیکھ سکے پھر دعا مانگے ۔ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 331

chevron_left Previous
1234…50
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter