كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [110] بَابُ شهادة أهل الذمة على المسلمين · حديث 636
636 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في قوله تعالى {شهادة بينكم إذا حضر أحدكم الموت حين الوصية اثنان ذوا عدل منكم أو آخران من غيركم} , إلى آخرها, قال: منسوخة. #552# قال محمد: وبهذا نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى, وإنما يعني بهذه الشهادة في السفر عند حضرة الموت على الوصية, إذا لم يكن أحد من المسلمين جازت شهادة أهل الذمة على وصية المسلم, نسخ ذلك, فلا يجوز على وصية المسلم ولا غير ذلك من أمره إلا المسلمين. والله أعلم.
امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اللہ تعالیٰ کے قول شهادة بينكم اذا حضر احد كم الموت حين الوصية اثنا ن ذوا عدل منكم او آخران من غيركم ....... تمہاری آپ کی شہادت جب تم میں سے کسی ایک کو موت آئے وصیت کے وقت دو انصاف والے تم(مسلمانوں) میں سے ہوں یا دوسرے دو جو تمہارے غیر ( غیر مسلموں میں ) سے ہوں ۔ کے بارے میں فرماتے ہیں یہ منسوخ ہے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے اور اس شہادت سے مرادسفر میں جب اسے موت آئے تو وصیت پر گواہ بنانا ہے جب مسلمانوں میں سے کوئی ایک نہ ہوتو مسلمان کی وصیت پر ذمی ( کفار ) کی شہادت جائز ہے تو یہ حکم منسوخ ہو گیا پس (اب) مسلمان کی وصیت یا کسی دوسرے معاملے میں صرف مسلمانوں کی شہادت ہی جائز ہے۔‘‘ واللہ اعلم
منسوخة. ← إبراهيم في قوله تعالى إلى آخرها, ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ
Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 636
