كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · کتاب ‹ [24] بَابُ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ، وَرَفْعِ الْأَيْدِي، وَالسُّجُودِ عَلَى الْعِمَامَةِ · حديث 72
72 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ نَاسًا #99# مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ أَتَوْا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمْ يَأْتُوهْ إِلَّا لِيَسْأَلُوهُ عَنِ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ قَالَ: فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَافْتَتَحَ الصَّلَاةَ، وَهُمْ خَلْفَهُ ثُمَّ جَهَرَ، فَقَالَ: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ» #100# قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ فِي افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ، وَلَكِنَّا لَا نَرَى أَنْ يَجْهَرَ بِذَلِكَ الْإِمَامُ وَلَا مَنْ خَلْفَهُ، وَإِنَّمَا جَهَرَ بِذَلِكَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِيُعَلِّمَهُمْ مَا سَأَلُوهُ عَنْهُ.
حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ بصرہ کے کچھ لوگ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے اور وہ صرف نماز شروع کرنے کے بارے میں پوچھنا چاہتے تھے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ کھڑے ہوئے اور آپ نے نماز شروع کی اور وہ (لوگ) ان کے پیچھے تھے تو آپ نے بلند آواز سے پڑھا۔ ’’ سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك السمك وتعالى جدك ولا إله غيرك ‘‘ اے اللہ ! میں تیری حمد کے ساتھ تیری تسبیح بیان کرتا ہوں تیرا نام برکت والا اور تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۔“حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں کہ نماز کو اسی طرح شروع کیا جائے لیکن ہمارے خیال میں امام اور مقتدی کسی کو (ثناء ) بلند آواز سے نہیں پڑھنی چاہئے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ان لوگوں کو سوال کا جواب دیتے ہوئے بطور تعلیم بلند آواز سے ثناء پڑھی تھی ۔“
إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ
Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 72
