كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [23] بَابُ الرجل يتزوج وبه العيب, والمرأة · حديث 398
398 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا حماد, عن إبراهيم, أنه قال في الرجل يتزوج وهو صحيح, أو يتزوج وبه بلاء لم يخبر امرأته, ولا أهلها إنها امرأته أبدا, لا يجبر على طلاقها. قال: وإن تزوجها وهي هكذا فهي بتلك المنزلة. قال محمد: وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى, وأما في قولنا فإن كانت المرأة بها العيب فالقول ما قال أبو حنيفة, وإن كان الرجل به العيب فكان عيبا يحتمل فالقول عندنا ما قاله أبو حنيفة رحمه الله تعالى, وإن كان عيبا لا يحتمل فهو بمنزلة المجبوب والعنين, تخير امرأته فإن شاءت أقامت معه, وإن شاءت فارقته.
حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جو طلاق پر مجبور نہیں کیا جائے گا ‘ حالت صحت میں نکاح کرتا ہے یا نکاح کرتے وقت اس میں کوئی خرابی ہے تو اس کی بیوی یا اس کے گھر والوں کو کوئی اختیار نہیں ہوگا وہ ہمیشہ کے لئے اس کی بیوی اور اس شخص کو طلاق پر مجبور نہیں کیا جائے گا ‘ وہ فرماتے ہیں اگر نکاح کے وقت عورت کی یہ حالت ہو تو اس کا بھی یہی حکم ہے ۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“ اور ہمارا یہ کہنا کہ عورت میں عیب ہوتو اس میں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا یہ قول معتبر ہے فرماتے ہیں اگر مرد میں عیب ہو اور وہ قابل برداشت ہو تو اس سلسلے میں ہمارے نز دیک حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے قول پر عمل ہو گا اور اگر وہ عیب قابل برداشت نہ وہ تو وہ محبوب اور عنین کی طرح ہے عورت کو اختیار ہوگا اگر چاہے تو اس کے ساتھ رہے اور اگر چاہے تو علیحدگی اختیار کر لے ۔ ‘‘
إبْرَاهِيمَ أَنَّهُ ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ
Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 398
