كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [144] بَابُ من اشترى سلعة فوجد بها عيبا, أو حبلا · حديث 731
731 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن الهيثم, عن ابن سيرين, عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه في الرجل يشتري الجارية, فيطؤها ثم يجد بها عيبا. قال: لا يستطيع ردها, ولكنه يرجع بنقصان العيب. #622# قال محمد: وبهذا كله نأخذ, وكذلك إن لم يطأها وحدث بها عيب عنده, ثم وجد بها عيبا دلسه له البائع, فإنه لا يستطيع ردها, ولكنه يرجع بحصة العيب الأول من الثمن إلا أن يشاء البائع أن يأخذها بالعيب الذي حدث عند المشتري, ولا يأخذ للعيب أرشا, ولا للوطء عقرا, فإن شاء ذلك أخذها وأعطى الثمن كله, وهذا كله قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.
حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت ھیثم رحمتہ اللہ علیہ سے وہ ابن سیرین رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ‘ سے اس شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں جولونڈی خرید کر اس سے وطی کرے اور اس کے بعد میں اس میں عیب پائے تو وہ فرماتے ہیں وہ اسے واپس نہیں کرسکتا البتہ عیب کے نقصان کے ساتھ رجوع کرسکتاہے۔(چٹی لے سکتاہے)حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اسی طرح اگر اس سے وطی نہ کرے اور اس کے ہاں اس میں عیب پیدا ہو جائے پھر اس میں ( پہلے موجود کوئی)عیب پائے جو بائع نے اس سے چھپایا تھا تو اس صورت میں بھی واپس نہیں کر سکتا بلکہ وہ پہلے عیب کے حصے کے مطابق قیمت میں واپس لے ہاں بائع اس عیب کے ساتھ قبول کر لے جو مشتری کے ہاں پیدا ہوا تو ٹھیک ہے لیکن وہ عیب کی چٹی نہیں لے گا اور نہ ہی وطی کی وجہ سے مال لے گا۔ اگر چاہے تو اسے واپس لے کر تمام قیمت واپس کر دے۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“
Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 731
