Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [159] بَابُ العقار والشفعة · حديث 762

762 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا حماد, عن إبراهيم قال: لا شفعة إلا في أرض, أو دار. وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں شفعہ زمین میں ہوتا ہے یا مکان میں ۔ (کسی اور چیز میں نہیں ہوتا) حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 762

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [159] بَابُ العقار والشفعة · حديث 763

763 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا عبد الكريم, عن المسور بن مخرمة, عن رافع بن خديج رضي الله عنه قال: عرض علي سعد رضي الله عنه بيتا له فقال: خذه #649# فإني قد أعطيت به أكثر مما تعطيني به, ولكنك أحق به؛ لأني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: الجار أحق بسقبه. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے عبد الکریم رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ مسور بن مخرمہ رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اپنا مکان مجھ پر پیش کیا اور فرمایا اس کو لے لو مجھے اس کی قیمت اس سے زیادہ دی گئی جو تم مجھے دیتے ہو لیکن تمہارا حق زیادہ ہے کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا پڑوسی ‘ شفعہ کا زیادہ حق دار ہے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔!

رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ← عَبْدِ الْکَرِيمِ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 763

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [160] بَابُ المضاربة بالثلث, والمضاربة بمال اليتيم ومخالطته · حديث 764

764 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في الرجل يعطي المال مضاربة بالثلث, أو النصف وزيادة عشرة دراهم, قال: لا خير في هذا, أرأيت لو لم يربح درهما ما كان له؟. وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ جو شخص اپنا مال مضاربت کے طور پر تہائی یا نصف اور دس درہم زائد پر دے تو اس میں کوئی بھلائی نہیں ( جائز نہیں ) تمہارا کیا خیال ہے اگر اسے ایک درہم نفع بھی نہ ہوتو اس کے لئے کیا ہوگا؟ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

إبراهيم في الرجل يعطي المال مضاربة بالثلث, أو النصف وزيادة عشرة دراهم, ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 764

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [160] بَابُ المضاربة بالثلث, والمضاربة بمال اليتيم ومخالطته · حديث 765

765 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, عن عائشة #651# رضي الله عنها أنها قالت: لو وليت مال يتيم لخلطت طعامه بطعامي, وشرابه بشرابي, ولم أجعله بمنزلة الرجس. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا اگر مجھے کسی یتیم بچے کی ولایت حاصل ہو جائے تو میں اس کے کھانے کو اپنے کھانے کے ساتھ اور اس کے مشروب کو اپنے مشروب سے ملاؤں گی اوراسے ناپاک چیز کی طرح قرار نہیں دوں گی ۔ ‘‘ ( ملا کر حساب مشترکہ طور پر خرچ کرنے میں کوئی حرج نہیں ) حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

عَائِشَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 765

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [160] بَابُ المضاربة بالثلث, والمضاربة بمال اليتيم ومخالطته · حديث 766

766 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, في مال اليتيم قال: ما شاء الوصي صنع به إن رأى أن يودعه أودعه, وإن رأى أن يتجر #652# به اتجر به, وإن رأى أن يدفعه مضاربة دفعه. وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے یتیم کے مال کے بارے میں فرمایا وصی جو چاہے اس میں کرے اگر اسے امانت کے طور پر دینا چاہے تو امانت رکھے اور اس میں تجارت کرنا بہتر سمجھے تو تجارت میں لگائے اور اگر اسے بطور مضاربت دینا چاہے تو دے دے۔“ حضرت اما م محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

إبراهيم, في مال اليتيم ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 766

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [160] بَابُ المضاربة بالثلث, والمضاربة بمال اليتيم ومخالطته · حديث 767

767 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, عن سعيد بن جبير أنه قال في هذه الآية: {ومن كان غنيا فليستعفف ومن كان فقيرا فليأكل بالمعروف} , قال: قرضا.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے آیت کریمه! من كان غنيا فليستعفق ومن كان فقيرا فليأكل بالمعروف ۔ ترجمہ ! جو شخص مالدار ہو وہ بچتا رہے اور جو آدمی فقیر ہو وہ معروف طریقے پر کھا سکتا ہے۔“ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے قرض مراد ہے۔“

قرضا. ← في هذه الآية: {ومن كان غنيا فليستعفف ومن كان فقيرا فليأكل بالمعروف} ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ: أَنَّهُ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 767

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [160] بَابُ المضاربة بالثلث, والمضاربة بمال اليتيم ومخالطته · حديث 768

768 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن الهيثم, عن رجل, عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: لا يأكل الوصي مال اليتيم شيئا قرضا ولا غيره. وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت ھیثم رحمتہ اللہ علیہ سے وہ ایک شخص سے اور وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں وصی یتیم کے مال میں سے کچھ بھی نہ کھائے نہ قرض کے طریقے پر اور نہ ہی اور کسی طریقے سے ۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← رَجُلٌ: ← الْهَيْثَمُ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 768

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [160] بَابُ المضاربة بالثلث, والمضاربة بمال اليتيم ومخالطته · حديث 769

769 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا ليث بن أبي سليم, عن مجاهد, عن ابن مسعود رضي الله عنه قال: ليس في مال اليتيم زكاة. #654# وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے لیث بن ابی سلیم رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں یتیم کے مال میں زکوۃ نہیں۔“ ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

ليس في مال اليتيم زكاة. وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة تعالى. ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← مُجَاهِدٍ ← ليث بن أبي سليم ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 769

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [161] بَابُ من كان عنده مال مضاربة أو وديعة · حديث 770

770 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في المضاربة, والوديعة إذا كانت عند الرجل فمات وعليه دين قال: يكونون جميعا أسوة الغرماء إذا لم يعرفا بأعيانهما الوديعة والمضاربة وبه نأخذ وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے مضاربت اور ودیعت ( امانت ) کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ جب کسی شخص کے پاس ہو اور وہ شخص مر جائے اور اس پر قرض ہوتو وہ سب برابر کے قرض خواہ ہوں گے جب تک مضاربت اور ودیعت کی متعین طور پہچان نہ ہو۔“

إبراهيم في المضاربة, والوديعة إذا كانت عند الرجل فمات وعليه دين ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 770

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [162] بَابُ المزارعة بالثلث والربع · حديث 771

771 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, أنه سأل طاووسا وسالم بن عبد الله عن المزارعة بالثلث والربع, فقالا: لا بأس به, فذكرت ذلك لإبراهيم فكرهه, وقال: #655# إن طاووسا له أرض يزارعه, فمن أجل ذلك قال ذلك. #656# قال محمد: كان أبو حنيفة يأخذ بقول إبراهيم, ونحن نأخذ بقول سالم, وطاووس, لا نرى بذلك بأسا.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے حضرت طاؤس اور حضرت سالم بن عبد اللہ رضی اللہ عنہا سے تہائی یا چوتھائی (نفع ) کے ساتھ مزراعت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کوئی حرج نہیں وہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے یہ بات ذکر کی تو انہوں نے اسے مکروہ قرار دیا اورفرمایا حضرت طاؤس رضی اللہ عنہ کے پاس زمین تھی جسے وہ مزارعت پر دیتے تھے انہوں نے اسی بنیاد پر یہ بات کہی ہے ۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ کے اس قول کو اختیار کرتے تھے اور ہم حضرت سالم اور حضرت طاؤس رضی اللہ عنہا کے قول کو اختیار کرتے ہیں ہم اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔

ذَلِكَ ← إن طاووسا له أرض يزارعه, فمن أجل ذلك ← لا بأس به, فذكرت ذلك لإبراهيم فكرهه, ← الْمُزَارَعَةِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ ← حماد, أنه سأل طاووسا وسالم بن عبد الله ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 771

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [162] بَابُ المزارعة بالثلث والربع · حديث 772

772 - محمد قال: أخبرنا عبد الرحمن الأوزاعي, عن واصل بن أبي جميل, عن مجاهد قال: اشترك أربعة نفر على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال واحد: من عندي البذر, وقال الآخر: من عندي العمل, وقال الآخر: من عندي #657# الفدان, وقال الآخر: من عندي الأرض. قال: فألغى رسول الله صلى الله عليه وسلم صاحب الأرض, وجعل لصاحب الفدان أجرا مسمى, وجعل لصاحب العمل درهما لكل يوم, وألحق الزرع كله بصاحب البذر.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فر ماتے ہیں ! ہمیں حضرت عبدالرحمن ٰاوزاعی رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت واصل بن ابی جمیل رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چار افراد نے شرکت کی تو ان میں سے ایک نے کہا بیچ میری طرف سے ہوگا دوسرے نے کہا کام میں کروں گا تیسرے نے کہا آلات میری طرف سے ہوں گے (بیل اور ہل وغیرہ) اور چوتھے نے کہاز مین میری ہوگی ۔“ وہ فرماتے ہیں ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین والے کی بات کو لغو قرار دیا ( کوئی حصہ نہ دیا ) آلات والے کے لئے حصہ مقرر فرمایا کام کرنے والے کو یومیہ ایک درہم دیا اور تمام کھیتی بیج والے کے لئے مقرر فرما دی ۔ ‘‘

الآخر: من عندي الأرض. ← الآخر: من عندي الفدان, ← الآخر: من عندي العمل, ← واحد: من عندي البذر, ← اشترك أربعة نفر على عهد رسول الله ← مُجَاهِدٍ ← وَاصل بن أبي جميل، ← عبد الرحمن الأوزاعي ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 772

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [163] بَابُ ما يكره من الزيادة على من أجر شيئا بأكثر مما استأجره · حديث 773

773 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في الرجل يستأجر الأرض, ثم يؤاجرها بأكثر مما استأجرها, قال: لا خير في الفضل إلا أن يحدث فيها شيئا. #658# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اس شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو اجرت پر زمین حاصل کرتا ہے پھر مقررہ اجرت سے زیادہ اجرت دیتا ہے تو وہ فرماتے ہیں اس زائد مال میں کوئی بھلائی نہیں البتہ یہ کہ اس میں کوئی نئی بات پیدا ہو ۔ ‘‘ (یعنی کوئی نفع حاصل ہو جس کا پہلے ذکر نہ ہو ) حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← فيها شيئا ← لا خير في الفضل إلا أن ← إبراهيم في الرجل يستأجر الأرض, ثم يؤاجرها بأكثر مما استأجرها, ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 773

chevron_left Previous
1…585960…77
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter