Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [154] بَابُ التجارة في العصير والخمر · حديث 750

750 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا محمد بن قيس, عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: سأله رقيق له عن بيع الخمر, وعن أكل ثمنها, قال: قاتل الله اليهود حرمت عليهم الشحوم أن يأكلوها, فاستحلوا بيعها وأكل ثمنها, إن الله حرم الخمر, فحرام بيعها, وأكل ثمنها. #637# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت امام محمد بن قیس رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ ان سے ان کے ایک ساتھی نے شراب بیچنے اور اس کی قیمت کھانے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا اللہ تعالی ٰیہودیوں کو ہلاک کرے ان پر چربی کھانا حرام قرار دیا گیا تو انہوں نے اس کا بیچنا اور اس کی قیمت کھانا ( استعمال میں لانا) حلال قرار دیا ہے ۔ بے شک اللہ تعالی ٰنے شراب کو حرام قرار دیا پس اس کا بیچنا اور اس کی قیمت کھانا حرام ہے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

أكل ثمنها, ← بيع الخمر ← سأله رقيق له ← ابْنِ عُمَرَ ← مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 750

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [154] بَابُ التجارة في العصير والخمر · حديث 751

751 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا محمد بن قيس, أن رجلا من ثقيف يكنى أبا عامر كان يهدي لرسول الله صلى الله عليه وسلم كل عام راوية من خمر, فأهدى إليه في العام الذي حرمت راوية كما كان يهدي, فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: يا أبا عامر, إن الله قد حرم الخمر, فلا حاجة لنا في خمرك, قال: فخذها #638# يا رسول الله صلى الله عليه وسلم فبعها واستعن بثمنها على حاجتك, فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: يا أبا عامر, إن الذي حرم شربها حرم بيعها, وأكل ثمنها. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت محمد بن قیس رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا کہ ثقیف قبیلہ کا ایک شخص جس کی کنیت ابو عامر تھی وہ ہر سال نبی اکرم کی خدمت میں شراب کا ایک مشکیزہ بطور تحفہ لایا کرتا تھا تو جس سال شراب حرام ہوئی وہ پہلے کی طرح (شرابکا ) مشکیزہ لے کر حاضر ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! اے ابو عامر بے شک اللہ تعالی ٰنے شراب کو حرام کیا پس ہمیں تمہارے شراب کی حاجت نہیں ۔“ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کو لے لیجئے پس اس کو فروخت کر کے اس کی قیمت سے اپنی حاجت میں مدد لیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! اے ابوعامر اللہ تعالی ٰنے شراب کا پینا اس کا بیچنا اور اس کی قیمت کھانا حرام قرار دیا ہے۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 751

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [155] بَابُ بيع الآجام والسمك والقصب · حديث 752

752 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا حماد, عن إبراهيم, أنه كان يكره بيع صيد الآجام, وقصبها. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ جھاڑیوں کے شکار اوران کے بانسوں کو فروخت کرنا مکروہ جانتے تھے ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← إبراهيم, أنه كان يكره بيع صيد الآجام, وقصبها. ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 752

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [155] بَابُ بيع الآجام والسمك والقصب · حديث 753

753 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا حماد قال: طلبت من أبي عبد المجيد أن يكتب إلى عمر بن عبد العزيز أن يسأله عن صيد الآجام, وقصبها, فكتب إليه عمر رضي الله عنه أنه الخيس, لا بأس به. ولسنا نأخذ بهذا, نجيز بيع القصب إذا باعه خاصة, فأما الصيد فلا نجيز بيعه إلا أن يكون يؤخذ بغير صيد, فيجوز البيع فيه, ويكون صاحبه بالخيار إذا رآه, إن شاء أخذه, وإن شاء تركه, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ فرماتے ہیں میں نے ابوعبدالحمید رحمتہ اللہ علیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کی طرف ایک خط لکھ کر ان سے جھاڑیوں کے شکار اور ان کے بانسوں کے بیع کے بارے میں پوچھیں تو حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ نے ان کی طرف لکھا کہ یہ جنس ہے اس میں کوئی حرج نہیں ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اس بات کو اختیا رنہیں کرتے ہم بانسوں کی بیع کو جائز قرار دیتے ہیں جب خاص اسی کا سودا کرے لیکن وہاں کے شکار کی فروخت کو جائز قرار نہیں دیتے ہاں یہ کہ اسے شکار کئے بغیر پکڑے تو اس کی بیع جائز ہے اور اس کے مالک کو اختیار ہے جب اسے دیکھے اگر چاہے تو لے لے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔ ‘‘

طلبت من أبي عبد المجيد ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 753

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [156] بَابُ شراء الذهب والفضة تكون في السيف والجوهر · حديث 754

754 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: إذا كان #641# الخاتم فضة, وفيه فص فاشتره بما شئت, إن شئت قليلا, وإن شئت كثيرا. #642# ولسنا نأخذ بهذا, ولا نجيز البيع حتى يعلم أن الثمن أكثر من الفضة التي في الخاتم, فيكون فضل الثمن بالفص, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب انگوٹھی چاندی کی ہواور اس میں نگینہ ہوتو تم جیسے چاہو خرید سکتے ہو تھوڑی قیمت کے بدلے میں ہو یا زیادہ کے بدلے میں ہو۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فر ماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار نہیں کرتے اور ہم اس سودے کو جائز نہیں سمجھتے حتی کہ معلوم ہو جائے کہ قیمت ( والی چاندی) اس چاندی سے زیادہ ہے جو انگوٹھی میں ہے پس زائد قیمت قیمت نگینہ کے مقابلے میں ہو جائے گی ۔ ‘‘ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 754

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [156] بَابُ شراء الذهب والفضة تكون في السيف والجوهر · حديث 755

755 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا الوليد بن سريع, عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: بعث عمر رضي الله عنه بإناء من فضة خسرواني قد أحكمت صنعته, فأمر الرسول أن يبيعه, فرجع الرسول فقال: إني أزاد على وزنه! قال عمر رضي الله عنه: لا؛ فإن الفضل ربا. وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے ولید بن سریع رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا اور وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس حردانی پیالہ بھیجا گیا جس کی بناوٹ مضبوط تھی آپ نے قاصد کو اس کے بیچنے کا حکم دیا وہ واپس آیا اور اس نے کہا میں اس کے وزن سے زیادہ لایا ہوں آپ نے فرمایا نہیں یہ زیادتی سود ہے۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اورحضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔ ‘‘

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ سَرِيعٍ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 755

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [157] بَابُ شراء الدراهم الثقال بالخفاف والربا · حديث 756

756 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا مرزوق, عن أبي جبلة, عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قلت له: إنا نقدم الأرض بها الورق الثقال الكاسدة, ومعنا ورق خفاف نافقة, أنبيع ورقنا بورقهم؟ قال: لا, ولكن بع ورقك بالدنانير, واشتر ورقهم بالدنانير, ولا يفارقنك صاحبك شبرا حتى تستوفي منه, فإن صعد فوق البيت فاصعد معه, وإن وثب فثب معه. #644# وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے مررزق نے ابوجبلہ رحمتہ اللہ علیہ سے سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا اور وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ابو جبلہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا ہم ایسے علاقے میں جاتے ہیں جہاں بھاری وزن کے کھوٹے درہم ہوتے ہیں اور ہمارے پاس ہلکے ہلکے چاندی کے سکے ہوتے ہیں جو مروج ہیں کیا ہم اپنے سکے ان کے سکوں ( چاندی) کے بدلے میں بیچ سکتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا نہیں بلکہ تم اپنی چاندی کے سکے دیناروں کے بدلے بیچو اور تم اپنے مقابل ( جس سے سودا ہوا) سے ایک بالشت بھی دور نہ ہو جب تک اس سے وصول نہ کر لو اگر وہ گھر کی چھت پر چلا جائے تو تم بھی اس کے ساتھ اس پر چڑھ جاؤ اور وہ کود جائے تو تم بھی اس کے ساتھ کود جاؤ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ سے فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

الكاسدة, ومعنا ورق خفاف نافقة, أنبيع ورقنا بورقهم؟ ← نقدم الأرض بها الورق الث ← قُلْتُ لَهُ ← ابْنِ عُمَرَ ← أبي جبلة, ← مَرْزُوقٍ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 756

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [157] بَابُ شراء الدراهم الثقال بالخفاف والربا · حديث 757

757 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا عطية العوفي, عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه, عن النبي صلى الله عليه وسلم, أنه قال: الذهب بالذهب مثل بمثل والفضل ربا, والفضة بالفضة مثل بمثل والفضل ربا, والحنطة بالحنطة مثل بمثل والفضل ربا, والشعير بالشعير مثل بمثل والفضل ربا, والتمر بالتمر مثل بمثل والفضل ربا, والملح بالملح مثل بمثل والفضل ربا. #646# وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے عطیہ عوفی رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا سونا سونے کے بدلے میں برابر برابر ہو اور زیادتی سود ہے چاندی چاندی کے بدلے میں برابر برابر ہو اور زائد سود ہے ‘ گندم گندم کے بدلے میں برابر برابر ہو اور اضافہ سود ہے جو جو کے بدلے میں برابر برابر ہوں جو زیادہ ہوگا وہ سود ہوگا کھجوریں کھجوروں کے بدلے میں برابر برابر ہوں زیادتی سود ہے اور نمک نمک کے بدلے میں برابر برابر ہو اگر زیادہ ہو تو سود ہوگا۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 757

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [158] بَابُ القرض · حديث 758

758 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في رجل أقرض رجلا ورقا, فجاءه بأفضل منها قال: الورق بالورق أكره الفضل فيها حتى يأتي بمثلها. ولسنا نأخذ بهذا, لا بأس بهذا ما لم يكن شرطا اشترطه عليه, فإذا كان شرطا اشترطه فلا خير فيه. وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اس شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں جس نے کسی شخص کو چاندی بطور قرض دی تو وہ اس سے افضل لایا حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا چاند کے بدلے چاندی میں زیادتی مکروہ ہے حتی کہ اس کی مثل لائے ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار نہیں کرتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں جب تک (اسکی ) شرط نہ رکھے اور اس نے کوئی شرط رکھی ہو تو اس میں بھلائی نہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“ ( اس سے وصف کی زیادتی مراد ہے ورنہ مقدار میں زیادتی سود ہے وصف میں فضلیت ہوتو کوئی خرج نہیں ۔۱۲ ہزاروی ) ۔

إبراهيم في رجل أقرض رجلا ورقا, فجاءه بأفضل منها ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 758

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [158] بَابُ القرض · حديث 759

759 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في الرجل يقرض الرجل الدراهم على أن يوفيه بالري قال: أكرهه. #647# وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اس شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں جوکسی شخص کو اس شرط پر قرض کے طور پر درہم دیتا ہے کہ وہ اسے مقام ری میں ادا کرے تو فرماتے ہیں میں اس بات کو مکروہ جانتا ہوں۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

أكرهه. وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة تعالى. ← إبراهيم في الرجل يقرض الرجل الدراهم على أن يوفيه بالري ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 759

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [158] بَابُ القرض · حديث 760

760 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: كل قرض جر منفعة فلا خير فيه. وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جو قرض نفع لائے اس میں حرج نہیں۔(یعنی جائز ہیں) ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 760

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [159] بَابُ العقار والشفعة · حديث 761

761 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, عن شريح قال: الشفعة من قبل الأبواب. #648# ولسنا نأخذ بهذا. الشفعة للجيران المتلازقين, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت شریح رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں شفعہ دروازوں کی جانب سے ہے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار نہیں کرتے (بلکہ ) شفعہ ان دو پڑوسیوں کے لئے ہے جو ملے ہوئے ہیں ۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

شُرَيْحٍ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 761

chevron_left Previous
1…575859…77
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter