Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [147] بَابُ السلم في الفاكهة إلى القطاع وغيره · حديث 738

738 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: يكره السلم إلى الحصاد, وإلى القطاع. قال محمد: وبه نأخذ, لأنه أجل مجهول يتقدم ويتأخر, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کاٹنے تک یا عطا ء تک بیع سلم مکروہ ہے ۔ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں کیونکہ یہ مدت مجہول ہے آگے پیچھے ہوسکتا ہے۔ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔‘‘ ( وقت کا معلوم ہوناضروری ہے ورنہ جھگڑے کا خطرہ ہوتا ہے )

يكره السلم إلى الحصاد, وإلى القطاع. ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 738

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [147] بَابُ السلم في الفاكهة إلى القطاع وغيره · حديث 739

739 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في الرجل يسلم في الفاكهة إلى القطاع يأخذ قفيزا قفيزا قال: لا خير فيه. #628# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ اس شخص کے بارے میں جو عطاء تک پھلوں میں بیع سلم کرتا ہے کہ وہ ایک ایک قفیز کر کے وصول کرے گا تو وہ فرماتے ہیں اس میں کوئی بھلائی نہیں ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں اورحضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔!

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← «لَا خَيْرَ فِيهِ» ← إبراهيم في الرجل يسلم في الفاكهة إلى القطاع يأخذ قفيزا قفيزا ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 739

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [147] بَابُ السلم في الفاكهة إلى القطاع وغيره · حديث 740

740 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا حماد, عن إبراهيم في الرجل يسلم في الثمر قال: لا, حتى يطعم. قال محمد: وبه نأخذ, لا ينبغي أن يسلم في ثمرة ليست في أيدي الناس إلا في زمانها بعد بلوغها, ويجعل أجل السلم قبل انقطاعها, فإذا فعل ذلك فهو جائز, وإلا فلا خير فيه, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت حمادرحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اس شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو پھلوں میں بیع سلم کرتا ہے وہ فرماتے ہیں اس وقت تک نہیں کر سکتا جب تک وہ کھانے کے قابل نہ ہو جائیں۔ ‘‘حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں ان پھلوں میں جولوگوں کے قبضے میں نہیں ہیں بیع سلم جائز نہیں مگر جب ان ( پھلوں ) کا وقت ہوان کے وقت کو پہنچنے کے بعد اور سلم کی مدت کو کاٹنے سے پہلے ہی مقرر کیا جائے جب اس طرح کرے تو جائز ہے ورنہ اس میں کوئی بھلائی نہیں۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔‘‘

لا, حتى يطعم. ← إبراهيم في الرجل يسلم في الثمر ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 740

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [148] بَابُ السلم في الحيوان · حديث 741

741 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا حماد, عن إبراهيم قال: #629# دفع عبد الله بن مسعود رضي الله عنه إلى زيد بن خويلدة البكري مالا مضاربة, فأسلم زيد إلى عتريس بن عرقوب الشيباني في قلائص, فلما حلت أخذ بعضا وبقي بعض, فأعسر عتريس, وبلغه أن المال لعبد الله رضي الله عنه, فأتاه يسترفقه, فقال عبد الله رضي الله عنه: أفعل زيد؟ قال: نعم, فأرسل إليه فسأله, فقال له عبد الله رضي الله عنه: اردد ما أخذت, وخذ رأس مالك, ولا تسلمن مالنا في شيء من الحيوان. قال محمد: وبهذا كله نأخذ, لا يجوز السلم في شيء من الحيوان, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضرت زید بن خویلد و البکریٰ رضی اللہ عنہ کو کچھ مال مضاربت کے طور پر دیا تو حضرت زید رضی اللہ عنہ نے عقد لیس بن عرقوب الشیبانی سے جوان اونٹنیوں میں بیع سلم کر لی ‘جب مدت پوری ہو گئی تو کچھ لے لیں اور بعض باقی رہ گئیں اب عتر یس تنگ دست ہو گئے اور ان کو یہ خبر ملی کہ یہ مال حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا ہے تو ان کے پاس حاضر ہوئے تا کہ نرمی کا سوال کریں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا یہ عمل زید رضی اللہ عنہ نے کیا ہے؟ انہوں نے کہاں جی ہاں تو آپ نے ان کو بلا یا اور اس سلسلے میں پوچھا پھر حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا جو کچھ تم نے لیا ہے واپس کر واور اپنا اصل واپس لو اور ہما را مال کسی حیوان کے سلسلے میں بطور بیع سلم نہ دو۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم ان تمام باتوں کواختیار کرتے ہیں کہ جانوروں میں بیع سلم جائز نہیں ۔ ‘‘حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 741

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [149] بَابُ الكفيل والرهن في السلم · حديث 742

742 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا حماد, عن إبراهيم قال: لا بأس بالرهن, والكفيل في السلم. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت حمادرحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں بیع سلم میں کفیل بنانے اور رہن رکھنے میں کوئی حرج نہیں ۔‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← لاَ بَأْسَ بِالرَّهْنِ وَالْكَفِيلِ فِي السَّلَمِ. ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 742

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [149] بَابُ الكفيل والرهن في السلم · حديث 743

743 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في السلم في الفلوس فيأخذ الكفيل قال: لا بأس به. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں بیع سلم میں پیسوں کے سلسلے میں کفیل بنانے میں کوئی حرج نہیں۔“حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← لاَ بَأْسَ بِهِ. ← إبراهيم في السلم في الفلوس فيأخذ الكفيل ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 743

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [150] بَابُ السلم بأخذ بعضه وبعض رأس ماله · حديث 744

744 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا أبو عمر, عن سعيد بن جبير, عن ابن عباس رضي الله عنهما في السلم يحل فيأخذ بعضه, ويأخذ بعض رأس ماله فيما بقي, قال: هذا المعروف الحسن الجميل. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے ابوعمر و رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے اور وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں بیع سلم میں مدت پوری ہو جائے تو وہ اس چیز کا (جس میں بیع سلم ہوتی) بعض اور اصل رقم کا کچھ لے تو یہ معروف ہے اور اچھی بات ہے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔!

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← هذا المعروف الحسن الجميل. ← ابن عباس في السلم يحل فيأخذ بعضه, ويأخذ بعض رأس ماله فيما بقي, ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبُو عُمَرَ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 744

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [151] بَابُ السلم في الثياب · حديث 745

745 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: إذا أسلم في الثياب, ثم كان معروفا عرضه ورقعته فهو جائز. وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى. #633# قال محمد: وبه نأخذ, إذا سمى الطول والعرض والرقعة والجنس والأجل, ونقد الثمن قبل أن يتفرقا فهو جائز.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب کپڑوں میں بیع سلم کی جائے اور کپڑے کی چوڑائی اور اس کی موٹائی معروف ہو تو جائز ہے۔“ حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں جب وہ اس کی لمبائی‘ چوڑائی ‘موٹائی‘ جنس اور وقت بتائے اور جدا ہونے سے پہلے رقم ادا کرے تو جائز ہے۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 745

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [151] بَابُ السلم في الثياب · حديث 746

746 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في الرجل يسلم الثياب في الثياب قال: إذا اختلفت أنواعه فلا بأس به. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اس آدمی کے بارے میں نقل کرتے ہیں جو کپڑوں میں کپڑوں کی بیع سلم کرتا ہے تو وہ فرماتے ہیں جب ان کی انواع مختلف ہوں تو کوئی حرج نہیں ۔‘‘حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اورحضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← إذا اختلفت أنواعه فلا بأس به. ← إبراهيم في الرجل يسلم الثياب في الثياب ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 746

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [152] بَابُ السوم على سوم أخيه · حديث 747

747 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, عن أبي سعيد الخدري, وأبي هريرة رضي الله عنهما, عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لا يستام الرجل على سوم أخيه, ولا يخطب على خطبته, ولا تناجشوا, ولا تبايعوا بإلقاء الحجر, ومن استأجر أجيرا فليعلمه أجره, ولا تزوج المرأة على عمتها ولا على خالتها, ولا تسأل طلاق أختها لتكفأ ما في صحيفتها, فإن الله هو رازقها. #634# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى. وأما قوله: ولا تناجشوا فالرجل يبيع الشيء, فيزيد الرجل الآخر في الثمن وهو لا يريد أن يشتري؛ ليسمع بذلك غيره ويشتري على سومه, فهذا هو النجش, فلا ينبغي. وأما في قوله: لا تبايعوا بإلقاء الحجر فهذا كان بيعا في الجاهلية, يقول أحدهم: إذا ألقيت الحجر فقد وجب البيع فهذا مكروه فلا ينبغي, والبيع فيه فاسد.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمیں ! حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور و ہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فر مایا کوئی شخص اپنے بھائی کے بھاؤ پر بھاؤ نہ لگائے اور نہ اس کے پیغام نکاح پر نکاح کا پیغام دے نہ خریدنے کے بغیر بولی دواور نہ پتھر پھینک کر بیع کرو اور جوشخص کسی کو مزدوری پر حاصل کرے اسے اس کی مزدوری ( اجرت ) بتا دے کسی عورت سے اس کی پھوپھی کی موجودگی میں نکاح نہ کیا جائے اور نہ اس کی خالہ کی موجودگی میں نکاح کیا جائے کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اس کے پیالےکوخالی کرے بے شک اللہ عز وجل اس کا رزاق ہے ۔‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“آپ کا ارشادگرامی! ولا تناجشوا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص کوئی چیز بیچتا ہے اور دوسرا آدمی قیمت میں اضافہ کرتا ہے حالانکہ وہ خریدنا نہیں چاہتا ‘تاکہ وہ دوسروں کو سنائے اور وہ اس کے لگائے ہوئے بھاؤ پر خریدے اس کو بخش کہا جا تا ہے یہ کام مناسب نہیں اور لا تبايعو ا بالقاء الجهر تو یہ دور جاہلیت میں بیع کی ایک قسم تھی ان میں سے ایک کہتا جب میں پتھر پھینک دوں گا تو بیع واجب ہو جائے گی تو یہ مکروہ ہے لہذا یہ مناسب نہیں اور اس میں بیع فاسد ہو جائے گی ۔“

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 747

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [153] بَابُ حمل التجارة إلى أرض الحرب · حديث 748

748 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم أنه قال في #635# التاجر يختلف إلى أرض الحرب: إنه لا بأس بذلك ما لم يحمل إليهم سلاحا, أو كراعا, أو سلبا. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے اس تاجر کے بارے میں فرمایا جو حربی زمین کی طرف آتا جاتا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں جب تک ان کی طرف اسلحہ یا گھوڑے یا سامان لے کر نہ جائے ۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 748

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [154] بَابُ التجارة في العصير والخمر · حديث 749

749 - محمد قال: اخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في العصير قال: لا بأس بأن تبيعه ممن يصنعه خمرا. #636# وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں اس شخص پر (انگور وغیرہ کا ) رس (جوس) بیچنے میں کوئی حرج نہیں جو اس سے شراب بنائے گا۔ ‘‘حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

إبراهيم في العصير ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 749

chevron_left Previous
1…565758…77
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter