Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [141] بَابُ من حلف وهو مظلوم · حديث 726

726 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, عن عائشة أم المؤمنين رضي الله عنها في اللغو قالت: هو كل شيء يصل به الرجل كلامه لا يريد يمينا: لا والله, وبلى والله, وما لا يعقد #616# عليه قلبه. #617# قال محمد: وبه نأخذ, ومن اللغو أيضا الرجل يحلف على الشيء يرى أنه على على ما حلف عليه, فيكون على غير ذلك, فهذا أيضا من اللغو, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے لغوقسم کے بارے میں روایت کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں یہ ہر وہ چیز ہے جسے آدمی اپنے کلام سے ملا تا ہے اور قسم کا ارادہ نہیں کرتا جیسے لا ‘واللہ بلی ‘واللہ (وغیرہ) اور اسی طرح جس پر دل کا ارادہ نہیں ہوتا۔‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور یہ بھی لغوقسم ہے کہ کوئی شخص کسی بات پر قسم کھائے اور وہ یہ سمجھے کہ بات اسی طرح ہے جس طرح اس نے قسم کھائی پس وہ اس کے علاوہ ہوتو یہ بھی لغو ہے۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

عائشة أم المؤمنين في اللغو ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 726

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [142] بَابُ التجارة والشرط في البيع · حديث 727

727 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا يحيى بن عامر, عن رجل, عن عتاب بن أسيد رضي الله عنه, عن النبي صلى الله عليه وسلم, أنه قال له: انطلق إلى أهل الله -يعني أهل مكة- فانههم عن أربع خصال: عن بيع ما لم يقبضوا, وعن ربح ما لم يضمنوا, وعن شرطين في بيع, وعن سلف وبيع. #618# قال محمد: وبهذا كله نأخذ, فأما قوله: سلف وبيع فالرجل يقول للرجل: أبيعك عبدي هذا بكذا وكذا على أن تقرضني كذا وكذا, أو يقول: تقرضني على أن أبيعك فلا ينبغي هذا. وقوله: شرطين في بيع فالرجل يبيع الشيء بالحال بألف درهم, وإلى شهر بألفين, فيقع عقده البيع على هذا فهذا لا يجوز, وأما قوله: ربح ما لم يضمنوا فالرجل يشتري الشيء فيبيعه #619# قبل أن يقبضه بربح فليس ينبغي له ذلك, وكذلك لا ينبغي له أن يبيع شيئا اشتراه حتى يقبضه, وهذا كله قول أبي حنيفة إلا في خصلة واحدة: العقار من الدور والأرضين قال: لا بأس أن يبيعهما الذي اشتراها قبل أن يقبضها؛ لأنها لا تحول عن موضعها. قال محمد: وهذا عندنا لا يجوز, وهو كغيره من الأشياء.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے یحیی ٰبن عامر رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ ایک شخص سے وہ حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا اہل اللہ یعنی اہل مکہ کی طرف جاؤ اوران کو چار باتوں سے منع کرو۔1۔ جب تک کسی (خریدی ہوئی )چیز پر قبضہ نہ کریں اسے آگے نہ بیچیں ۔“2۔ جب تک ضامن نہ ہوں نفع حاصل نہ کریں ۔“ 3۔ایک بیع میں دوشرطیں نہ رکھیں ۔‘‘4۔ قرض اور بیع جمع نہ کریں ۔‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم ان تمام باتوں کو اختیار کرتے ہیں۔“ قرض اور بیع جمع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص دوسرے آدمی سے کہے میں تجھ پر اپنا غلام اتنی رقم پر بیچتا ہوں اس شرط پر کہ تو مجھے اتنا قرض دے یا کہے تو مجھے قرض دے اس شرط پر کہ میں تجھ پر بیچوں تو یہ مناسب نہیں ۔ اور ایک بیع میں دوشرطوں کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی کوئی چیز نقد ایک ہزار پر بیچے اور دہار دو ہزار میں بیچے اور یوں سواد ہو جائے تو یہ نا جائز ہے۔‘‘اور جب تک ضامن نہ ہونفع جائز نہیں“ کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص ایک چیز خریدتا ہے اور قبضہ کر نے سے پہلے نفع کے ساتھ بیچتا ہے تو یہ بات بھی جائز نہیں اسی طرح یہ بھی مناسب نہیں کہ کسی چیز کوخریدنے کے بعد قبضہ کرنے سے پہلے بیچے۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ بھی ان سب باتوں کے قائل ہیں البتہ ایک بات میں اختلاف ہے یعنی وہ گھروں یا زمین کے ٹکڑوں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان کو خریدنے کے بعد قبضہ کر نے سے پہلے بیچنا جائز ہے کیونکہ یا اپنی جگہ سے متنقل نہیں ہوتیں ۔ ‘‘حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمارے نزدیک یہ جائز نہیں اور ان کا حکم بھی دوسری اشیاء کی طرح ہے ۔‘‘

عَتَّابِ بْنِ أُسَيْدٍ ← رَجُلٌ: ← يحيى بن عامر، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 727

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [142] بَابُ التجارة والشرط في البيع · حديث 728

728 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في الرجل يشتري الجارية, ويشترط عليه أن لا يبيع, فكرهه وقال: ليست بامرأة تزوجتها, ولا بملك يمين, تصنع بها ما تصنع بملك يمينك. قال محمد: وبهذا نأخذ كل شرط اشترط في البيع ليس من البيع, فيه منفعة للبائع, أو للمشتري, أو للمشترى له فالبيع فيه فاسد وما كان من شرط لا منفعة فيه لواحد منهم فالبيع فيه جائز, والشرط فيه باطل, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اس شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو لونڈی خریدتا ہے اور اس پر یہ شرط رکھی جاتی ہے کہ وہ اس کو نہ بیچے تو یہ مکروہ ہے وہ فرماتے ہیں (اے بیچنے والے! )وہ ایسی عورت نہیں جس کے ساتھ تم نے نکاح کیا ہواور نہ تمہاری ملک یمین میں ہے کہ اس ساتھ وہ سلوک کرو جو تم اپنی لونڈی سے کر تے ہو ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم ان تمام باتوں کو اختیار کرتے ہیں‘ بیع میں رکھی گئی ہر وہ شرط جس کا بیع سے کوئی تعلق نہیں اور اس میں بیچنے والے یا خریدنے والے کو یا جس کے لئے وہ چیز خریدی گئی کا نفع ہوتو بیع فاسد ہو جائے گی اور جس شرط میں ان میں سے کسی کا نفع نہ ہوتو اس صورت میں بیع جائز ہے اور شرط باطل ہو جائے گی۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

ليست بامرأة تزوجتها, ولا بملك يمين, تصنع بها ما تصنع بملك يمينك. ← إبراهيم في الرجل يشتري الجارية, ويشترط عليه أن لا يبيع, فكرهه ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 728

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [142] بَابُ التجارة والشرط في البيع · حديث 729

729 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: سمعت عطاء بن أبي رباح وسئل عن ثمن الهر, فلم ير به بأسا. قال محمد: وبهذا نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى, لا بأس ببيع السباع كلها إذا كان لها قيمة.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘انہوں نے حضرت عطاء بن ابی رباح رحمتہ اللہ علیہ سے سنا ان سے بلی کی قیمت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے کہ درندوں کے بیچنے میں کوئی حرج نہیں جب کہ ان کی کوئی قیمت ہو۔‘‘

ثمن الهر, فلم ير به بأسا. ← عَطَاءَ بن أَبِي رَبَاحٍ، وَسُئِلَ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 729

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [143] بَابُ من باع نخلا حاملا, أو عبدا وله مال · حديث 730

730 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن أبي الزبير, عن جابر بن عبد الله الأنصاري رضي الله عنهما, عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: من باع نخلا مؤبرا, أو عبدا له مال فثمرته والمال للبائع إلا أن يشترط المشتري. #621# قال محمد: وبه نأخذ, إذا طلع الثمر في النخل, أو كان في الأرض زرع نابت فباعها صاحبها فالثمرة والزرع للبائع إلا أن يشترط ذلك المشتري. قال محمد: وبه نأخذ, وكذلك العبد إذا كان له مال, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت ابوالز بیر رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا جس شخص نے پیوند کیا ہوا درخت (یعنی پھل دار درخت ) فروخت کیا یا غلام بیچا جس کے پاس مال ہوتو اس درخت کا پھل اور ( غلام کا )مال بیچنے والے کا ہوگا البتہ خریدار شرط رکھے تو اس کا ہوگا۔‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں جب کھجور کے درخت میں پھل ظاہر ہو جائے یا زمین میں کھیتی اگ گئی ہو اور اب اس کا مالک فروخت کرے تو پھل اور کھیتی بیچنے والے کے لئے ہوگی البتہ یہ کہ مشتری شرط رکھے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اسی طرح جب غلام کے پاس مال ہو۔‘‘(تو اس کا بھی یہی حکم ہے) حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 730

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [144] بَابُ من اشترى سلعة فوجد بها عيبا, أو حبلا · حديث 731

731 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن الهيثم, عن ابن سيرين, عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه في الرجل يشتري الجارية, فيطؤها ثم يجد بها عيبا. قال: لا يستطيع ردها, ولكنه يرجع بنقصان العيب. #622# قال محمد: وبهذا كله نأخذ, وكذلك إن لم يطأها وحدث بها عيب عنده, ثم وجد بها عيبا دلسه له البائع, فإنه لا يستطيع ردها, ولكنه يرجع بحصة العيب الأول من الثمن إلا أن يشاء البائع أن يأخذها بالعيب الذي حدث عند المشتري, ولا يأخذ للعيب أرشا, ولا للوطء عقرا, فإن شاء ذلك أخذها وأعطى الثمن كله, وهذا كله قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت ھیثم رحمتہ اللہ علیہ سے وہ ابن سیرین رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ‘ سے اس شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں جولونڈی خرید کر اس سے وطی کرے اور اس کے بعد میں اس میں عیب پائے تو وہ فرماتے ہیں وہ اسے واپس نہیں کرسکتا البتہ عیب کے نقصان کے ساتھ رجوع کرسکتاہے۔(چٹی لے سکتاہے)حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اسی طرح اگر اس سے وطی نہ کرے اور اس کے ہاں اس میں عیب پیدا ہو جائے پھر اس میں ( پہلے موجود کوئی)عیب پائے جو بائع نے اس سے چھپایا تھا تو اس صورت میں بھی واپس نہیں کر سکتا بلکہ وہ پہلے عیب کے حصے کے مطابق قیمت میں واپس لے ہاں بائع اس عیب کے ساتھ قبول کر لے جو مشتری کے ہاں پیدا ہوا تو ٹھیک ہے لیکن وہ عیب کی چٹی نہیں لے گا اور نہ ہی وطی کی وجہ سے مال لے گا۔ اگر چاہے تو اسے واپس لے کر تمام قیمت واپس کر دے۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 731

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [144] بَابُ من اشترى سلعة فوجد بها عيبا, أو حبلا · حديث 732

732 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, أنه قال: من باع جارية حبلى, ثم ادعى الولد المشتري والبائع جميعا فهو للمشتري, فإن ادعاه البائع ونفاه المشتري فهو ولده, وإن نفياه جميعا فهو عبد للمشتري, وإن شكا فيه فهو بينهما, يرثهما ويرثانه. #623# قال محمد: ولسنا نأخذ بهذا, ولكنا نقول: إن جاءت به عند المشتري لأقل من ستة أشهر, فادعياه جميعا معا فهو ابن البائع, وينتقض البيع فيه وفي أمه, وإن جاءت به لأكثر من ستة أشهر مذ وقع الشراء فهو ابن المشتري, ولا دعوة للبائع فيه على كل حال, وإن شكا فيه, أو جحداه فهو عبد للمشتري, وهذا كله قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جس نے حاملہ لونڈی بیچی پرمشتری اور بائع دونوں نے بچے کا دعویٰ کیا تو وہ بچہ مشتری کا ہوگا اور اگر بائع دعویٰ اور مشتری نفی کرے تو وہ اس (بائع ) کا بچہ ہوگا اور اگر دونوں نفی کریں تو وہ مشتری کا ہوگا اور اگر دونوں کو شک ہوتو دونوں کے درمیان مشترک ہوگا وہ ان دونوں کا وارث ہوگا اور وہ اس کے وارث ہوں گے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں بلکہ ہم کہتے ہیں اگر مشتری کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور خریدنے سے اب تک چھ مہینے سے کم وقت گزرا ہے پھر دونوں نے دعوی ٰکیا تو وہ بائع کا بیٹا ہے اور اس کی اور اس کی ماں دونوں کی بیع ٹوٹ جائے گی اور اگر سودا ہونے کے بعد چھ ماہ سے زیادہ عرصہ گزرا پھر وہ بچہ پیدا ہوتو یہ مشتری کا بیٹا ہوگا اور بائع کسی حال میں بھی اس کا دعوی ٰنہیں کر سکتا اور اگر دونوں اس میں شک کا اظہا رکریں یا اس کا انکار کر یں تو وہ مشتری کا غلام ہوگا ۔‘‘ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ ان تمام باتوں کے قائل ہیں ۔

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 732

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [144] بَابُ من اشترى سلعة فوجد بها عيبا, أو حبلا · حديث 733

733 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: إذا وطئ المملوكة ثلاثة نفر في طهر واحد فادعوه جميعا فهو للآخر, وإن نفوه جميعا فهو عبد للآخر, إن قالوا: لا ندري ورثوه وورثهم جميعا. قال محمد: ولسنا نأخذ بهذا, ولكنهم إن ادعوه جميعا معا نظرنا بكم جاءت به مذ ملكه الآخر؟ فإن كانت جاءت به لأكثر من ستة أشهر فهو ابن المشتري الآخر, وإن كانت جاءت به لأقل من ستة أشهر مذ باعها الأول فهو ابن الأول, وإن نفوه جميعا, أو شكوا فيه فهو عبد للآخر, ولا يلزم النسب بالشك حتى يأتي اليقين. وهذا كله قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب کسی لونڈی سے تین آدمی ایک ہی طہر میں جماع کر یں پھر وہ سب اس بچے کا دعویٰ کر یں تو یہ دوسرے کا ہوگا اور اگر وہ سب اس کی نفی کریں تو وہ دوسرے کا غلام ہوگا اور اگر وہ کہیں کہ ہم نہیں جانتے تو وہ سب اس کے وارث ہوں اور وہ ان سب کا وارث ہوگا۔‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اس بات کو اختیار نہیں کرتے بلکہ وہ جب سب مل کر اس کا دعوی ٰکریں تو ہم دیکھیں گے کہ دوسرا آدمی جب اس کا مالک ہوا ہے اس کی کتنی مدت بعد وہ بچہ پیدا ہوا گر وہ چھ ماہ سے زیادہ مدت کے بعد پیدا ہوتو یہ دوسرے کا بیٹا ہوگا۔ اگر وہ پہلے شخص کے فروخت کرنے کے بعد چھ ماہ سے کم مدت میں پیدا ہوتو وہ پہلے کا بیٹا ہے اور اگر سب اس کی نفی کریں یا اس میں شک کریں تو وہ دوسرے کا غلام ہوگا اور شک سے نسب ثابت نہیں ہوگا جب تک یقین نہ ہو۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ بھی ان سب باتوں کے قائل ہیں۔

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 733

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [145] بَابُ الفرقة بين الأمة وزوجها وولدها · حديث 734

734 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا عبد الله بن الحسن قال: أقبل زيد بن حارثة رضي الله عنه برقيق من اليمن, فاحتاج إلى نفقة ينفق عليهم, فباع غلاما من الرقيق كان معه أمه, فلما قدم على النبي صلى الله عليه وسلم فتصفح الرقيق فبصر بالأم, فقال: ما لي أرى هذه والهة؟ قال: احتجنا إلى نفقة فبعنا ابنا لها, فأمره أن يرجع فيرده. #625# قال محمد: وبهذا نأخذ. نكره أن يفرق بين الوالدة, أو الوالد وولده إذا كان صغيرا, وكذلك الأخوان وكل ذي رحم محرم إذا كانا صغيرين, أو كان أحدهما صغيرا, ولا ينبغي أن يفرق بينهما في البيع, فأما إذا كانوا كبارا كلهم فلا بأس بالفرقة بينهم, وهذا كله قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے عبداللہ بن حسن رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ فرماتے ہیں حضرت زید بن حارثہ یمن رضی اللہ عنہ سے کچھ غلام لے کر آئے پس وہ ان کے اخراجات کیلئے ضرورت مند ہوئے تو ان میں ایک غلام بیچ دیا جس کے ساتھ اس کی ماں بھی تھی پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے کہ غلاموں کی حالت کو دیکھیں تو آپ نے (اس غلام کی )ماں کو دیکھا تو فرما یا یہ سخت غمگین کیوں ہے؟ انہوں نے عرض کیا ہمیں اخراجات کی ضرورت تھی پس ہم نے اس کے بیٹے کو بیچ دیانبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ اس بیع سے رجوع کر کے اسے واپس کریں۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں ہم اس بات کو مکر وہ سمجھتے ہیں کہ ماں یا باپ اور اس کی اولاد کے درمیان تفریق کی جائے جب بچہ چھوٹا ہو۔“اسی طرح بھائیوں اور ہر ذی رحم محرم کا مسئلہ ہے جب دونوں چھوٹے ہوں یا ان میں سے ایک چھوٹا ہو سودے میں ان دنوں کے درمیان تفریق کرنا مناسب نہیں لیکن جب سب بڑے ہوں تو اب ان میں تفریق کر نے میں کوئی حرج نہیں۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ ان تمام باتوں کے قائل ہیں ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 734

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [145] بَابُ الفرقة بين الأمة وزوجها وولدها · حديث 735

735 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, عن ابن مسعود رضي الله عنه في المملوكة تباع ولها زوج قال: بيعها طلاقها. قال محمد: ولسنا نأخذ بهذا هي امرأته وإن بيعت, قال: بلغنا ذلك عن عمر بن الخطاب, وعن علي بن أبي طالب, وعن عبد الرحمن بن عوف, وعن الحذيفة بن اليمان رضي الله عنهم, ولكن لا بأس أن يفرق بينهما في البيع, وهي امرأته على حالها, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جولونڈی فروخت کی جائے تو اس کا خاوند ہوتو اس کا سودا طلاق ہے۔ ‘‘(طلاق ہو جائے گی) حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اس بات کو اختیار نہیں کرتے وہ اس کی بیوی ہے اگر چہ اسے بیچا گیا۔“وہ فرماتے ہیں ہمیں حضرت عمر بن خطاب حضرت علی بن ابی طالب ‘حضرت عبد الرحمٰن بن عوف اور حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہم سے یہ بات پہنچی ہے لیکن بیع کے ذریعے ان میں تفریق کرنے میں کوئی حرج نہیں اور وہ اسی حالت میں اس کی بیوی ہوگی۔“

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← بَلَغَنَا ذَلِكَ ← محمد: ولسنا نأخذ بهذا هي امرأته وإن بيعت, ← «بَيْعُهَا طَلَاقُهَا» ← ابن مسعود في المملوكة تباع ولها زوج, ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 735

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [146] بَابُ السلم فيما يكال ويوزن · حديث 736

736 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: أسلم ما يكال فيما يوزن, وما يوزن فيما يكال, ولا تسلم ما يكال فيما يكال, #626# ولا ما يوزن فيما يوزن, وإذا اختلف النوعان فيما لا يكال, ولا يوزن فلا بأس باثنين بواحد يدا بيد, ولا بأس به نساء, وإذا كان من نوع واحد مما لا يكال ولا يوزن فلا بأس به اثنين بواحد يدا بيد. قال محمد: وبهذا كله نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جس چیز کا ماپ ہوتا ہے اس کا وزن کی جانے والی چیز میں بیع سلم کی جاسکتی ہے اور وزنی چیز کا کیلی (ماپی جانے والی )چیز کے ساتھ بیع سلم کی جاسکتی ہے لیکن کیلی چیز کا کیلی چیز سے بیع سلم صحیح نہیں اسی طرح وزنی چیز کاوزنی چیز سے بیع سلم جائز ہے۔“ اور جب دونوع مختلف ہوں اور وہ نہ کیلی ہوں اور نہ ہی وزنی تو ایک کے بدلے میں دود ینے میں کوئی حرج نہیں جب کہ نقد ہوں اور ادھار میں بھی کوئی حرج نہیں اور جب کیلی اور وزنی نہ ہوں اور ایک نوع سے ہوں تو نقد میں کوئی حرج نہیں۔ ‘‘(ادہار صحیح نہیں )حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم ان تمام باتوں کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 736

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [146] بَابُ السلم فيما يكال ويوزن · حديث 737

737 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, في الرجل يكون له على الرجل الدين فيجعله في السلم قال: لا خير فيه حتى يقبضه. #627# قال محمد: وبه نأخذ, لأن ذلك بيع الدين بالدين, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سےاور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اس شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں جس کا دوسرے کسی شخص کے ذمہ قرض ہواور وہ اس کو بیع سلم میں کر دے وہ فرماتے ہیں جب تک وہ اس پر قبضہ نہ کرے اس میں بھلائی نہیں ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں کیونکہ یہ قرض کے بدلے قرض کی بیع ہے ۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔‘‘

لا خير فيه حتى يقبضه. ← إبراهيم, في الرجل يكون له على الرجل الدين فيجعله في السلم ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 737

chevron_left Previous
1…555657…77
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter