Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [131] بَابُ ميراث الحميل والولد الذي يدعيه رجلان · حديث 702

702 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, أنه قال في رجلين يدعيان الولد: إنه ابنهما يرثهما ويرثانه, وهو للباقي منهما. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے ان دو آ دمیوں کے بارے میں فرمایا جو ایک بچے کا دعوی ٰکریں کہ اسے ان دونوں کا بچہ قرار دیا جائے گا وہ ان دونوں کا وارث ہوگا اور وہ دونوں اس کے وارث ہوں گے۔“حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور یہی حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے ۔‘‘

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← في رجلين يدعيان الولد: إنه ابنهما يرثهما ويرثانه, وهو للباقي منهما. ← إبْرَاهِيمَ أَنَّهُ ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 702

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [132] بَابُ من أحق بالولد, ومن يجبر على النفقة · حديث 703

703 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: الولد لأمه حتى يستغني, وقال إبراهيم: إذا استغنى الصبي عن أمه في الأكل, والشرب فالأب أحق به. قال محمد: وبه نأخذ, أما الذكر فهي أحق به حتى يأكل وحده, ويشرب وحده, ويلبس وحده, ثم أبوه أحق به, وأما الجارية فأمها أحق بها حتى تحيض, ثم أبوها أحق بها, ولا خيار في ذلك لواحد منهما, فإن تزوجت الأم فلا حق لها في الولد, والجدة أم الأم تقوم مقامها, فإن كان للجدة زوج فكان هو الجد لم تحرم الولد؛ لمكان زوجها, فإن كان لها زوج غير الجد فلا حق لها في الولد, والجدة أم الأب أحق منها إن لم يكن لها زوج, فإن كان لها زوج وهو الجد لم تحرم أيضا الولد؛ لمكان زوجها, إن كان زوجها غير الجد فلا حق لها في الولد, وهذا كله قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں بچہ ماں کے پاس رہے گا جب تک اس سے بے نیاز نہیں ہو جا تا حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جب بچہ کھانے اور پینے کے اعتبار سے ماں کا محتاج نہ رہے تو باپ کو اس کا زیادہ حق ہے۔‘‘حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں جہاں تک بچے کا تعلق ہے تو ماں اس کا زیادہ حق رکھتی ہے یہاں تک کہ وہ اکیلا کھانے لگے اور خود بخو دلباس پہن سکے پھر اس کے باپ کو اس کا زیادہ حق ہے ۔لیکن بچی کا حق ماں کے پاس اس وقت تک رہتا ہے جب اسے حیض آ جائے پھر باپ کو اس کا زیا دہ حق حاصل ہوتا ہے اس سلسلے میں ان میں سے کسی کو بھی اختیار نہیں ہے پس اگر ماں نکاح کرے تو اب بچے کےلئے اس کا حق باقی نہیں رہے گا ۔ اور نانی ان دونوں کے قائم مقام ہے جب نانی کا خاوند ہو اور اس بچے کا نانابھی ہوتو اب وہ خاوند کی وجہ سے بچے سے محروم نہیں ہوگی (کیونکہ یہ شخص بچے کے لئے نقصان کا باعث نہیں)اور اگر اس کا خاوندبچے کے نانا کے علاوہ ہو تو اب نانی کو بچے کا حق حاصل نہیں ہوگا۔‘‘اور دادی نانی کے مقابلے میں زیادہ حقدار ہوتی ہے اگر اس کا کوئی خاوند نہ ہو پس اگر اس کا خاوند ہو اور وہ اس بچے کا دادا ہو تو بھی وہ خاوند کی وجہ سے بچے سے محروم نہیں رہے گی اور اگر اس کا خاوند دادا کے علاوہ کوئی ہوتو اب دادی کو بچے کاحق حاصل نہیں ہوگا ۔‘‘یہ تمام باتیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک ہیں۔“

أمه في الأكل, والشرب فالأب أحق به. ← إبراهيم: إذا استغنى الصبي ← الولد لأمه حتى يستغني, ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 703

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [132] بَابُ من أحق بالولد, ومن يجبر على النفقة · حديث 704

704 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: أجبر على النفقة كل ذي رحم محرم. #599# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ہر ذی رحم کو نفقہ پر مجبور کیا جائے ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔‘‘

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← أجبر على النفقة كل ذي رحم محرم. ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 704

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [133] بَابُ هبة المرأة لزوجها والزوج لامرأته · حديث 705

705 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: الزوج, والمرأة بمنزلة القرابة, أيهما وهب لصاحبه فليس له أن يرجع فيه. #600# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں خاوند اور عورت قرابت داروں کی طرح ہوتے ہیں ان میں سے جو دوسرے کو کوئی چیز ہبہ کرے تو اسے واپس لینے کا کوئی حق نہیں ۔‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اورحضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← الزوج, والمرأة بمنزلة القرابة, أيهما وهب لصاحبه فليس له أن يرجع فيه. ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 705

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [134] بَابُ الأيمان والكفارات فيها · حديث 706

706 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: أقسم, وأقسم بالله, وأشهد وأشهد بالله, وأحلف وأحلف بالله, وعلي عهد الله, وعلي ذمة الله, وعلي نذر, وعلي نذر الله, وهو يهودي, وهو نصراني, وهو مجوسي, وهو بريء من الإسلام, كل هذا يمين يكفرها إذا حنث. قال محمد: وبهذا كله نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں یہ تمام الفاظ قسم ہیں جب قسم توڑے تو اس کا کفارہ دے میں قسم کھا تا ہوں ۔ مجھے اللہ کی قسم ہے میں گواہی دیتا ہوں میں اللہ تعالی ٰکو گواہ بنا تا ہوں میں حلف اٹھا تا ہوں اللہ کے نام پر حلف اٹھا تا ہوں اللہ تعالیٰ کے عہد پر اللہ تعالی ٰکے ذمہ پر نذر پر اللہ تعالیٰ کی نذر پر وہ یہودی ہے (اگر فلاں کام کرے یا نہ کرے ) وہ عیسائی ہے وہ مجوسی ہے وہ اسلام سے بری ہے ۔ ‘‘حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم ان تمام باتوں کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 706

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [134] بَابُ الأيمان والكفارات فيها · حديث 707

707 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في كفارة اليمين: إطعام عشرة مساكين, لكل مسكين نصف صاع من بر, أو الكسوة وهي ثوب, أو تحرير رقبة فمن لم يجد فصيام ثلاثة أيام. #601# قال محمد: وبهذا كله نأخذ, والأيام الثلاثة متتابعات لا يجزئه أن يفرق بينهن؛ لأنها في قراءة ابن مسعود رضي الله عنه: {فصيام ثلاثة أيام متتابعات} , وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے سے قسم کے کفارہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے ہر مسکین کے لئے نصف صاع ( دو کلو)گندم یا لباس ہے یا غلام آزاد کر نا ہے پس جوشخص (ان میں سے کوئی چیز )نہ پائے تو تین دن کے روزے رکھنا ہے ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم ان تمام باتوں کو اختیار کرتے ہیں اور تین دن مسلسل ہوں ان کے درمیان تفریق کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرات میں یوں ہے ’’فصیام ثلثۃ ایام متابعات‘‘ (پس تین دن مسلسل روزہ رکھنا )۔حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 707

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [134] بَابُ الأيمان والكفارات فيها · حديث 708

708 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: إذا أردت أن تطعم في كفارة اليمين فغداء وعشاء. #602# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب تم قسم کے کفارہ میں کھانا کھلانا چا ہو تو صبح اور شام کا کھانا کھلانا ہے۔‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں‘‘

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← إذا أردت أن تطعم في كفارة اليمين فغداء وعشاء. ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 708

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [135] بَابُ ما يجزئ في كفارة اليمين من التحرير · حديث 709

709 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: لا يجزئ المكاتب, ولا أم الولد, ولا المدبر في شيء من الكفارات, ويجزئ الصبي والكافر في الظهار. قال محمد: وبهذا كله نأخذ إلا في خصلة واحدة: المكاتب إذا لم يؤد شيئا من مكاتبته حتى يعتقه مولاه عن كفارته أجزأه ذلك, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کفاروں میں مکا تب ‘ام ولد اور مد برغلام جائز نہیں اور ظہار کے کفارے میں بچہ اور کافر ( غلام آزادکرنا) بھی کافی ہے۔ ‘‘حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم ان تمام باتوں کو اختیار کرتے ہیں البتہ ایک بات کو نہیں مانتے وہ یہ کہ مکا تب جب اپنی مکاتبیت ( کے بدل) میں سے کچھ بھی ادا نہ کرے حتی ٰ کہ اس کا مولی اسے اپنے کفارے سے آزاد کر دے تو اس کے لئے یہ کفایت کرتا ہے۔“حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کابھی یہی قول ہے ۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 709

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [136] بَابُ الاستثناء في اليمين · حديث 710

710 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن القاسم بن عبد الرحمن, عن أبيه, عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: من حلف على يمين فقال: إن شاء الله فقد استثنى.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت قاسم بن عبد الرحمٰن رحمتہ اللہ علیہ سے وہ اپنے والد سے اور وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے میں جو نص قسم اٹھائے ہوئے ’’ان شاءاللہ‘‘ کے الفاظ کہے تو اس نے استثناء کیا۔( کفارہ واجب نہ ہوگا )

من حلف على يمين فقال إن شاء الله فقد استثنى ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِيهِ ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 710

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [136] بَابُ الاستثناء في اليمين · حديث 711

711 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: من حلف على يمين فقال: إن شاء الله, فقد خرج من يمينه.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جو شخص قسم کھاتے ہوئے انشاء اللہ کے الفاظ کہے وہ اپنی قسم سے نکل گیا۔‘‘

من حلف على يمين فقال: إن شاء الله, فقد خرج من يمينه. ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 711

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [136] بَابُ الاستثناء في اليمين · حديث 712

712 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا عبيد الله, عن #604# سعيد بن جميل, عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: من حلف على يمين فقال: إن شاء الله, فلا حنث عليه. #605# قال محمد: فبهذا كله نأخذ, وهو قول أبي حنيفة في الأيمان كلها إذا كان قوله: إن شاء الله موصولا بكلامه, قبل كلامه, أو بعد كلامه.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے عبید اللہ رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ سعید بن جمیل رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جوشخص قسم کھاتے ہوئے ان شاءاللہ کہے تو اس پر قسم کے توڑنے کا کفارہ نہیں۔‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم ان تمام باتوں کو اختیار کر تے ہیں اورحضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی تمام قسموں میں یہی قول ہے جب اس کا قول’’انشاءاللہ ‘‘اس کے کلام سے پہلے یا بعد میں ملا ہوا ہو۔“

إن شاء الله, فلا حنث عليه. ← مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ ← ابْنِ عُمَرَ ← سعيد بن جميل, ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 712

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [136] بَابُ الاستثناء في اليمين · حديث 713

713 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: الاستثناء إذا كان متصلا وإلا فلا شيء. قال محمد: وبهذا كله نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى, وذلك يجزئه وإن لم يرفع به صوته.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب استثناء متصل ہو ( تو اس کا فائدہ ہے) اور نہ وہ کوئی چیز نہیں ۔‘‘( غیر معتبر ہے) حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم ان تمام باتوں کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے اور یہ اس کے لئے کافی ہے اگر چہ اس کے ساتھ اپنی آواز بلند نہ کرے۔“

الاستثناء إذا كان متصلا وإلا فلا شيء. ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 713

chevron_left Previous
1…535455…77
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter