Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [128] بَابُ ميراث الموالي · حديث 690

690 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: الولاء للبنين الذكور دون الإناث, فإذا درجوا, وذهبوا رجع الولاء إلى العصبة. قال محمد: وبهذا نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کر تے ہیں وہ فرماتے ہیں ولا ء مر دوں کے لئے ہوگی عورتوں کے لئے نہیں اگر وہ مر جائیں اور چلے میں ہوتو ولا ءعصبہ کی طرف لوٹ آئےگی۔‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

محمد: وبهذا نأخذ, وهو قول أبي حنيفة تعالى. ← الولاء للبنين الذكور دون الإناث, فإذا درجوا, وذهبوا رجع الولاء إلى العصبة. ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 690

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [128] بَابُ ميراث الموالي · حديث 691

691 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا محمد بن قيس الهمداني قال: أقبل رجل من أهل الذمة فأسلم على يدي ابن عم مسروق وتولاه, فمات وترك مالا, فانطلق مسروق فسأل عبد الله بن مسعود رضي الله عنه عن ميراثه فأمره بأكله.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے محمد بن قیس ہمدانی رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ فرماتے ہیں کہ ذمی لوگوں میں سے ایک شخص آیا اور اس نے حضرت مسروق رضی اللہ عنہ کے بھتیجے کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور ان سے موالات قائم کی لے پس وہ مر گیا اور اس نے مال چھوڑا تو حضرت مسروق رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کی وراثت کا مطالبہ کیا تو آپ نے اسے کھانے ( استعمال کرنے )کی اجازت دی۔‘‘

ميراثه فأمره بأكله. ← تولاه, فمات وترك مالا, فانطلق مسروق فسأل عبد الله بن مسعود ← أقبل رجل من أهل الذمة فأسلم على يدي ابن عم مسروق ← مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ الْهَمْدَانِيِّ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 691

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [128] بَابُ ميراث الموالي · حديث 692

692 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: إذا تولاك الرجل من أهل الذمة فعليك عقله, ولك ميراثه, وله أن يتحول بولائه ما لم تعقل عنه, وإذا عقلت عنه فليس له أن يتحول بولائه. #590# قال محمد: وبهذا كله نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب ذمی لوگوں میں سے کوئی تم سے موالات قائم کرے تو تم پر اس کی دیت ہے اور تمہارے لئے اس کی وراثت ہے ۔اور جب تک اس کی طرف سے دیت نہ دی جائے وہ موالات کو بدل سکتا ہے جب اس کی طرف سے دیت دی جائے تو اب اسے موالات کا حق نہیں۔‘‘حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم ان تمام باتوں کو اختیار کرتے ہیں اورحضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 692

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [129] بَابُ ميراث المتلاعنين وابن الملاعنة · حديث 693

693 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: إذا قذف الرجل امرأته فالتعن أحدهما توارثا ما لم يلتعن الآخر. قال محمد: وبه نأخذ, يتوارثان ما لم يتلاعنا جميعا, ويفرق السلطان بينهما, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب کوئی مرداپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے پس ان میں سے ایک لعان کا مطالبہ کرے تو جب تک دوسرالعان نہ کرے وہ ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔“حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں جب تک دونوں لعان نہ کریں وہ ایک دوسرے کے وارث ہوں گے اور حکمران ان دونوں کے درمیان تفریق کر دے۔“حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

إذا قذف الرجل امرأته فالتعن أحدهما توارثا ما لم يلتعن الآخر. ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 693

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [129] بَابُ ميراث المتلاعنين وابن الملاعنة · حديث 694

694 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, أنه قال في ميراث ابن الملاعنة: إذا كانت الأم وولدها ورثته فعلى الميراث, وإن كانت الأم وحدها فلها الميراث كله, وإن ماتت أمه, ثم مات بعد ذلك فاجعل ذوي قرابته من أمه كأنهم وارثوا أمه كأنها هي التي ماتت, إن كان أخا فله المال #591# كله, وإن كانت أختا فلها النصف, وإن كان أخا وأختا فالثلثان للأخ وللأخت الثلث, وإن كانتا أختين فلهما الثلثان. قال محمد: وبه نأخذ في قوله: إذا ورثته أمه وولدها, وفي قوله: إذا ورثته الأم خاصة, وأما ما سوى ذلك فلسنا نأخذ به, ولكنا نقول: إذا ماتت الأم نظر إلى أقربهم من ابن الملاعنة, فجعلنا له المال, فإن كانت القرابة واحدة فعلى القرابة, وإن ترك أخا وأختا فهو بمنزلة رجل غير ابن الملاعنة ترك أخاه لأمه, وأخته لأمه ولم يترك وارثا غيرهما ولا عصبة فالمال بينهما نصفان, وهذا كله قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے لعان کر نے والی عورت کے بیٹے کی وراثت کے بارے میں فرمایا اگر ماں اور اس کا بیٹا دونوں ہوں تو وہ میراث میں سے دوتہائی کی وارث ہوگی اور اگر ماں اکیلی ہوتو تمام وراثت اس کے لئے ہوگی ۔‘‘ اور اگر اس کی ماں مر جائے تو پھر وہ بیٹا اس کے بعد فوت ہوتو اس کی ماں کی طرف سے قرابت داروں کو دو گویا وہ اس کی ماں کے وارث ہیں اور گویا وہ عورت ہی فوت ہوتی اگر اس کا بھائی ہوتو تمام مال اس کے لئے ہوگا اور اگر بہن ہوتو اس کے لئے نصف ہوگا اگر بہن اور بھائی ہوں تو دوتہائی بھائی کے لئے اور ایک تہائی بہن کےلئے ہوگا اور اگر دو بہنیں ہوں (بھائی نہ ہو )تو ان کے لئے دو تہائی ہوگا ۔ ‘‘حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فر ماتے ہیں ہم ان کے اس قول کہ جب اس کی وارث ماں اور اس کا بیٹا ہو میں اسی بات کو اختیار کر تے ہیں اور یہ قول کہ صرف مان وارث ہو اس میں یہی (مذکورہ بالا ) قول اختیار کرتے ہیں لیکن اس کے علاوہ میں ہم اسی کو اختیار نہیں کرتے بلکہ ہم کہتے ہیں جب ماں مر جائے تو لعان کر نے والی عورت کے بیٹے کے زیادہ قریبی رشتہ دار کو دیکھا جائے پس ہم تمام مال اس کے لئے کر دیں گے اور اگر قرابت ایک ہی ہوتو قرابت کے اعتبار سے ہوگا اور اگر وہ بھائی بہن چھوڑے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جولعان والی کا بیٹا نہیں ہے اور اس نے ماں کی طرف سے بھائی اور بہن چھوڑے اور ان دونوں کے علاوہ کوئی وارث نہیں چھوڑا نہ کوئی عصبہ رشتہ دار چھوڑ اتو وہ مال دونوں کے درمیان نصف نصف ہوگا۔‘‘یہ تمام باتیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک ہیں۔“

في ميراث ابن الملاعنة: إذا كانت الأم ← إبْرَاهِيمَ أَنَّهُ ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 694

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [129] بَابُ ميراث المتلاعنين وابن الملاعنة · حديث 695

695 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, أنه قال في ابن المتلاعنين يموت ويترك أمه, وأخاه, وأخته لأمه, قال إبراهيم: لهما الثلث, وما بقي لأمه. #592# قال محمد: ولسنا نأخذ بهذا, ولكن لهما الثلث, وللأم السدس, وما بقي فهو رد على ثلاثة أسهم على قدر مواريثهم, وهذا قياس قول عبد الله بن مسعود رضي الله عنه؛ لأنه كان لا يرد على الأخوة من الأم مع الأم. وكان علي رضي الله عنه يرد عليهم على مواريثهم, فبقول علي بن أبي طالب نأخذ.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ دولعان کرنے والوں کا بیٹا فوت ہو جائے اور وہ اپنی ماں بھائی اور بہنیں چھوڑ جائے جو ماں کی طرف سے ہوں تو حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے میں ان دونوں کو ایک تہائی ملے گا اور باقی اس کی ماں کے لئے ہوگا ۔‘‘حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اس بات کو اختیار نہیں کرتے بلکہ ان دونوں کے لئے ایک تہائی اور ماں کے لئے چھٹا حصہ ہو گا اور جو کچھ باقی بچے گا وہ ان کی وراثت کے مطابق تین حصوں میں ان کی طرف لوٹے گا۔“حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول کا قیاس بھی یہی ہے کیونکہ وہ ماں کے ساتھ ان بہن بھائیوں کی طرف نہیں لوٹاتے جو ماں کی طرف سے ہوں اور حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ان کی وراثت کے مطابق ان پر لوٹاتے تھے پس ہم حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا قول اختیار کرتے ہیں۔“

إبراهيم: لهما الثلث, وما بقي لأمه. ← في ابن المتلاعنين يموت ويترك أمه, وأخاه, وأخته لأمه, ← إبْرَاهِيمَ أَنَّهُ ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 695

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [129] بَابُ ميراث المتلاعنين وابن الملاعنة · حديث 696

696 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا حماد, عن إبراهيم قال: الأم عصبة من لا عصبة له, إذا ترك ابن الملاعنة أمه كان المال لها, فإذا لم يترك أمه نظر إلى من يرث أمه فهو يرثه. #593# قال محمد: وأما في قولنا, فإذا ترك أمه لم يترك غيرها ممن يرث ممن له سهم فالمال لها, وإن لم تكن له أم حية, ولا ذو سهم فالمال لأقرب الناس من ابن الملاعنة, ولا ينظر في هذا إلى من كان يرث أمه, وهذا كله قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے رایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جس کا عصبہ نہ ہو ماں اس کا عصبہ ہے جب لعان کرنے والی عورت کا بیٹا اپنی ماں چھوڑ جائے تو تمام مال اس ماں کا ہوگا اور اگر ماں نہ چھوڑی تو دیکھا جائے جو اس کی ماں کا وارث ہو گا وہی اس (بیٹے) کا بھی وارث ہوگا حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمارے قول کے مطابق جب وہ صرف ماں کو چھوڑے کسی اور کو نہ چھوڑے جو اس کا وارث بن کر کچھ حصہ لیتا ہوتو تمام مال (ماں) کے لئے ہوگا اور اگر اس کی ماں زندہ نہ ہو نہ کوئی اور حصہ دار ہوتو یہ اس کو ملے گا جو اس لعان والی عورت کا سب سے زیادہ قریبی ہواور اس وقت ہی نہیں دیکھا جائےگا کہ اس کی ماں کا وارث کون بنتا ہے ۔‘‘

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 696

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [129] بَابُ ميراث المتلاعنين وابن الملاعنة · حديث 697

697 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: ابن الملاعنة عصبته عصبة أمه, إذا ترك أمه كان لها المال. قال محمد: يكون لها المال إذا لم يترك وارثا غيرها, وإنما تفسير قوله: عصبته عصبة أمه, في العقل هم الذين يعقلون عنه, فأما في الميراث فيرثه أقرب الناس منه على قدر القرابة من ابن الملاعنة, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں لعان والی عورت کے بیٹے کا عصبہ وہی ہے جو اس کی ماں کا عصبہ ہے جب انہی کو چھوڑے تو تمام مال اس کا ہوگا۔‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس عورت کے لئے مال تب ہو گا جب وہ لڑکا اس کے علاوہ کوئی وارث نہ چھوڑے اور ان کایہ فرمانا کہ اس کا عصہ وہی ہے جو اس کی ماں کا عصبہ ہے تو یہ دیت کے بارے میں ہے اس کی دیت و ہی ادا کر یں گے ( جواس کی ماں کی دیت کے ذمہ دار ہیں ) جہاں تک میراث کا تعلق ہے تو لعان والی عورت سے جو سب سے زیادہ قریب ہوں گے وہی اس قرابت کے مطابق وارث ہوں گے۔“

ابن الملاعنة عصبته عصبة أمه, إذا ترك أمه كان لها المال. ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 697

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [130] بَابُ العمرى · حديث 698

698 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: من أعمر شيئا فهو له حياته, ولعقبه من بعده, ولا يكون من ثلثه. #594# قال محمد: يعني ولا يكون من ثلث المعمر الأول.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جس کو کوئی چیز عمر بھر کے لئے دی گئی وہ زندگی بھر اسی کی ہوگی اور اس کے بعد اس کے وارثوں کی ہوگی اور وہ اس کی تہائی سے نہیں ہوگی ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جس نے شروع میں یہ عطیہ دیا اس کی تہائی سے نہیں ہوگی ۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 698

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [130] بَابُ العمرى · حديث 699

699 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا بلال, عن وهب بن كيسان, عن جابر بن عبد الله رضي الله عنه, عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: فشت العمرى في المدينة, فصعد النبي صلى الله عليه وسلم المنبر فقال: أيها الناس, احبسوا عليكم أموالكم, ولا تهلكوها, فإنه من أعمر شيئا في حياته فهو للذي أعمر بعد موته. #595# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے بیان کیا وہ حضرت وہب بن کیسان رضی اللہ عنہ سے وہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں مد ینہ منورہ میں عمری عام ہو گیا تو منبر پر تشریف فرما ہوئےاور فرمایا اے لوگو! اپنے مالوں کو اپنے پاس روک کر رکھو اور ان کو ہلاک نہ کرو جوشخص اپنی زندگی میں کسی کو عمر بھر کے لئے دیتا ہے تو وہ جس کو دیا گیا اس کے مرنے کے بعد بھی اسی کا ہوگا ۔ ‘‘حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، ← بِلَالٍ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 699

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [130] بَابُ العمرى · حديث 700

700 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا حبيب بن أبي ثابت, عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال: كنت عنده قاعدا إذ جاءه أعرابي يسأله عن العمرى, فأخبره أنها ميراث للذي هي في يديه.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے حبیب بن ابی ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں ان (حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ ) کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک اعرابی آ یا اور اس نے عمری ٰکے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ جس کے قبضے میں ہے اس کی میراث ہے۔“

العمرى, فأخبره أنها ميراث للذي هي في يديه. ← كنت عنده قاعدا إذ جاءه أعرابي يسأله ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 700

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [131] بَابُ ميراث الحميل والولد الذي يدعيه رجلان · حديث 701

701 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن المجالد بن سعيد, عن عامر الشعبي قال: كتب عمر بن الخطاب رضي الله عنه أن لا يورث الحميل إلا أن تقيم بينة, #597# وبه نأخذ. قال محمد: والحميل امرأة تسبى ومعها صبي تحمله فتقول: هو ابني, فلا يكون ابنها بقوله إلا ببينة, وتقبل على ولادتها شهادة امرأة حرة مسلمة, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت مجاہد بن سعید رحمتہ اللہ علیہ سے اور حضرت شعبی رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ جمیل (عورت) کی وراثت تقسیم نہیں ہوگی مگر یہ کہ وہ گواہی قائم کرے۔ ‘‘حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں اور حمیل وہ عورت ہے جسے قیدی بنایا گیا اور اس کے ساتھ بچہ ہو جسے اس نے اٹھارکھا ہوار وہ کہے کہ یہ میرا بیٹا ہے پس اس کے کہنے پر اس کو اس کا بیٹا قرار نہیں دیا جائے گا جب تک وہ گواہ پیش نہ کرے اور اس کے پیدائش پر ایک آزاد مسلمان عورت کی گواہی بھی قبول کی جائے گی ۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا یہی قول ہے ۔“

عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ← المجالد بن سعيدٍ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 701

chevron_left Previous
1…525354…77
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter