Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [123] بَابُ مكاتبة المكاتب · حديث 678

678 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في قول الله تعالى {فكاتبوهم إن علمتم فيهم خيرا} , قال: إن علمتم أن فيهم أداء.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اللہ تعالی ٰکے اس قول فكاتبوهم إن علمتم فيهم خيرا ( پ ۱۸ النور۳۳) پس ان کو مکا تب بناؤ اگر ان میں بھلائی معلوم کرو ۔کے بارے میں فرماتے ہیں اگر تمہیں معلوم ہو کہ وہ ( بدل کتابت )ادا کر یں گے ۔‘‘

إن علمتم أن فيهم أداء. ← إبراهيم في قول الله تعالى {فكاتبوهم إن علمتم فيهم خيرا} ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 678

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [123] بَابُ مكاتبة المكاتب · حديث 679

679 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: إذا كاتب الرجل عبدين له على ألف درهم مكاتبة واحدة, وجعل نجومهما واحدة, وقال: إن أديا فهما حران, وإن عجزا فهما ردا في الرق, قال إبراهيم: لا يعتقان حتى يؤديا جميع الألف. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں اگر کوئی شخص اپنے دو غلاموں کو ایک ہزار درہم میں ایک ہی مکا تبت میں مکا تب بنائے اور دونوں کی ادائیگی کو اکٹھار کھے تو اگر وہ دونوں ادا کر دیں تو دونوں آزاد ہو جائیں گے اور اگر دونوں عاجز ہو جائیں تو دونوں غلامی میں لوٹ جائیں گے حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جب تک دونوں ایک ہزار درہم ادا نہ کر یں تو دونوں آزادنہیں ہوں گے ۔‘‘حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔‘‘

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 679

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [123] بَابُ مكاتبة المكاتب · حديث 680

680 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, أنه قال في رجل كاتب غلامين على ألف درهم ثم مات أحدهما: إنه إن كان قال: إذا أديتما الألف فأنتما حران وإلا فأنتما مملوكان, ثم مات أحدهما فإنه يأخذ الحي بالألف كلها, فإن كاتبهما على الألف ولم يشترط فإنه لا يأخذه إلا بالحصة, بنصف الأول وبقيمة الباقي. قال محمد: وبه نأخذ في جميع الحديث إذا لم يشترط شيئا فمات أحدهما قسمت المكاتبة على قيمتهما, فبطل من المكاتبة حصة قيمة الميت, ووجبت #581# على الحي الآخر قيمته, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے اس شخص کے بارے میں فر ما یا جو دو غلاموں کو ایک ہزار درہم میں مکا تب بنائے پھر ان میں سے ایک مر جائے تو اگر اس نے یوں کہا تھا کہ اگر تم دونوں ایک ہزار ادا کر دوتو دونوں آزاد ہو ورنہ دونوں غلام رہو گے۔ پھر ان میں سے ایک مرجائے تو وہ زندہ غلام سے پورے ہزار درہم وصول کرے اور اگر ایک ہزار پر دونوں کو مکاتب بنائے اور کوئی شرط نہ ر کھے تو اب اس میں (زندہ) سے اس کے حصے کے مطابق وصول کرے پہلے کا نصف اور باقی کی قیمت ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم تمام حدیث میں اسی بات کو اختیار کرتے ہیں جب کوئی شرط نہ رکھے پس ان میں سے ایک مرجائے تو مکاتبت ( کی رقم ) دونوں کی قیمت پرتقسیم کی جائے اب میت کی قیمت کا حصہ مکاتبت سے باطل ہو جائے گا اور زندہ پر اس کی قیمت واجب ہوگی۔‘‘حضر ت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 680

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [124] بَابُ المكاتب يؤخذ منه الكفيل · حديث 681

681 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا حماد, عن إبراهيم, أنه قال في الكفالة في المكاتبة: ليست بشيء إنما هو مالك كفل لك به, وكذلك إنه لو عجز وقد أخذت من الكفالة بعض مكاتبته رد المكاتب في الرق, ولم يكن لك ما أخذت؛ لأن ما أخذت منهم فهو ملك لهم, في رقبة عبدك. قال محمد: وبه نأخذ, إذا كفل الرجل الرجل بالمكاتبة عن مكاتبه فالكفالة باطلة, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے مکاتبت میں کفالت کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ یہ کوئی چیز نہیں وہ اس چیز کا مالک ہے جس کا اس نے تمہارے لئے کفالہ کیا اسی طرح اگر وہ عاجز ہو جائے اور تم نے اس کی بعض مکاتبت میں کفالہ اختیار کیا تو مکاتب غلامی میں چلا جائے گا اور جو کچھ تم نےلیا وہ تمہارے لئے نہیں ہوگا کیونکہ تم نے ان سے جو کچھ لیا وہ ان کی ملک ہے اور تمہارے غلام کی گردن چھڑانے کے لئے استعمال ہو۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں ‘جب کوئی شخص کسی دوسرے کو مکاتبت کا کفیل بنائے تو کفالہ باطل ہوگا۔‘‘حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 681

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [125] بَابُ ميراث القاتل · حديث 682

682 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: لا يرث قاتل من قتل خطأ, أو عمدا, ولكنه يرثه أولى الناس به بعده. #582# قال محمد: وبه نأخذ, لا يرث من قتل خطأ أو عمدا من الدية, ولا من غيرها شيئا, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جوشخص کسی کوغلطی سے یا جان بوجھ کر قتل کرے تو قاتل اس کا وارث نہیں ہوگالیکن اس کے بعد جو اس کا سب سے زیادہ قریبی ہے وہ وارث ہوگا۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں کہ جوشخص غلطی سے یا جان بوجھ کر کسی کوقتل کرے تو یہ اس کی دیت کا اور دوسری کسی بھی چیز کا وارث نہیں ہوگا۔‘‘

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 682

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [126] بَابُ من مات ولم يترك وارثا مسلما · حديث 683

683 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه أنه قال: المشركون بعضهم أولى ببعض لا نرثهم ولا يرثونا. #583# قال محمد: وبه نأخذ, والكفر ملة واحدة يتوارثون عليها, وإن اختلفت أديانهم يرث النصراني اليهودي, واليهودي المجوسي, ولا يرثهم المسلمون, ولا يرثونهم, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا مشرکین ایک دوسرے کے زیادہ قریب ہیں نہ ہم ان کے وارث ہیں اور نہ وہ ہمارے وارث ہوں گے۔“حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں اور کفر ایک ملت ہے وہ ایک دوسرے کے وارث ہیں اگر چہ ان کے دین مختلف ہوں عیسائی یہودی کا وارث ہوگا اور یہودی مجوسی کا وارث ہوگا اور مسلمان ان کے وارث نہیں ہوں گے اور نہ وہ مسلمانوں کے وارث ہیں ۔ ‘‘

المشركون بعضهم أولى ببعض لا نرثهم ولا يرثونا. ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 683

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [126] بَابُ من مات ولم يترك وارثا مسلما · حديث 684

684 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في النصراني يموت وليس له وارث قال: ميراثه لبيت المال. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اس عیسائی کے بارے میں روایت کرتے ہیں جومر جائے اور اس کا کوئی وارث نہ ہوفرماتے ہیں اس کی وراثت بیت المال میں جمع کی جائے ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← ميراثه لبيت المال. ← إبراهيم في النصراني يموت وليس له وارث ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 684

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [126] بَابُ من مات ولم يترك وارثا مسلما · حديث 685

685 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في الولد الصغير يموت, وأحد أبويه كافر, والآخر مسلم, إنه يرثه المسلم أيهما كان. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ کوئی چھوٹا بچہ فوت ہو جائے اور اس کے ماں باپ میں سے ایک کافر اور دوسرا مسلمان ہوتو مسلمان اس کا وارث ہو گا وہ جو بھی ہوں ۔‘‘ (ماں یا باپ ) حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔‘‘

حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 685

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [126] بَابُ من مات ولم يترك وارثا مسلما · حديث 686

686 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في الولد #584# يكون أحد والديه مسلما والآخر مشركا قال: هو للمسلم منهما. قال محمد: وبه نأخذ, هو على دين المسلم منهما أيهما كان, فإن كانا كافرين جميعا أحدهما من أهل الكتاب فالولد على دين الذي من أهل الكتاب منهما تحل له مناكحته, وأكل ذبيحته, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اس بچے کے بارے میں روایت کرتے ہیں جس کے والدین میں سے ایک مسلمان اور دوسرا مشرک ہو وہ فرماتے ہیں وہ بچہ ان میں سے مسلمان کا ہوگا ۔ ‘‘حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں وہ ان میں سے مسلمان کے دین پر ہوگا وہ ان میں سے کوئی بھی ہو (ماں یا باپ پر ) اگر دونوں کا فر ہوں لیکن ان میں سے ایک اہل کتاب سے ہوتو بچہ ان میں سے اہل کتاب کے دین پر ہوگا اس سے نکاح بھی درست ہوگا اور اس کا ذبیحہ بھی حلال ہوگا۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

هو للمسلم منهما. ← إبراهيم في الولد يكون أحد والديه مسلما والآخر مشركا ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 686

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [126] بَابُ من مات ولم يترك وارثا مسلما · حديث 687

687 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا الهيثم, عن عامر الشعبي, عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه, أنه قال: يا معشر همدان! إنه يموت الرجل منكم ولا يترك وارثا فليضع ماله حيث أحب. #585# قال محمد: وبه نأخذ, إذا لم يدع وارثا فأوصى بماله كله جاز ذلك, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے الھیثم رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت عامر شعبی رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا اے ہمدان کے گروہ ! تم سے کوئی شخص مر جا تا ہے اور وارث نہیں چھوڑتا تو وہ جہاں پسند کرے اپنا مال صرف کرئے حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں ‘جب وارث نہ چھوڑے تو اور تمام مال کی وصیت کرے تو جائز ہے۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

عبد الله بن مسعود أنه ← عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ← الْهَيْثَمُ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 687

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [127] بَابُ الرجل يموت ويترك امرأته فيختلفان في المتاع · حديث 688

688 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: إذا مات الرجل وترك امرأته فما كان في البيت من متاع النساء فهو للنساء, وما كان في البيت من متاع الرجال فهو للرجل, وما كان من متاع يكون للرجال والنساء فهو لهما؛ لأنها هي الباقية, وإذا ماتت المرأة فما كان في البيت من متاع الرجال فهو للرجل؛ وما كان من متاع النساء فهو لها، وما لهما جميعا فهو للرجل، لأنه الباقي وإذا طلقها فما كان من متاع الرجال والنساء فهو للرجل؛ لأنه الباقي وهي الخارجة إلا أن تقيم على شيء بينة فتأخذه. #586# قال محمد: وبهذا كله كان يأخذ أبو حنيفة رحمه الله تعالى. قال محمد: ولسنا نأخذ بهذا, ولكن ما كان من متاع الرجال فهو للرجل, وما كان من متاع النساء فهو للمرأة, وما كان يكون لهما جميعا فهو للرجل على كل حال إن مات, أو طلق, أو لم يطلق. وقال ابن أبي ليلى: المتاع كله متاع الرجل ما كان يكون للرجال والنساء وغير ذلك إلا لباسها. وقال غيره من الفقهاء: ما كان يكون للرجال فهو للرجل, وما يكون للنساء فهو للمرأة, وما كان يكون لهما جميعا فهو بينهما نصفان. #587# وقد قال ذلك زفر, وقد يروى عن إبراهيم النخعي. وقال بعض الفقهاء أيضا: جميع ما في البيت من متاع للرجال والنساء وغير ذلك بينهما نصفان. وقال بعض الفقهاء أيضا: البيت بيت المرأة, فما كان من متاع الرجال والنساء فهو للمرأة. وقال بعض الفقهاء أيضا: تعطى المرأة من متاع النساء ما يجهز به مثلها وجميع ما بقي في البيت فهو كله للرجل إن مات, أو ماتت.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب کوئی آدمی مر جائے اور بیوی چھوڑ جائے تو گھر میں جو سامان عورتوں سے متعلق ہوگا وہ اس کا ہوگا اور مردوں سے متعلق ہوگا وہ مردوں(وارثوں) کا ہوگا اور جو سامان مردوں اور عورتوں کےلئے ہوسکتاہےوہ اس عورت کا ہوگا کیونکہ وہی باقی (زندہ)ہے۔‘‘اوراگرعورت فوت ہوجائے تو گھر میں جو سامان مردوں کے سامان سے ہوگا وہ مرد اور جو دونوں کے لئے ہوتا ہے وہ مرد کے لئے ہوگا کیونکہ وہی باقی (زندہ) ہے اور جب وہ اپنی بیوی کو طلاق دے تو جو سامان مردوں اور عورتوں کے سامان سے ہے وہ مرد کے لئے ہے کیونکہ وہی (گھر میں) باقی ہے اور عورت ہی باہر چلی گئی البتہ وہ کسی خاص چیز کی ذاتی ملکیت پر گواہ قائم کر دے تو اسے لے سکتی ہے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اس بات کے قائل نہیں ہیں لیکن جو مردوں کے سامان سے ہے وہ مرد کے لئے ہے اور جو عورتوں کے سامان سے ہے وہ عورت کے لئے ہے اور جو دونوں کے درمیان مشترک ہے ‘وہ ہر حالت میں مرد کا ہے اگر وہ مر جا تا ہے یا طلاق دیتا ہے یا طلاق نہیں دیتا۔“ ابن ابی لیلی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا تمام کا تمام سامان مرد کا ہے وہ مردوعورت کے لیے ہو یا اس کے علاوہ ہو سوائےعورت کے لباس کے۔اور دیگر فقہا ءفرماتے ہیں جومرد کے لئے ہوتا ہے وہ مردکا اور جوعورتوں کے لئے ہوتا ہے وہ عورت کے لئے ہے اور جو ( مرد وعورت )دونوں کے لئے ہوتا ہے وہ ان دونوں کے درمیان نصف نصف ہوگا۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ نے بھی یہی بات فرمائی ہے اور حضرت ابراہیم نخعی رحمتہ اللہ علیہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔“ بعض دیگر فقہاء اس طرح فرماتے ہیں کہ گھر کا تمام سامان جو مردوں اور عورتوں سے متعلق ہے وہ ان دونوں کے درمیان نصف نصف ہے۔ ‘‘ بعض فقہاء نے یوں فرمایا ہے گھر عورت کا گھر ہے پس جو سامان مردوں اور عورتوں کے سامان سےہے وہ عورت کے لئے ہے بعض فقہاء نے فرمایا عورتوں کے سامان سے عورت کو وہ سامان دیا جائے جس کی مثل جہیز میں دیا جا تا ہے اور باقی جو کچھ گھر میں رہے گا وہ سب مرد کا ہوگا چاہے مردکا انتقال ہو یا عورت کا ۔‘‘

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 688

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [128] بَابُ ميراث الموالي · حديث 689

689 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, أن علي بن أبي طالب والزبير بن العوام رضي الله عنهما اختصما إلى عمر بن الخطاب رضي الله عنه في مولى لصفية بنت عبد المطلب رضي الله عنها مات, فقال الزبير: أمي, وأنا أرثها وأرث مواليها. وقال علي رضي الله عنه: عمتي, وأنا أعقل عنها. فجعل عمر رضي الله عنه #588# الميراث للزبير رضي الله عنه, وجعل العقل على علي بن أبي طالب رضي الله عنه. قال محمد: وبهذا نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما نے حضرت صفیہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام کے بارے میں جو فوت ہو گیا تھا اپنا مقدمہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہا نے فرمایا حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا میری ماں ہیں میں ان کا بھی وارث ہوں اور ان کے غلاموں کا بھی وارث ہو۔“ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ میری پھوپھی تھیں اور میں ان کی طرف سے دیت دیتا ہوں پس حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس غلام کی میراث حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے لئے مقررفرمائی اور دیت حضرت علی المرتضی ٰرضی اللہ عنہ پرڈالی ۔ (کیونکہ دیت عاقلہ( خاندان ) پر ہوتی ہے ) حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 689

chevron_left Previous
1…515253…77
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter