Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [112] بَابُ شهادة الزور · حديث 642

642 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثني رجل, عن عامر الشعبي, أنه كان يضرب شاهد الزور ما بينه وبين أربعين سوطا. #556# قال محمد: وبه نأخذ.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم نے حضرت عامر شعبی رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ وہ جھوٹے گواہ کو چالیس کوڑوں تک (یعنی ان سے کم ) مارتے تھےحضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں ۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ ← عامر الشعبي, أنه كان يضرب شاهد الزور ما بينه وبين أربعين سوطا. ← رَجُلٌ: ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 642

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [106] بَابُ شهادة النساء ما يجوز منها, وما لا يجوز · حديث 643

643 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: شهادة النساء مع الرجال جائزة في كل شيء ما خلا الحدود. قال محمد: ونحن نقول: ما خلا الحدود والقصاص, وهو قول أبي حنيفة.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں مردوں کے ساتھ عورتوں کی گواہی حدود کے علاوہ ہر جگہ جائز ہے۔ ‘‘حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم کہتے ہیں حدود اور قصاص کے علاوہ جائز ہے اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

محمد: ونحن نقول: ما خلا الحدود والقصاص, وهو قول أبي حنيفة. ← شهادة النساء مع الرجال جائزة في كل شيء ما خلا الحدود. ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 643

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [106] بَابُ شهادة النساء ما يجوز منها, وما لا يجوز · حديث 644

644 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا حماد, عن إبراهيم, أنه كان يجيز شهادة المرأة على الاستهلال في الصبي. #557# قال محمد: وبه نأخذ, إذا كانت عدلا مسلمة, وكان أبو حنيفة يقول: لا تقبل على الاستهلال إلا شهادة رجلين, أو رجل وامرأتين فأما الولادة من الزوجة فتقبل فيها شهادة المرأة إذا كانت عدلا مسلمة, فهذا عندنا سواء.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت حمادرحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ پیدائش کے وقت بچے کے آواز نکالنے پر عورت کی گواہی کو جائز قرار دیتے ہیں ۔‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں جب کہ وہ عورت عادل مسلمان ہو اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے تھے بچے کے آواز نکالنے پر دومردوں یا ایک مرد اور دوعورتوں کی گواہی قبول کی جائے ۔البتہ اس عورت سے محض بچے کی ولادت پر ایک عورت کی گواہی قبول کی جائے جب وہ عادل اور مسلمان ہوپس یہ ہمارے نزد یک برابر ہے۔“

محمد: وبه نأخذ, إذا كانت عدلا مسلمة, وكان أبو حنيفة ← إبراهيم, أنه كان يجيز شهادة المرأة على الاستهلال في الصبي. ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 644

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [114] بَابُ من لا تقبل شهادته للقرابة وغيرها · حديث 645

645 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا الهيثم, عن شريح قال: أربعة لا تجوز شهادة بعضهم لبعض: المرأة لزوجها, والزوج لامرأته, والأب لابنه, والابن لأبيه, والشريك لشريكه, والمحدود حدا في قذف. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى إلا أنا نقول: تجوز شهادة الشريك لشريكه في غير شركتهما.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے الھیثم رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت شریح رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں چار قسم کے لوگ ہیں کہ ان میں سے بعض کی گواہی بعض کے لئے قبول نہ کی جائے عورت کی خاوند کے حق میں باپ کی گواہی بیٹے کے حق میں اور بیٹے کی گواہی باپ کے حق میں شریک کی گواہی شریک کے حق میں ( مثلا کاروباری شراکت میں ) اور جسے قذف کے سلسلے میں حد لگائی جائے ۔‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے البتہ ہم کہتے ہیں شریک کی گواہی شریک کے حق میں اس وقت جائز ہے جب ان کی شرکت کے علاوہ کسی معاملے میں ہو۔!

شُرَيْحٍ ← الْهَيْثَمُ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 645

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [114] بَابُ من لا تقبل شهادته للقرابة وغيرها · حديث 646

646 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا الهيثم عن عامر الشعبي أنه قال: لا تجوز شهادة المرأة لزوجها ولا الزوج لامرأته، ولا الأب لابنه، ولا الابن لأبيه، ولا الشريك لشريكه، والله أعلم.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے الھیثم رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت عامر شعبی رحمتہ اللہ علیہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں عورت کی گواہی خاوند کے حق میں جائز نہیں اور نہ خاوند کی گواہی عورت کے حق میں جائز ہے اسی طرح باپ کی گواہی بیٹے کے حق میں بیٹے کی باپ کے حق میں اور شریک کی گواہی شریک کے حق میں بھی جائز نہیں ۔ واللہ اعلم

عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ أَنَّهُ ← الْهَيْثَمُ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 646

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [115] بَابُ شهادة الصبيان · حديث 647

647 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, عن شريح قال: كتب هشام بن هبيرة يسأله عن خمس: عن شهادات الصبيان, وعن جراحات النساء والرجال, وعن دية الأصابع, وعن عين الدابة, والرجل يقر بولده عند الموت؟ فكتب إليه أن شهادة الصبيان بعضهم على بعض جائزة إذا اتفقوا, وجراحات النساء والرجال تستويان في السن والموضحة, وتختلفان فيما سوى ذلك, ودية أصابع اليدين والرجلين سواء, وفي عين الدابة ربع ثمنها, والرجل يقر بولده عند الموت أنه أصدق ما يكون عند الموت. #559# قال محمد: وبهذا كله نأخذ إلا في خصلتين: أحدهما: شهادة الصبيان عندنا باطل اتفقوا أو اختلفوا؛ لأن الله تعالى يقول في كتابه: {وأشهدوا ذوي عدل منكم} {واستشهدوا شهيدين من رجالكم فإن لم يكونا رجلين فرجل وامرأتان ممن ترضون من الشهداء} , فالصبيان ليسوا ممن يوصف أن يكونوا عدولا, ولا ممن يرضا به من الشهداء. والخصلة الأخرى جراحات النساء على النصف من جراحات الرجال في السن, والموضحة وغير ذلك, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت شریح رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ہشام نے ابن ہبیرہ کو خط لکھ کر پانچ باتوں کے بارے میں سوال کیا (1) بچوں کی گواہیاں (2) عورتوں اور مردوں کے زخم (3) انگلیوں کی دیت (4) جانور کی آنکھ (5) آ دمی موت کے وقت اپنے بچے کا اقرار کرے۔“ تو انہوں نے لکھا کہ بچوں کی ایک دوسرے کے خلاف گواہی جائز ہے جب باہم متفق ہوں عورتوں اور مردوں کے زخم دانتوں اور (ہڈی کو) ظاہر کرنے والے زخم میں برابر ہیں اور اس کے علاوہ میں مختلف ہیں ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کی دیت برابر ہے اور جانور کی آنکھ (پھوڑ نے ) میں اس کی قیمت کا چوتھائی ہے اور آدمی جب موت کے وقت بچے کا اقرار کرے تو وہ موت کے وقت زیادہ سچ بولتا ہے ۔‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم دو باتوں کے علاوہ باقی سب باتوں کو اختیار کر تے ہیں ان میں سے ایک بچوں کی گواہی ہے جو ہمارے نزدیک باطل ہے وہ اتفاق کریں یا اختلاف ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا۔“واشهدوا ذوى عدل منكم (پ ۲۸ الطلاق ۲) اور اپنوں میں سے دو ثقہ (عادل) آدمیوں کو گواہ بناؤ۔(ترجمہ کنز الایمان) اورفرمایا! واستشهدوا شهيدين من رجالكم فإن لم يكونا رجلين فرجل وامراتان ممن ترضون من الشهداء .“(پ۳ البقرہ ۲۸۲۰)اور دو گواہ کر لو اپنے مردوں سے پھر اگر دومرد نہ ہوں تو ایک مر داور دو عورتیں ایسے گواہ جن کو پسند کرو۔(ترجمہ کنز الایمان) تو بچے ان لوگوں میں سے نہیں جن کو عدل سے موصوف کیا جا سکے اور ان گواہوں میں سے جن پر راضی ہوں اور دوسری بات عورتوں کے زخم ہیں وہ دانتوں اور موضحہ زخم (ہڈی کو ظاہر کر نے والے زخم ) اور اس کے علاوہ میں مردوں کے زخم سے نصف ہیں ۔ ‘‘(یعنی ان کی دیت مردوں کی دیت سے نصف ہے ) حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔

إِلَيْهِ ← عين الدابة, والرجل يقر بولده عند الموت؟ ← دية الأصابع, ← جراحات النساء والرجال, ← شهادات الصبيان, ← خمس ← هشام بن هبيرة يسأله ← شُرَيْحٍ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 647

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [115] بَابُ شهادة الصبيان · حديث 648

648 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, قال: حدثنا حماد, عن إبراهيم قال: أربعة لا تجوز فيها شهادة النساء: الزنا, والقذف, وشرب الخمر, والسكر. #560# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں چار باتوں میں عورتوں کی گواہی جائز نہیں زنا قذف شراب نوشی اور نشہ...... حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں اورحضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← أربعة لا تجوز فيها شهادة النساء: الزنا, والقذف, وشرب الخمر, والسكر. ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 648

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [116] بَابُ ما يجوز من الوصية · حديث 649

649 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا عطاء بن السائب, عن أبيه, عن سعد بن أبي وقاص رضي الله عنه قال: دخل النبي صلى الله عليه وسلم علي يعودني قال: فقلت: يا رسول الله, أوصي بمالي كله؟ قال: لا. فقلت: بالنصف؟ قال: لا. فقلت: بالثلث؟ قال: الثلث والثلث كثير, لا تدع أهلك يتكففون الناس. #561# قال محمد: وبه نأخذ, لا تجوز الوصية لأحد بأكثر من الثلث, فإن أوصى بأكثر من الثلث فأجاز ذلك الورثة بعد موته فهو جائز, وليس للوارث أن يرجع فيما أجاز وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے عطاء بن سائب رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ اپنے والد سے اور وہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری بیمار پرسی کے لئے تشریف لائے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں اپنے تمام مال کی وصیت کر دوں؟ فرمایا نہیں میں نے پوچھا نصف کی ؟ فرمایا نہیں میں عرض کی تہائی مال کی ( وصیت کروں ) ؟ فر مایا تہائی کی وصیت کر سکتے ہو اور تہائی بھی زیادہ ہے ‘اپنے گھر والوں کو یوں نہ چھوڑوکہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائیں۔“ حضرت محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں کسی شخص کے لئے تہائی مال سے زیادہ کی وصیت جائز نہیں پس اگر وہ تہائی سے زیادہ کی وصیت کرے تو اگر اس کے وارث اس کے مرنے کے بعد اسے جائز قرار دیں تو جائز ہوگی اور وارث کے لئے جائز نہیں کہ جس کی اجازت دے چکا ہے اس میں رجوع کرئے‘حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

فَقُلْتُ: ← دخل النبي علي يعودني ← سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 649

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [116] بَابُ ما يجوز من الوصية · حديث 650

650 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا القاسم بن عبد الرحمن, عن أبيه, عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه في الرجل يوصي بالوصية فتجيزها الورثة في حياته, ثم يردونها بعد موته؟ قال: ذلك النكرة, ولا يجوز. #562# قال محمد: وبه نأخذ, إجازة الورثة للوصية قبل الموت ليس بشيء, فإن أجازوها بعد الموت وهي لوارث أو أكثر من الثلث فذلك جائز, وليس لهم أن يرجعوا فيه, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے قاسم بن عبد الرحمٰن رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ اپنے والد اور وہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ کوئی شخص وصیت کرے پس اس کے وارث اس کی زندگی میں اس کی اجازت دے دیں پھر اس کے مرنے کے بعد رجوع کر لیں تو انہوں نے فرمایا یہ ا نکار ہے جو جائز نہیں ۔‘‘حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم بھی اسی بات کو اختیار کر تے ہیں وارثوں کا موت سے پہلے وصیت کو جائز قرار دینا کوئی چیز نہیں پس اگر وہ موت کے بعد اجازت دیں اور وہ کسی وارث کا حصہ ہو یا تہائی سے زیادہ ہوتو یہ (اجازت ) جائز ہے اور اب ان کو اس میں رجوع کا حق نہیں ۔ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

أَبِيهِ ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 650

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [117] بَابُ الرجل يوصي بالوصايا وبالعتق · حديث 651

651 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: إذا قال الرجل في الوصية: فلان حر, وأعطوا فلانا ألف درهم, بدئ بالعتق, وإذا قال: أعتقوا فلانا, وأعطوا فلانا كذا وكذا فبالحصص, وإذا قال: أعطوا فلانا هذا العبد بعينه, وأعطوا فلانا كذا وكذا بدئ بهذا الذي بعينه من الثلث. #563# قال محمد: وبه نأخذ فيما وصف من العتق, فأما إذ قال: أعطوا فلانا هذا العبد بعينه, وأعطوا فلانا كذا وكذا, تحاصا في الثلث, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب کوئی شخص وصیت میں کہے فلاں آزاد ہے اور فلاں کو ہزار درہم دے دینا تو آزادی سے آغاز کیا جائے اور جب کہے فلاں کو آزاد کر واور فلاں کو اتنی اتنی رقم دوتو حصوں کے اعتبار سے تقسیم ہوگی اور جب کہے فلاں کو یہ معین غلام دے دو اور فلاں کو اس قد ردوتو تہائی حصے میں سے معین غلام سے آغاز کیا جائے ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں آزادی کے بارے میں جو بیان کیا گیا ہم اسے ہی اختیار کرتے ہیں لیکن جب کہے کہ فلاں کو یہ معین غلام دے دو اور فلاں کو اس قد ر رقم دوتو تہائی میں سے بطور حصہ تقسیم ہوگی ۔‘‘حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔‘‘

«إِذَا ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 651

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [117] بَابُ الرجل يوصي بالوصايا وبالعتق · حديث 652

652 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في الرجل يوصي للرجل بعبده بعينه, ويوصي لآخر بثلث ماله, قال: يعطى هذا العبد, ويعطى هذا ما بقي إن بقي شيء, وإن أوصى لهذا بمئة درهم, ولهذا بثلث ماله أعطي هذا مئة, والآخر ما بقي. قال محمد: ولسنا نأخذ بهذا, ولكن صاحبي الوصية يتحاصان في الثلث بوصيتهما, ولا يكون واحد منهما بأحق بالثلث من صاحبه, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص کسی کے لئے معین غلام کی وصیت کرے اور دوسرے کے لئے اپنے تہائی مال کی وصیت کرے تو وہ فرماتے ہیں اس کو غلام دیا جائے اور دوسرے کو جو باقی بچے اگر کوئی چیز (تہائی میں سے) بچ جائے اور اگر اس ایک کے لئے ایک سو درہم کی وصیت کرے اور دوسرے کے لئے مال کے تہائی حصے کی وصیت کرے تو پہلے کو ایک سو درہم دیئے جائیں اور جو باقی بچے دوسرے کو دیا جائے ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار نہیں کرتے بلکہ وہ دونوں جن کے لئے وصیت کی گئی اپنی اپنی وصیت کے ساتھ تہائی میں حصے کے مطابق شریک ہوں گے اور ان میں تہائی مال کا کوئی بھی زیادہ حقدار نہیں ہوگا ‘حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 652

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [117] بَابُ الرجل يوصي بالوصايا وبالعتق · حديث 653

653 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في الرجل #564# يعتق ثلث عبده عند الموت وقد أوصى بوصايا قال: ابدأ بعتق ثلث غلامه, ولا يعتق منه إلا ما أعتق, ويستعسى فيما لا يعتق منه, فإذا أوصى مع عتق ثلثه بوصايا وله مال جعل ثلثا سعايته فيما أوصى به ولا أجعل ذلك للورثة. قال محمد: وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى, وأما في قولنا فإذا عتق ثلثه عتق كله, وبدئ به من ثلث مال الميت قبل الوصايا, فإن بقي شيء كان لأصحاب الوصايا بالحصص.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص موت کے وقت اپنے غلام کا تہائی آزاد کرتا ہے اور وہ دیگر کئی وصیتیں کر چکا ہے وہ فرماتے ہیں غلام کے تہائی حصے کی آزادی کے ساتھ آغاز کرے اور اس سے صرف اتنا حصہ آزاد ہو گا جس کی وصیت کی باقی جو حصہ آزادنہیں ہوا اس کے لئے غلام محنت مشقت کرے پس جب اس کے تہائی کی آزادی کے ساتھ دیگر وصیتیں بھی ہوں اور اس کے پاس مال ہو تو اس غلام کی محنت کا دوتہائی اس وصیت میں خرچ کیا جائے اور میں اسے وارثوں کے لئے قرارنہیں دیتا۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے لیکن ہمارا یہ قول ہے کہ جب غلام کا تہائی حصہ آزاد ہو گیا تو وہ کل آزاد ہوگا اور میت کے مال کی تہائی سے دیگر وصیتوں سے پہلی اس سے آغاز کیا جائے اگر کچھ باقی بچے تو باقی وصیت والوں کو حصہ کے مطابق ملےگا۔‘‘

حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 653

chevron_left Previous
1…484950…77
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter