Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [108] بَابُ حد من قطع الطريق أو سرق · حديث 630

630 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا إبراهيم بن محمد بن المنتشر, عن أبيه, عن يزيد بن أبي كبشة قال: أتي أبو الدرداء رضي الله عنه بجارية سوداء قد سرقت, وهو على دمشق, فقال: يا سلامة, أسرقت؟ قولي: لا, فقالت: لا. فقالوا: أتلقنها يا أبو الدرداء؟ قال: أتيتموني بامرأة لا تدري ما يراد بها, لتعترف فأقطعها.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے ابراہیم بن محمد بن المنتشر رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ اپنے والد سے اور وہ یزید بن ابی کبشہ رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس ایک سیاہ رنگ کی لونڈی لائی گی جس نے چوری کی تھی اور وہ دمشق کے والی تھے انہوں نے فرمایا اے سلامہ ! تم نے چوری کی؟ کہو نہیں اس نے کہا نہیں لوگوں نے کہا اے ابوالدرداء رضی اللہ عنہ! آپ اسے سمجھارہے ہیں فرمایا تم میرے پاس ایک عورت کر لاتے ہو اسے معلوم نہیں کہ اس سے کیا مراد ہے پس ( میں نے اس لئے کہا کہ )وہ اعتراف کرے اور اس کا ہاتھ کاٹوں۔“

أتلقنها يا أبو الدرداء؟ ← لَا۔ ← يا سلامة, أسرقت؟ قولي: لا, ← أتي أبو الدرداء بجارية سوداء قد سرقت, وهو على دمشق, ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 630

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [108] بَابُ حد من قطع الطريق أو سرق · حديث 631

631 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: أتي أبو مسعود الأنصاري رضي الله عنهما بسارق فقال: أسرقت؟ قل: لا, فقال: لا, فخلى سبيله. قال محمد: وأما نحن فنقول: لا ينبغي للحاكم أن يقول له: أسرقت؟ ولكن يسكت عنه حتى يقر, أو يدع, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى, قال محمد: وإنما أراهما قالا للسارقين: قولا: لا؛ لقولهما: أسرقتما مخافة أن يجيبا بنعم بمسألتهما, إياهما ولم يفعلا. وكذلك قال أبو حنيفة في الشاهد يشهد عند الحاكم: لا ينبغي للحاكم أن يقول له: أتشهد بكذا وكذا؟ مخافة أن يقول: نعم, ولكن يدعه حتى يأتي بما عنده من الشهادة, فإن كانت شهادة قاطعة أنفذها, وإن كانت غير قاطعة ردها, وكذلك الحدود.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حما درحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک چور لا یا گیا تو انہوں نے پوچھا تم نے چوری کی کہونہیں کی اس نے کہا نہیں کی تو آپ نے اسے چھوڑ دیا۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمارے نزدیک حاکم کے لئے ایسا کہنا مناسب نہیں کہ کیا تم نے چوری کی بلکہ وہ خاموش رہے حتیٰ کہ وہ شخص اقرار کرے یا اسے چھوڑ دے۔‘‘حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ ان دونوں حضرات نے دونوں چوروں سے جو کہا تھا کہ کہو چوری نہیں کی تو اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے ان سے پوچھا کیا تم نے چوری کی تو یہ اس بات کا ڈر ہوا کہ وہ دونوں ہاں کے ساتھ جواب دیں ۔ کیونکہ ان سے پوچھا گیا تھا اور (ہوسکتا ہے )انہوں نے چوری نہ کی ہو حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اس گواہ کے بارے میں بھی یہی فرماتے ہیں جو حاکم کے پاس گواہی دیتا ہے کہ حاکم کے لئے جائز نہیں کہ اس سے کہے کہ کیا تو فلاں فلاں بات کی گواہی دیتا ہے اسے ڈرنا چا ہے کہ کہیں وہ ہاں کہ دے بلکہ ایسے چھوڑ دے حتی ٰ کہ وہ اس شہادت کو لائے جو اس کے پاس ہے پس اگر قطعی شہادت ہو تو اسے نافذ کر دے اور غیر قطعی ہوتو اسے رد کر دے حدود کاحکم بھی یہی ہے ۔“

لاَ فَخَلَّى سَبِيلَهُ. ← أَسَرَقْتَ؟ قُلْ: لاَ، ← أتي أبو مسعود الأنصاري بسارق ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 631

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [108] بَابُ حد من قطع الطريق أو سرق · حديث 632

632 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: إذا خرج #549# الرجل فقطع الطريق, فأخذ المال وقتل, فللوالي أن يقتله أية قتلة شاء, إن شاء قتله صلبا, وإن شاء قتله بغير قطع ولا صلب, وإن شاء قطع يده ورجله من خلاف ثم قتله, وإن أخذ المال ولم يقتل قطع يده ورجله من خلاف, فإن لم يأخذ المال ولم يقتل أوجع عقوبة وحبس حتى يحدث خيرا. قال محمد: وهذا كله قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى, وبه نأخذ, إلا في خصلة واحدة: إذا قتل وأخذ المال قتل صلبا, ولم تقطع يده ولا رجله, وإذا اجتمع حدان أحدهما يأتي على صاحبه بدئ بالذي يأتي على صاحبه, ودرئ الآخر.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب کوئی شخص باہر نکلے اور ڈاکہ ڈالے اور مال بھی لوٹے اورقتل بھی کر دے تو حکمران کو اختیار ہے کہ اسے جس طرح چاہے قتل کرے چاہے تو سولی چڑہا دے اور چاہے تو ہاتھ کاٹنے اور سولی چڑ ہائے بغیرقتل کر دے اگر چاہے تو اس کا ہاتھ اور پاؤں ایک دوسرے کے خلاف کاٹے ( دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ) پھر اسے قتل کرے۔“ اور اگر اس نے مال لیالیکن قتل نہیں کیا تو اس کا ہاتھ اور پاؤں الٹ کاٹے اور اگر مال بھی نہیں لیا اورقتل بھی نہیں کیا (محض خوف زدہ کیا )تو اسے دردناک سزادے اور قید کرے حتی ٰ کہ بھلائی ظاہر ہو۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! یہ سب حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے اور ہم بھی اس بات کو اختیار کرتے ہیں البتہ ایک بات میں سب کا اختلاف ہے کہ اگر وہ قتل بھی کرے اور مال بھی لے تو اسے سولی چڑ ہا کرقتل کیا جائے اور اس کے ہاتھ پاؤں نہ کاٹے جائیں اور جب دوسزائیں جمع ہو جا ئیں ان میں سے ایک اس کی جان کوختم کرتی ہوتو آغاز اس سے کرے اور دوسری ساقط ہو جائے گی۔‘‘

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 632

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [108] بَابُ حد من قطع الطريق أو سرق · حديث 633

633 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في سارق سرق, فأخذ فانفلت, ثم سرق فأخذ الثانية قال: يقطع. قال محمد: وبه نأخذ, ولا نرى عليه إلا قطعا واحدا, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں جو چوری کرنے پر پکڑا جائے پھر بھاگ جائے پھر چوری کرے اور دوبارہ پکڑا جائے تو اس کا صرف ہاتھ کاٹا جائے ۔‘‘(پاؤں نہ کاٹے جائیں) حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اس بات کو اختیار کرتے ہیں ہم صرف ایک بار اس کا ہاتھ کاٹناجائز سمجھتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

يُقْطَعُ. ← إبراهيم في سارق سرق, فأخذ فانفلت, ثم سرق فأخذ الثانية ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 633

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [108] بَابُ حد من قطع الطريق أو سرق · حديث 634

634 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا رجل عن الحسن البصري, عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال: لا يقطع مختلس. #550# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے ایک شخص نے بیان کیا وہ حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں اچکنے والے کا ہاتھ نہ کاٹا جائے ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔‘‘ (کیونکہ یہ سرقہ کے معنی میں نہیں ہے)

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← لا يقطع مختلس. ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، ← رَجُلٌ: ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 634

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [109] بَابُ حد النباش · حديث 635

635 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, قال: حدثنا حماد, عن إبراهيم, أنه قال في النباش إذا نبش عن الموتى فسلبهم: إنه يقطع. #551# وقال أبو حنيفة: لا يقطع؛ لأنه متاع غير محرز, لكنه يوجع ضربا, ويحبس حتى يحدث خيرا. قال محمد: وبلغنا عن ابن عباس رضي الله عنه أنه أفتى مروان بن الحكم أن لا يقطعه, وهو قولنا.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کفن چور کے بارے میں فرمایا جب وہ مردوں کا کفن اتارکر لے جائے تو اس کا ہاتھ کا ٹا جائے ۔“حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے کیونکہ یہ غیر محفوظ سامان ہے البتہ اسے مارنے کے ذریعے سزادی جائے اور قید کر دیا جائے حتیٰ کہ اس کی اصلاح ہو جائے ۔“حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فر ماتے ہیں ہمیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے مروان بن حکم کوفتوی ٰدیا کہ اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے اور یہی ہمارا قول ہے۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 635

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [110] بَابُ شهادة أهل الذمة على المسلمين · حديث 636

636 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في قوله تعالى {شهادة بينكم إذا حضر أحدكم الموت حين الوصية اثنان ذوا عدل منكم أو آخران من غيركم} , إلى آخرها, قال: منسوخة. #552# قال محمد: وبهذا نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى, وإنما يعني بهذه الشهادة في السفر عند حضرة الموت على الوصية, إذا لم يكن أحد من المسلمين جازت شهادة أهل الذمة على وصية المسلم, نسخ ذلك, فلا يجوز على وصية المسلم ولا غير ذلك من أمره إلا المسلمين. والله أعلم.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اللہ تعالیٰ کے قول شهادة بينكم اذا حضر احد كم الموت حين الوصية اثنا ن ذوا عدل منكم او آخران من غيركم ....... تمہاری آپ کی شہادت جب تم میں سے کسی ایک کو موت آئے وصیت کے وقت دو انصاف والے تم(مسلمانوں) میں سے ہوں یا دوسرے دو جو تمہارے غیر ( غیر مسلموں میں ) سے ہوں ۔ کے بارے میں فرماتے ہیں یہ منسوخ ہے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے اور اس شہادت سے مرادسفر میں جب اسے موت آئے تو وصیت پر گواہ بنانا ہے جب مسلمانوں میں سے کوئی ایک نہ ہوتو مسلمان کی وصیت پر ذمی ( کفار ) کی شہادت جائز ہے تو یہ حکم منسوخ ہو گیا پس (اب) مسلمان کی وصیت یا کسی دوسرے معاملے میں صرف مسلمانوں کی شہادت ہی جائز ہے۔‘‘ واللہ اعلم

منسوخة. ← إبراهيم في قوله تعالى إلى آخرها, ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 636

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [111] بَابُ شهادة المحدود · حديث 637

637 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, قال: حدثنا حماد, عن إبراهيم في نصراني قذف مسلمة فضرب الحد ثم أسلم, أنه جائز الشهادة. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى؛ لأنه لم يضرب حدا في الإسلام.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اس عیسائی کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو کسی مسلمان عورت پر زنا کا الزام لگائے(قذف کرے) پس اسے حد لگائی جائے اور پھر وہ مسلمان ہو جائے تواس کی گواہی جائز ہے ۔حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اورحضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے کیونکہ اسے اسلام کی حالت میں حد نہیں لگائی گئی ۔“

إبراهيم في نصراني قذف مسلمة فضرب الحد ثم أسلم, أنه جائز الشهادة. ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 637

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [111] بَابُ شهادة المحدود · حديث 638

638 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, قال: حدثنا حماد, عن إبراهيم قال: إذا جلد القاذف لم تجز شهادته أبدا, وقال في قول الله تعالى: {إلا الذين تابوا من بعد ذلك وأصلحوا} , قال: يرفع عنه اسم الفسق, فأما الشهادة فلا تجوز أبدا. #553# قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت حمادرحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب قذف کرنے والے کو حد لگائی جائے تو اس کی گواہی کبھی بھی جائز نہیں انہوں نے اللہ تعالی ٰکے اس ارشاد گرامی!الا الذین تابو امن بعد ذلک واصلحوا۔‘‘(۲پ البقرہ۱۶۰) مگر وہ لوگ جو اس کے بعد ( حد کے بعد )توبہ قبول کر لیں اوراپنی اصلاح کرلیں ۔ ‘‘کے بارے میں فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے فسق کا لفظ اٹھ جائے گا جہاں تک شہادت کا تعلق ہے تو ہمیشہ کے لئے نا جائز ہے۔‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← يرفع عنه اسم الفسق, فأما الشهادة فلا تجوز أبدا. ← في قول الله تعالى: {إلا الذين تابوا من بعد ذلك وأصلحوا} ← إذا جلد القاذف لم تجز شهادته أبدا, ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 638

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [111] بَابُ شهادة المحدود · حديث 639

639 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا الهيثم عن عامر الشعبي قال: أجيز شهادة القاذف إذا تاب. قال محمد: ولسنا نأخذ بهذا.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے الھیثم بن ابی الھیثم رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ اور حضرت عامر شعبی رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں قازف (قذف کرنے والے ) کی شہادت کو جائز قرار دیتا ہوں جب تو بہ کر لے۔‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اس بات کو اختیار نہیں کرتے ۔“

محمد: ولسنا نأخذ بهذا. ← أجيز شهادة القاذف إذا تاب. ← عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ← الْهَيْثَمُ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 639

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [111] بَابُ شهادة المحدود · حديث 640

640 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا الهيثم, عن عامر الشعبي, عن شريح قال: أتاه أقطع بني أسد فقال: أتقبل شهادتي؟ وكان من خيارهم, #554# فقال: نعم, وأراك لذلك أهلا. قال محمد: وبه نأخذ, كل محدود في سرقة, أو زنا, أو غير ذلك إذا تاب قبلت شهادته إلا المحدود في القذف خاصة؛ لقول الله تعالى: {ولا تقبلوا لهم شهادة أبدا}.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے الھیثم بن ابی الھیثم رحمتہ اللہ علیہ نے عامر شعبی رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا اور وہ حضرت شریح رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ان کے پاس بنواسد کا ایک شخص آیا جس کا ہاتھ چوری میں کاٹا گیا تھا اس نے پوچھا کیا میری شہادت قبول ہوگی اور وہ ان کے معتبر لوگوں میں سے تھا تو حضرت شریح رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہاں میں تجھے اس کا اہل سمجھتا ہوں۔“حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں جس شخص کو چوری یا زنا وغیرہ میں حد لگائی جائے جب تو بہ کر لے تو اس کی گواہی قبول ہوگی لیکن جس کو حد قذف لگائی گئی خاص اس کی گواہی قبول ہوگی ‘کیونکہ ارشاد خداوندی ہے! ولا تقبلوا لهم شهادة ابدا(پ۱۸ النور۴) اوران کی گواہی کبھی نہ مانو۔“(ترجمہ کنز الایمان)

نعم, وأراك لذلك أهلا. ← أتقبل شهادتي؟ وكان من خيارهم, ← أتاه أقطع بني أسد ← شُرَيْحٍ ← عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ← الْهَيْثَمُ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 640

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [112] بَابُ شهادة الزور · حديث 641

641 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن الهيثم بن أبي الهيثم, عمن حدثه عن شريح قال: كان إذا أخذ شاهد زور, فإن كان من أهل السوق قال للرسول: قل لهم: إن شريحا يقرئكم السلام, ويقول: إنا أخذنا هذا #555# شاهد زور فاحذروه, وإن كان من العرب أرسله إلى مسجد قومه أجمع ما كانوا, فقال للرسول مثل ما قال في المرة الأولى. قال محمد: وبهذا كان يأخذ أبو حنيفة رحمه الله تعالى, ولا يرى عليه ضربا, وأما في قولنا فإنا نرى عليه مع ذلك التعزير, ولا يبلغ به أربعين سوطا.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ حضرت الھیثم بن ابی الهیثم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ اس شخص سے روایت کرتے ہیں جس نے حضرت شریح رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کی و ہ فرماتے ہیں جب جھوٹا گواہ پکڑا جائے تو اگر وہ بازاری ہے تو اسے بازار کی طرف بھیجا جائے اور قاصد سے کہیں کہ حضرت شریح رحمتہ اللہ علیہ تمہیں سلام کہتے ہیں اور فرماتے ہیں ہم نے اس شخص کو جھوٹی گواہی دیتے ہوئے پایا پس اس سے بچو اور اگر وہ دیہاتیوں میں سے ہو تو اپنی قوم کی اس مسجد کی طرف بھیجا جائے جہاں وہ سب جمع ہوئے ہیں اور قاصد کو وہی بات فرمائی جو پہلے سے کہی تھی۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ بھی اسی بات کو اختیار کر تے تھے اور وہ اس کو مارنا جائز نہیں سمجھتے تھے لیکن ہمارے خیال میں اس کے ساتھ ساتھ اسے سزا بھی دی جائے جو چالیس کوڑوں سے کم ہو۔“

شُرَيْحٍ ← الهيثم بن أبي الهيثم, عمن ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 641

chevron_left Previous
1…474849…77
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter