كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [108] بَابُ حد من قطع الطريق أو سرق · حديث 630
630 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا إبراهيم بن محمد بن المنتشر, عن أبيه, عن يزيد بن أبي كبشة قال: أتي أبو الدرداء رضي الله عنه بجارية سوداء قد سرقت, وهو على دمشق, فقال: يا سلامة, أسرقت؟ قولي: لا, فقالت: لا. فقالوا: أتلقنها يا أبو الدرداء؟ قال: أتيتموني بامرأة لا تدري ما يراد بها, لتعترف فأقطعها.
حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘وہ فرماتے ہیں ہم سے ابراہیم بن محمد بن المنتشر رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ اپنے والد سے اور وہ یزید بن ابی کبشہ رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس ایک سیاہ رنگ کی لونڈی لائی گی جس نے چوری کی تھی اور وہ دمشق کے والی تھے انہوں نے فرمایا اے سلامہ ! تم نے چوری کی؟ کہو نہیں اس نے کہا نہیں لوگوں نے کہا اے ابوالدرداء رضی اللہ عنہ! آپ اسے سمجھارہے ہیں فرمایا تم میرے پاس ایک عورت کر لاتے ہو اسے معلوم نہیں کہ اس سے کیا مراد ہے پس ( میں نے اس لئے کہا کہ )وہ اعتراف کرے اور اس کا ہاتھ کاٹوں۔“
أتلقنها يا أبو الدرداء؟ ← لَا۔ ← يا سلامة, أسرقت؟ قولي: لا, ← أتي أبو الدرداء بجارية سوداء قد سرقت, وهو على دمشق, ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ
Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 630
