Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [24] بَابُ ما نهي عنه من التزويج واستئمار البكر · حديث 402

402 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: لا تنكح البكر حتى تستأمر, ورضاها سكوتها, وقال: وهي أعلم بنفسها لعل بها عيبا لا يستطيع لها الرجال معه. قال محمد: وبه نأخذ, لا نرى أن تتزوج البكر البالغة إلا بإذنها, زوجها والد أو غيره, ورضاها سكوتها, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کنواری عورت سے اس کی اجازت لئے بغیر نکاح نہ کیا جائے اور اس کی رضا اس کا خاموش رہنا ہے۔ وہ فرماتے ہیں وہ نفس کے بارے میں زیادہ جانتی ہے شاید اس میں کوئی عیب ہو جس کی وجہ سے مرد اس کا قرب اختیار نہ کر سکے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں ہمارے خیال میں کنواری بالغہ عورت کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر جائز نہیں اس کا باپ نکاح کر لے یا کوئی دوسرا اس کی رضا اس کی خاموشی ہے ۔ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

وهي أعلم بنفسها لعل بها عيبا لا يستطيع لها الرجال معه. ← لا تنكح البكر حتى تستأمر, ورضاها سكوتها, ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 402

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [25] بَابُ من تزوج ولم يفرض صداقها حتى مات · حديث 403

403 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه, أن رجلا أتاه فسأله عن رجل تزوج امرأة ولم يفرض لها صداقا, ولم يدخل بها حتى مات, قال: ما بلغني في هذا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم شيء. قال: فقل فيها برأيك, قال: أرى لها الصداق كاملا, ولها الميراث, وعليها العدة, فقال رجل من جلسائه: قضيت, والذي يحلف به, بقضاء رسول الله صلى الله عليه وسلم في بروع بنت واشق الأشجعية قال: ففرح عبد الله بن مسعود رضي الله عنه فرحة ما فرح قبلها مثلها؛ لموافقة رأيه قول رسول الله صلى الله عليه وسلم. #388# قال محمد: وبه نأخذ, لا يجب الميراث والعدة حتى يكون قبل ذلك صداق وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى. #389# قال محمد: والرجل الذي قال لعبد الله بن مسعود رضي الله عنه ما قال معقل بن سنان الأشجعي رضي الله عنه, وكان من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس آدمی کے بارے میں پوچھا جس نے کسی عورت سے نکاح کیا اور اس کے لئے مہر مقرر نہیں کیا اور جماع سے پہلے فوت ہو گیا انہوں نے فرمایا اس سلسلے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مجھے کوئی بات نہیں پہنچتی اس نے کہا اپنی رائے سے فرما دیں آپ نے فرمایا میرے خیال میں اس کے لئے کامل مہر نہیں ہے البتہ اس کے لئے وراثت بھی ہے اور اس پر عدت بھی لازم ہے۔ ‘‘ وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا اس ذات کی قسم جس کے نام سے قسم کھائی جاتی ہے۔ آپ نے وہی فیصلہ فرمایا جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بروع بنت واشق الاشجعیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں فرمایا تھا ۔ راوی فرماتے ہیں (اس پر) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس قدر خوش ہوئے کہ اس سے پہلے کبھی اتنے خوش نہ ہوئے تھے کیونکہ ان کی رائے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے موافق ہوگئی ۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں ‘ وراثت اور عدت اس وقت تک واجب نہیں ہوتی جب تک اس سے پہلے مہر واجب نہ ہواور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ سے یہ گفتگو کرنے والے حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ ہیں اور وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم میں سے ہیں ۔ ‘‘

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 403

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [26] بَابُ من تزوج امرأة في عدتها ثم طلقها · حديث 404

404 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في الرجل يتزوج المرأة في عدتها ثم يطلقها قال: لا يقع عليها طلاقه, وإن قذفها لم يجلد, ولم يلاعن. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اس شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو کسی عورت سے اس کی عدت کے دوران نکاح کر کے پھر اسے طلاق دے دیتا ہے آپ فرماتے ہیں اس کی طلاق واقع نہیں ہوگی اور اگر وہ اس پر الزام لگائے تو اسے کوڑے نہیں لگائیں جائیں گے اور نہ امان ہوگا ۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔ ‘‘

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← لا يقع عليها طلاقه, وإن قذفها لم يجلد, ولم يلاعن. ← إبراهيم في الرجل يتزوج المرأة في عدتها ثم يطلقها ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 404

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [26] بَابُ من تزوج امرأة في عدتها ثم طلقها · حديث 405

405 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم في امرأة تزوجت في عدتها فولدت: إن ادعاه الأول فهو ولده, وإن نفاه الأول فادعاه الآخر فهو ولده, وإن شكا فيه فهو ولدهما يرثهما ويرثانه. قال محمد: ولسنا نأخذ بهذا, ولكنا نرى إذا طلقها فتزوجها غيره في عدتها فدخل بها, فإن جاءت بولد ما بينها وبين سنتين منذ دخل بها الآخر #390# فهو ابن الأول, وإن كان لأكثر من سنتين فهو ابن الآخر, وكان أبو حنيفة يقول نحوا من ذلك في الطلاق البائن أيضا.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ اس عورت کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو عدت کے دوران نکاح کرے اور اس کے ہاں بچہ پیدا ہو جائے اگر اس کا پہلا خاوند اس بچے کا دعوی ٰ کرے تو وہ اس کا ہوگا اور اگر وہ اس کی نفی کرے اور دوسرا خاوند دعوی ٰ کرے تو دوسرے کا ہوگا اور اگر دونوں شک کریں تو دونوں کا بچہ قرار پائے گا وہ ان دونوں کا وارث ہوگا اور وہ دونوں اس کے وارث ہوں گے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار نہیں کرتے بلکہ ہمارے نزدیک جب ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور عدت کے دوران دوسرے آدمی نے اس سے نکاح کر کے جماع بھی کیا تو اگر وہ بچہ اس وقت سے لے کر دو سالوں کے اندر اندر پیدا ہوا تو پہلے خاوند کا ہوگا اور دو سال سے زیادہ مدت کے بعد پیدا ہوتو دوسرے خاوند کا ہوگا اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ طلاق بائن کے بارے میں بھی اسی قسم کی بات فرماتے ہیں۔

حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 405

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [26] بَابُ من تزوج امرأة في عدتها ثم طلقها · حديث 406

406 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه, أنه قال في المرأة تتزوج في عدتها قال: يفرق بينها وبين زوجها الآخر, ولها الصداق منه بما استحل من فرجها, وتستكمل ما بقي من عدتها من الأول, وتعتد من الآخر عدة مستقبلية, ثم يتزوجها الآخر إن شاء. قال محمد: وبهذا كله نأخذ, إلا أنا نقول: تستكمل عدتها من الأول وتحتسب بما مضى من ذلك من عدة الآخر إلى استكمالها عدة الأول, وتعتد بما بقي من عدة الآخر.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے اس عورت کے بارے میں جو عدت کے دوران نکاح کرے فر مایا اس کے اور اس کے خاوند کے درمیان تفریق کر دی جائے اور اس کے لئے مہر ہوگا کیونکہ اس شخص نے اس کی شرمگاہ کو اپنے لئے حلال کیا اور پہلے خاوند کی بقیہ عدت پوری کر کے دوسرے کی مستقل عدت گزارے پھر دوسرے سے نکاح کرے اگر چا ہے ۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم ان تمام باتوں کو اختیار کرتے ہیں البتہ ہم کہتے ہیں کہ پہلے خاوند کی عدت مکمل کرے اور جس قدر وقت گزرا ہے اس کو پہلی عدت کی تکمیل میں شمار کر کے باقی کو دوسری عدت میں شمار کرے۔“

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 406

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [26] بَابُ من تزوج امرأة في عدتها ثم طلقها · حديث 407

407 - محمد قال أخبرنا سعيد بن أبي عروبة, عن أبي معشر, عن إبراهيم النخعي قال: إذا دخلت عدة في عدة كانت عدة واحدة. وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى. قال محمد: وبهذا نأخذ, وهو تفسير قولنا في الحديث الأول.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت سعید بن ابی عروبہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ انہوں نے ابومعشر رحمتہ اللہ علیہ سے اور انہوں نے حضرت ابراہیم نخعی رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کیا وہ فرماتے ہیں جب ایک عدت دوسری میں داخل ہو جائے تو وہ ایک ہی عدت ہوتی ہے ۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں اور یہ پہلی حدیث میں ہمارے قول کی وضاحت ہے ۔ ‘‘

إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، ← أَبِي مَعْشَرٍ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 407

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [27] بَابُ ما إذا أدخلت المرأتان كل واحدة منهما على زوج صاحبتها · حديث 408

408 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: إذا أدخلت المرأتان كل واحدة منهما على أخ زوجها, فوطئت كل واحدة منهما, فإنه ترد كل واحدة منهما إلى زوجها, ولها الصداق بما استحل من فرجها, ولا يقربها زوجها حتى تنقضي عدتها. #392# قال محمد: وبهذا كله نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب دو عورتیں اپنے اپنے خاوند کے بھائی ( دوسری کے خاوند ) کے پاس چلی جائیں اور ان میں سے ہر ایک جماع بھی کر لے تو دونوں کو ان کے خاوندو کی طرف لوٹایا جائے اور اس جماع کی وجہ سے مہر بھی لازم ہوگا اور جب تک عدت ختم نہ ہو خاوند اس کے قریب نہ جائے ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم ان تمام باتوں کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔ ‘‘

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 408

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [28] بَابُ من تزوج مختلعة أو مطلقة · حديث 409

409 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, أن المولى منها, والمختلعة إن زوجها لا يقدر على أن يراجعها إلا بنكاح جديد, وإن ماتا لم يتوارثا؛ لأن الطلاق بائن, ولكنه يطلق ما دامت في العدة. قال محمد: وبهذا كله نأخذ, وهو قول أبي حنيفة.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ جس عورت سے ایلاء کیا جائے یا خلع ہو جائے تو اس کا خاوند جب تک جدید نکاح نہ کرے رجوع نہیں کر سکتا اور اگر وہ مر جائیں تو ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں ۔ (یعنی ان میں سے کوئی ایک مر جائے ) کیونکہ یہ طلاق بائن ہے البتہ جب تک ( عورت ) عدت میں ہوا سے ( مزید ) طلاق دی جاسکتی ہے ۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم ان تمام باتوں کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔ ‘‘

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 409

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [28] بَابُ من تزوج مختلعة أو مطلقة · حديث 410

410 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: إذا تزوج الرجل المختلعة, والمولى منها, والتي أعتقت في عدتها, ثم طلق قبل أن يدخل بها فلها الصداق. #393# قال محمد: وهذا قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى, وكذلك قوله في كل امرأة كانت من رجل في عدة من نكاح جائز, أو فاسد, أو غير ذلك مثل عدة أم الولد فيتزوجها في عدتها منه, ثم يطلقها قبل أن يدخل بها تطليقة, فعليه الصداق كاملا, والتطليقة يملك فيها الرجعة عليها, والعدة مستقبلة من يوم طلقها. قال محمد: ولسنا نأخذ بهذا, ولكنه إذا طلقها قبل أن يدخل بها فلها عليه نصف الصداق, ولا رجعة له عليها, وتستكمل ما بقي من عدتها, وهو قول الحسن البصري, وعطاء بن أبي رباح, وأهل الحجاز, ورواه بعضهم عن الشعبي.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب کوئی شخص ایسی عورت سے نکاح کرے جس نے خلع کیا یا اس سے ایلاء کیا گیا یا اسے عدت کے دوران آزاد کیا گیا پھر جماع سے پہلے اسے طلاق دے تو اس کے لئے مہر ہوگا ۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے اسی طرح آپ نے فرمایا ہر وہ عورت جو کسی شخص سے نکاح صحیح یا فاسد کے بعد اس کی عدت میں ہو یا اس کے علاوہ کوئی صورت ہو مثلاً ام ولد کی عدت ہو اور عدت کے دوران اس سے نکاح کر کے جماع سے پہلے ایک طلاق دے دے ‘ تو اس شخص پر پورا مہر لازم ہوگا اور اس طلاق میں رجوع کا مالک ہوگا اور طلاق والے دن سے مستقل عدت شروع ہوگی ۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار نہیں کرتے لیکن جب وہ جماع سے پہلے طلاق دے تو اس پر نصف مہر لازم ہوگا وہ رجوع بھی نہیں کر سکے گا اور عورت باقی عدت کو مکمل کرے ۔“ حضرت امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ حضرت عطاء بن ابی رباح رحمتہ اللہ علیہ اور اہل حجاز کا یہی قول ہے ان میں بعض نے اسے حضرت امام شعبی رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کیا ۔ ‘‘

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 410

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [29] بَابُ من تزوج اليهودية أو النصرانية أنها لا تحصن الرجل · حديث 411

411 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: لا بأس بنكاح اليهودية والنصرانية على الحرة. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں آزاد عورت پر یہودی اور عیسائی عورت سے نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← لا بأس بنكاح اليهودية والنصرانية على الحرة. ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 411

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [29] بَابُ من تزوج اليهودية أو النصرانية أنها لا تحصن الرجل · حديث 412

412 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, عن حذيفة بن اليمان رضي الله عنه, أنه تزوج يهودية بالمدائن فكتب إليه عمر بن الخطاب: أن خل سبيلها, فكتب إليه: أحرام هي يا أمير المؤمنين؟ فكتب إليه: أعزم عليك أن لا تضع كتابي حتى تخلي سبيلها, فإني أخاف أن يقتدي بك المسلمون فيختاروا نساء أهل الذمة لجمالهن, وكفى بذلك فتنة لنساء المسلمين. #395# قال محمد: وبه نأخذ لا نراه حراما, ولكنا نرى أن يختار عليهن نساء المسلمين, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے مدائن میں یہودی عورت سے نکاح کیا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان کو لکھا کہ اسے چھوڑ دو انہوں نے آپ کی طرف لکھا کہ کیا یہ حرام ہے امیر المومنین ! حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے انہیں لکھا میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ میرا خط رکھنے سے پہلے اس کو طلاق دے دو مجھے ڈر ہے کہ مسلمان تمہاری اقتدا کر تے ہوئے ذمی لوگوں کی عورتوں کو ان کے حسن و جمال کی وجہ سے اختیار کریں گے اور مسلمان عورتوں کے فتنہ کے لئے اتنی بات ہی کافی ہےم ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں ہم اس عمل کو حرام نہیں سمجھتے لیکن ہم اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ ان (ذمی عورتوں پر ) مسلمان عورتوں کو ترجیح دی جائے ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔ ‘‘

إليه: أحرام هي يا أمير المؤمنين؟ ← إليه عمر بن الخطاب: أن خل سبيلها, ← حذيفة بن اليمان أنه تزوج يهودية ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 412

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [29] بَابُ من تزوج اليهودية أو النصرانية أنها لا تحصن الرجل · حديث 413

413 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا حماد, عن إبراهيم قال: لا يحصن المسلم باليهودية ولا بالنصرانية, ولا يحصن إلا بالحرة المسلمة. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا وہ فرماتے ہیں مسلمان ( مرد ) یہودی اور عیسائی عورت ( سے نکاح کی وجہ ) سے محصن نہیں ہوتا اور وہ صرف مسلمان آزاد عورت کی وجہ سے محضن ہوتا ہے۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← لا يحصن المسلم باليهودية ولا بالنصرانية, ولا يحصن إلا بالحرة المسلمة. ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 413

chevron_left Previous
1…282930…77
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter