372 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا علقمة بن مرثد, عن ابن بريدة الأسلمي, عن أبيه رضي الله عنه قال: كنا جلوسا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: اذهبوا بنا نعود جارنا هذا اليهودي, قال: فأتيناه, فقال: كيف أنت؟ وكيف؟ فسأله, ثم قال: يا فلان, اشهد أن لا إله إلا الله, وأني رسول الله, فنظر الرجل إلى أبيه وكان عند رأسه فلم يرد عليه شيئا, فسكت فقال: يا فلان, اشهد أن لا إله إلا الله, وأني رسول الله, فنظر الرجل إلى أبيه فلم يكلمه, فسكت ثم قال: يا فلان, اشهد أن لا إله إلا الله, وأني رسول الله, فقال له أبوه: اشهد له, فقال: أشهد أن لا إله إلا الله, وأنك رسول الله. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الحمد لله الذي أعتق بي نسمة من النار.
#365#
قال محمد: وبه نأخذ لا نرى بعيادة اليهودي والنصراني والمجوسي بأسا.
حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت علقمہ بن مرشد رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت ابن بریدہ اسلمی رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ نے فرمایا ہمیں لے جاؤ کہ ہم اپنے پڑوسی اس یہودی کی بیمار پرسی کریں فرماتے ہیں پس ہم اس کے پاس گئے تو آپ نے پوچھا تمہارا کیا حال ہے؟ مزید کیفیت پوچھی پھر فرمایا اے فلاں ! گواہی دو کہ اللہ تعالی ٰکے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک میں اللہ تعالی ٰکا رسول ہوں اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو اس کے سرہانے تھا اس نے کچھ جواب نہ دیا بلکہ خاموش رہا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوبارہ ) فرمایا گواہی دو کہ اللہ تعالی ٰکے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا تو اس نے کوئی بات نہ کی بلکہ خاموش رہا۔ ‘‘ آپ نے پھر فرمایا اے فلاں ! گواہی دو کہ اللہ تعالی ٰکے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اس کا رسول ہوں ۔ اب اس کے باپ نے کہا گواہی دو تو اس نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی ٰکے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ تعالی ٰکے رسول ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی حمد ہے جس نے ایک ذی روح کو میری وجہ سے جہنم سے آزادکردیا۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں‘ ہم کسی یہودی ،عیسائی اور مجوسی کی بیمار پرسی میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ۔ ‘‘
«يَا فُلَانُ، اشْهَدْ ← كيف أنت؟ وكيف؟ فسأله, ثم ← فأتيناه ← اذهبوا بنا نعود جارنا هذا اليهودي, ← كنا جلوسا عند رسول الله ← أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ، ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ