Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني

Kitab Al Aasaar Al Shabani

by Imam Muhammad Bin Hasan Al-Shaybani

913 Hadith308 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [11] بَابُ الصيد في الإحرام · حديث 354

354 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: إذا أهللت بهما جميعا العمرة والحج, فأصبت صيدا, فإن عليك جزاءين, فإن أهللت بعمرة كان عليك جزاء, فإن أهللت بالحج كان عليك جزاء. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبو حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب تم عمرہ اور حج دونوں کا احرام باندھو اور شکار کرو تو تم پر دو جزائیں ہوں گی اور اگر صرف عمرہ کا احرام باندھو تو ایک جز ا ہوگی اور صرف حج کا احرام باندھو تو بھی تم پر ایک جزا ہوگی ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 354

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [11] بَابُ الصيد في الإحرام · حديث 355

355 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا محمد بن المنكدر, عن أبي قتادة رضي الله عنه قال: خرجت في رهط من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ليس في القوم إلا محرم غيري, فبصرت بعانة, فثرت إالى فرسي فركبتها وعجلت عن سوطي فقلت لهم: ناولوني, فأبوا فنزلت عنها, فأخذت صوتي ثم ركبتها, فطلبت العانة فأصبت منها حمارا, فأكلت وأكلوا معي.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے محمد بن منکدر رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا اور وہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں صحابہ کرام کی ایک جماعت میں نکلا اور ان میں میرے علاوہ سب محرم تھے میں نے جنگلی گدہوں کا ایک ریور دیکھا تو اپنے گھوڑے پر کو دکر سوار ہو گیا اور اپنی لاٹھی کی طرف جلدی کی اور لوگوں سے کہا مجھے میری لاٹھی دو انہوں نے انکار کیا تو میں نے اتر کر لاٹھی پکڑ لی پھر میں سوار ہو کر اس ریوڑ کی طلب میں چلا اور ایک گودختر کا شکار کر لیا پھر اس سے میں نے بھی کھایا اور انہوں نے بھی کھایا۔ ‘‘

أَبِي قَتَادَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 355

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [11] بَابُ الصيد في الإحرام · حديث 356

356 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا أبو سلمة, عن رجل, عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: مررت في البحرين فسألوني عن لحم الصيد يصيده الحلال, #348# هل يصلح للمحرم أن يأكله؟ فأفتيتهم بأكله وفي نفسي منه شيء, ثم قدمت على عمر بن الخطاب رضي الله عنه فذكرت له ما قلت لهم فقال: لو قلت غير ذلك لم تقل بين اثنين ما بقيت.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں انہیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے ابوسلمہ رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ ایک شخص کے واسطے سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں بحرین میں گزررہا تھا تو لوگوں نے مجھ سے اس شکار کے گوشت کے بارے میں پوچھا جسے کسی غیر محرم نے شکار کیا کہ کیا محرم اس سے کھا سکتا ہے؟ میں نے ان کو کھا نے کا فتوی ٰدیا لیکن میرے دل میں کچھ وسوسہ تھا پھر میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو جو فتوی ٰدیا تھا اس کے بارے میں ان کو بتایا انہوں نے فرمایا اگر تم اس کے علاوہ کوئی بات کہتے تو جب تک زندہ رہتے فتوی ٰنہ دے سکتے ۔ ‘‘

مررت في البحرين فسألوني ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← رَجُلٌ: ← أَبُو سَلَمَةَ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 356

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [11] بَابُ الصيد في الإحرام · حديث 357

357 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا هشام بن عروة, عن أبيه, #349# عن جده الزبير بن العوام رضي الله عنه قال: كنا نحمل لحم الصيد صفيفا ونتزود ونأكله ونحن محرمون مع رسول الله صلى الله عليه وسلم.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے ہشام بن عروہ رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ہم شکار کا خشک گوشت اٹھاتے اور اسے محفوظ کر کے کھاتے تھے اور ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حالت احرام میں ہوتے تھے۔“

كنا نحمل لحم الصيد صفيفا ونتزود ونأكله ونحن محرمون مع رسول الله ← جده الزبير بن العوام ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 357

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [11] بَابُ الصيد في الإحرام · حديث 358

358 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن محمد بن المنكدر, عن عثمان بن محمد, عن طلحة بن عبيد الله رضي الله عنه قال: تذاكرنا لحم الصيد يأكله المحرم, والنبي صلى الله عليه وسلم نائم, فارتفعت أصواتنا, فاستيقظ النبي صلى الله عليه وسلم فقال: فيم تنازعون؟ فقلنا: في لحم الصيد يأكله المحرم فأمرنا بأكله. #351# قال محمد: وبهذا نأخذ, إذا ذبح الحلال الصيد فلا بأس بأن يأكله المحرم, وإن كان ذبحه من أجله, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى. وقال محمد: وأراهم في هذا الحديث قد تنازعوا في الفقه, فارتفعت أصواتهم, فاستيقظ النبي صلى الله عليه وسلم لذلك, فلم يعبه عليهم.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت محمد بن المنکدر رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ حضرت عثمان بن محمد رضی اللہ عنہ سے اور وہ حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ‘ وہ فرماتے ہیں ہم شکار کے گوشت کے متعلق گفتگو کر رہے تھے جسے محرم کھاتا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرمارہے تھے ہماری آوازیں بلند ہوئیں تو آپ بیدار ہو گئے پوچھا تم کس بات میں جھگڑ رہے تھے؟ ہم نے عرض کیا شکار کے گوشت کے بارے میں جسے محرم کھاتا تو آپ نے ہمیں کھانے کی اجازت دی ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں جب غیر محرم شکار کرے تو محرم کے کھانے میں کوئی حرج نہیں اگرچہ وہ اس (محرم) کے لئے ذبح کرے۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ ان لوگوں نے اس حدیث میں فقہی حوالے سے بحث کی تو ان کی آوزیں بلند ہوگئیں اس پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ا بیدار ہو گئے اور آپ نے کوئی عیب نہ لگایا۔ ‘‘ ( اعتراض نہ کیا )

تذاكرنا لحم الصيد يأكله المحرم والنبي نائم، فارتفعت أصواتنا، فاستيقظ النبي ← طَلْحَۃَ بْنَ عُبَیْدِ اللہِ ← عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 358

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [11] بَابُ الصيد في الإحرام · حديث 359

359 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم قال: إذا اشترك القوم المحرمون في صيد فعلى كل واحد منهم جزاؤه. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى, ألا ترى أن #352# القوم يقتلون الرجل جميعا خطأ فعلى كل واحد كفارة: عتق رقبة مؤمنة, فإن لم يجد فصيام شهريت متتابعين.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب کئی احرام والے ایک شکار میں شریک ہوں تو ہر ایک پر اس کی جزا ہوگی ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“ کیا تم نہیں دیکھتے کہ جب کچھ لوگ غلطی سے کسی کوقتل کر دیں تو ہر ایک پر ایک مومن غلام (لونڈی ) بطور کفارہ لازم ہو جاتا ہے اگر غلام نہ پائے تو دو مہینے کے مسلسل روزے رکھے ۔ ‘‘

إذا اشترك القوم المحرمون في صيد فعلى كل واحد منهم جزاؤه. ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 359

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [11] بَابُ الصيد في الإحرام · حديث 360

360 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا الهيثم بن أبي الهيثم, عن الصلت بن حنين, عن عبدالله بن عمر رضي الله عنهما قال: أهدي له ظبيان وبيض نعام في الحرم فأبى أن يقبله وقال: هلا ذبحتهما قبل أن تجيء بهما؟. قال محمد: وبه نأخذ, إذا أدخل شيء من الصيد الحرم حيا لم يحل ذبحه ولا بيعه, وخلي سبيله, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے ھیشم بن هیشم رحمتہ اللہ علیہ نے صلت بن حنین رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ انہیں حرم میں دو ہرن اور شتر مرغ کا انڈہ بطور ہدیہ پیش کیا گیا تو انہوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا تم نے ان کو لانے سے پہلے ذبح کیوں نہیں کیا۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی چیز کو اختیار کرتے ہیں جب کوئی چیز حرم میں زندہ لائی جائے تو اس کو ذبح کرنا اور بیچنا جائز نہیں اسے چھوڑ دیا جائے ۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔“

هلا ذبحتهما قبل أن تجيء بهما؟. ← أهدي له ظبيان وبيض نعام في الحرم فأبى أن يقبله ← عَبْدَاللہِ بْنَ عُمَرَ ← الصلت بن حنين, ← الهيثم بن أبي الهيثم ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 360

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [12] بَابُ من عطب هديه في الطريق · حديث 361

361 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا منصور بن المعتمر, عن إبراهيم النخعي, عن خالته, عن عائشة أم المؤمنين رضي الله عنها #353# قال: سألتها عن الهدي إذا عطب في الطريق كيف يصنع به؟ قالت أكله أحب إلي من تركه للسباع. وقال أبو حنيفة: فإن كان واجبا فاصنع به ما أحببت, وعليك مكانه, وإن كان تطوعا فتصدق به على الفقراء, فإن كان ذلك في مكان لا يوجد فيه الفقراء فانحره واغمس نعله في دمه, ثم اضرب به صفحته, ثم خل بينه وبين الناس يأكلون فإن أكلت منه شيئا فعليك مكان ما أكلت, وإن شئت صنعت به ما أحببت, وعليك مكانه. قال محمد وبهذا نأخذ, والله اعلم.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے منصور بن معتمر رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ حضرت ابراہیم نخعی رحمتہ اللہ علیہ سے وہ اپنے ماموں سے اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں ام المومنین سے قربانی کے اس جانور کے بارے میں پوچھا جو راستے میں عاجز ہو جاتے ہیں ( اور ہلاکت کے قریب ہو جائیں ) تو اس کے ساتھ کیا کیا جائے ؟ انہوں نے فرمایا اسے درندوں کے لئے چھوڑنے کی بجائے کھانا زیادہ پسند یدہ ہے۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اگر وہ واجب ( قربانی ) ہے تو تم جیسے چاہو کرو اور اس کی جگہ دوسرا جانورتم پر لازم ہوگا اور اگر نفلی ہوتو فقراء پر صدقہ کرو اگر وہ ایسی جگہ ہو جہاں فقراء نہ پائے جاتے ہوں تو اسے ذبح کر دو اور اس کی نعل (ہار وغیرہ ) کوخون میں غوطہ دو پھر اس کے ایک پہلو پر مارو اور اس کے بعد اسے لوگوں کے لئے چھوڑ دو وہ اسے کھائیں اگر تم اس سے کچھ بھی کھاؤ گے تو جس قدر کھایا ہے اس کا بدلہ دینا ہوگا اور اگر چاہو تو اپنی مرضی کا عمل کرو اور اس کی جگہ دوسرا جانور تم پر لازم ہو جائے گا ۔“ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں ۔“

الهدي إذا عطب في الطريق كيف يصنع به؟ ← سَأَلْتُهَا ← عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ ← خَالَتِهِ ← إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، ← مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 361

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [13] بَابُ ما يصلح للمحرم من اللباس والطيب · حديث 362

362 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن خارجة بن عبدالله قال: سألت سعيد بن المسيب عن الهميان يلبسه المحرم فقال: لا بأس به. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ خارجہ بن عبداللہ رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے ھمیانی کے بارے میں پوچھا جسے محرم پہنتا ہے انہوں نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں ۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← الْهِمْيَانِ يَلْبَسُهُ الْمُحْرِمُ، فَقَالَ: «لَا بَأْسَ بِهِ» ← سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ← خارجة بن عبدالله ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 362

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [13] بَابُ ما يصلح للمحرم من اللباس والطيب · حديث 363

363 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا عطاء بن السائب, عن كثير بن جمهان قال: بينما عبدالله بن عمر رضي الله عنهما في المسعى وعليه ثوبان لون الهروي, إذ عرض له رجل فقال: أتلبس هذين المصبوغين وأنت محرم؟ قال: إنما صبغا بمدر. #355# قال محمد: وبه نأخذ لا نرى به بأسا, لأنه ليس بطيب ولا زعفران, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے حضرت عطاء بن سائب رحمتہ اللہ علیہ نے کثیر بن جمہان رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا وہ فرماتے میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سعی کے مقام پر تھے اوران پر ایسے دو کپڑے تھے جن کا رنگ ہروی تھا( زرد رنگ کے تھے جوہرات کے مقام کی طرف منسوب ہیں اور وہ خراسان کا ایک شہر ہے ) ایک شخص سامنے آیا اور اس نے کہا آپ یہ رنگ دار کپڑے پہنتے ہیں حالانکہ آپ محرم ہیں؟ فرمایا ہم نے سرخ مٹی سے رنگ لگایا ہے ۔ ‘‘ ( اس میں خوشبو نہیں ) حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں ہم اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے کیونکہ یہ خوشبو بھی نہیں اور زغفران بھی ‘ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔

إنما صبغا بمدر. ← أتلبس هذين المصبوغين وأنت محرم؟ ← عليه ثوبان لون الهروي, إذ عرض له رجل ← بينما عبدالله بن عمر في المسعى ← كَثِيرِ بْنِ جُمْهَان ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 363

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [13] بَابُ ما يصلح للمحرم من اللباس والطيب · حديث 364

364 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, قال: حدثنا إبراهيم بن محمد بن المنتشر, عن أبيه قال: سألت عبدالله بن عمر رضي الله عنهما أيتطيب الرجل وهو محرم؟ قال: لأن أصبح أنضح قطرانا أحب إلي من أن أصبح أنضح طيبا. قال محمد: وبه نأخذ, لا ينبغي للمحرم أن يتطيب بشيء من الطيب بعد الإحرام.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے ابراہیم بن محمد بن منتشر رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا وہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا سے محرم کے خوشبولگا نے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا مجھ سے تارکول کی بو آئے یہ اس سے بہتر ہے کہ مجھ سے خوشبو کی مہک آئے ۔ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں محرم کے لئے مناسب نہیں ( جائز نہیں ) کہ وہ احرام کے بعد کسی قسم کی خوشبو لگائے ۔ ‘‘

لأن أصبح أنضح قطرانا أحب إلي من أن أصبح أنضح طيبا. ← سألت عبدالله بن عمر أيتطيب الرجل وهو محرم؟ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 364

كتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشيباني · كتاب المناسكِ ‹ [14] بَابُ ما يقتل المحرم من الدواب · حديث 365

365 - محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا نافع, عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: يقتل المحرم: الفأرة, والحية, والكلب العقور, والحدأة, والعقرب. قال محمد: وبه نأخذ, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى, وما عدا عليك من السباع فقتلته فلا شيء عليك.

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فر ماتے ہیں ! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ فرماتے ہیں ہم سے نافع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں! محرم آدمی ‘ چوہے ‘ سانپ ‘ باؤلے کتے ‘ چیل اور بچھوکو مارسکتا ہے ۔ ‘‘ حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم اسی بات کو اختیار کر تے ہیں اور یہی حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے اور جو بھی درند ہ تم پر حملہ آور ہو اور تم اسے قتل کر دو تو تم پر کوئی حرج نہیں ۔ ‘‘

«يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ الْفَأْرَةَ وَالْحَيَّةَ وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ وَالْحِدَأَةَ وَالْعَقْرَبَ» ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Kitab Al Aasaar Al Shabani · Book › Chapter · Hadith 365

chevron_left Previous
1…242526…77
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter
2. Book
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter